اب وقت بہت ہے مختصر
Poet: محمد اطہر طاہر By: Athar Tahir, Haroonabadمیرے محترم میرے معتبر،
تمہیں ہے پتا؟ کوئی ہے خبر؟
کہ سانسیں کتنی قلیل ہیں،
کہ وقت ہے کتنا مختصر؟
پتھرا گئے کبھی برس گئے،
تیری دید کو دیدے ترس گئے،
نہ اناؤں کی ہی نہ بقا رہی،
نہ خودی کو خود کی رہی خبر،
میرے محترم میرے معتبر،
اب وقت بہت ہے مختصر،
اس مختصر سے وقت میں،
تو اپنی موج و مست میں،
میرا روم روم تیرے درد میں
میرا ہر لمحہ تیرا منتظر،
میرے محترم میرے معتبر،
اب وقت بہت ہے مختصر،
میں نظم و شعر کا کیا کروں،
میں سخن و ہنر کا کیا کروں،
جب تم کو غرض نہ واسطہ
ہوئے بے قدر میرے نظم و شعر
میرے کم سخن میرے بے ہنر،
اب وقت بہت ہے مختصر،
تیرے لوٹ آنے کی ہو خبر
میں شکستہ جاں تیری راہ پر
دیدہ و دل کو فرش کروں
میں جان و دِل کو کروں نذر
میرے محترم میرے معتبر
اب وقت بہت ہے مختصر
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






