Bohat Yaad Awo Gi
Poet: Sahil By: Sahil, RiyadhThi Wabastha Kuch Umeedain Tum Se
K Tum Hamay Kabi Na Bhool Paawo Gi
Jab Tak Udaas Thi, Hamay Yaad Rakka
Jab Khushi Milli Tho Kia Duur Jao Gi?
Tum Se Duur Rehna Majboori Thi Hamari
Na Khud Samji, Na Kisi Or Ko Samjao Gi
Be-Qarrai Mai Bi Bohat Intizar Kiya
Nahi Socha Tha Ithni Be-Rukhi Dikaao Gi
Kuch Tho Kehthi Mujse Ya Kisi Or Se
Sab Kho Diya, Abb Mujay Bi Ganwawo Gi
Teri Duuri Mai Bi Tera Khayal Aaya
Mudd Mudd K Dekha K Kab Tum Bulaao Gi
Sirf Dosti Nahi, Dil Se Dosti Ki Thi
Kithna Sathao Gi, Or Kithna Rulaao Gi?
Bohat Dhuk Hai Tumhay Kho Denay Ka
Kia Apnay Dil Se Hamay Nikaal Paawo Gi?
Teray Sath Guzray Harr Lamhay Ki Qasam
Bohat Yaad Awo Gi, Tum Bohat Yaad Awo Gi
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






