Poetries by Sobia Sajo
جب جاں پہ لب جاناں کی مہک اک بارش منظر ہو جائے جب جاں پہ لب جاناں کی مہک اک بارش منظر ہو جائے
ہم ہاتھ بڑھائیں اور اس میں مہتاب گُل تر ہو جائے
کب دل کا لڑکپن جائے گا ہر وقت یہی ہے ضد اس کی
مانگیں تو وہیں پر مل جائے سوچیں تو وہیں پر ہو جائے
اک عالم جاں وہ ہوتا ہے تخصیص نہیں جس میں کوئی
اس وقت ہماری بانہوں میں جو آئے وہ دلبر ہو جائے
آشوب محبت کا آنسو رکھتا ہے تلون فطرت میں
آنکھوں میں رہے تو قطرہ ہے ٹپکے تو سمندر ہو جائے
جتنا بھی سمیٹیں آنکھوں میں رہتا ھی نہیں کچھ یاد ہمیں
یا رب وہ طلسم عارض و لب اک روز تو ازبر ہو جائے
جمشید متاع حسن جہاں سب اہل نظر کا حصہ ہے
جو چاہے قلندر ہو جائے جو چاہے سکندر ہو جائے Sobia Sajo
ہم ہاتھ بڑھائیں اور اس میں مہتاب گُل تر ہو جائے
کب دل کا لڑکپن جائے گا ہر وقت یہی ہے ضد اس کی
مانگیں تو وہیں پر مل جائے سوچیں تو وہیں پر ہو جائے
اک عالم جاں وہ ہوتا ہے تخصیص نہیں جس میں کوئی
اس وقت ہماری بانہوں میں جو آئے وہ دلبر ہو جائے
آشوب محبت کا آنسو رکھتا ہے تلون فطرت میں
آنکھوں میں رہے تو قطرہ ہے ٹپکے تو سمندر ہو جائے
جتنا بھی سمیٹیں آنکھوں میں رہتا ھی نہیں کچھ یاد ہمیں
یا رب وہ طلسم عارض و لب اک روز تو ازبر ہو جائے
جمشید متاع حسن جہاں سب اہل نظر کا حصہ ہے
جو چاہے قلندر ہو جائے جو چاہے سکندر ہو جائے Sobia Sajo
شوق کے شہر، تمنا کے ٹھکانے گزرے شوق کے شہر، تمنا کے ٹھکانے گزرے
رات پھر ذہن سے کچھ خواب پرانے گزرے
چاند جب جھیل میں اتر تو مناظر کی طرح
مجھ کو چھو کر تیرے بازو، تیرے شانے گزرے
جانے کس شخص کے بارے میں پریشان ہو تم
اب ہمیں خود کو بھلائے بھی زمانے گزرے
ہم تو ہر موڑ بچھا آئے تھے دامن اپنا
جانے کس راہ بہاروں کے خزانے گزرے
بجھنے لگتا ہے کسی شمع کے مانند وجود
جب تیری یاد ہواؤں کے بہانے گزرے
منظر شوق وہی ہے تو سفر کیسا تھا
ہم گزر آئے کہ جمشید زمانے گزرے Sobia Sajo
رات پھر ذہن سے کچھ خواب پرانے گزرے
چاند جب جھیل میں اتر تو مناظر کی طرح
مجھ کو چھو کر تیرے بازو، تیرے شانے گزرے
جانے کس شخص کے بارے میں پریشان ہو تم
اب ہمیں خود کو بھلائے بھی زمانے گزرے
ہم تو ہر موڑ بچھا آئے تھے دامن اپنا
جانے کس راہ بہاروں کے خزانے گزرے
بجھنے لگتا ہے کسی شمع کے مانند وجود
جب تیری یاد ہواؤں کے بہانے گزرے
منظر شوق وہی ہے تو سفر کیسا تھا
ہم گزر آئے کہ جمشید زمانے گزرے Sobia Sajo
تنہا ہر ایک رہ سے گزر جانا چاہیئے تنہا ہر ایک رہ سے گزر جانا چاہیئے
جیسے جیئے ہیں ویسے ہی مر جانا چاہیئے
جانے یہ دل کا درد کہاں تک ستائے گا
دریا چڑھے تو اس کو اُتر جانا چاہیئے
بُجھ کر وجود شعلہ سلگتا ہے کس لئے
میں راکھ ہوں تو مجھ کو بکھر جانا چاہیئے
آوارگی میں کب سے گزرتی ہے رات بھی
آخر کبھی تو شام کو گھر جانا چاہیئے
اے دوستوں کھڑے ہو میرے گرد کس لئے
کوئی بتاؤ مجھ کو کدھر جانا چاہیئے
ہر جلوہ جمال سے تنگ آ چکا ہے جی
اک روز زندگی سے بھی بھر جانا چاہیئے
جمشید سن رہے ہو سفر کی پکار کیا
طوفاں کو یوں نہ رہ میں ٹھہر جانا چاہیئے Sobia Sajo
جیسے جیئے ہیں ویسے ہی مر جانا چاہیئے
جانے یہ دل کا درد کہاں تک ستائے گا
دریا چڑھے تو اس کو اُتر جانا چاہیئے
بُجھ کر وجود شعلہ سلگتا ہے کس لئے
میں راکھ ہوں تو مجھ کو بکھر جانا چاہیئے
آوارگی میں کب سے گزرتی ہے رات بھی
آخر کبھی تو شام کو گھر جانا چاہیئے
اے دوستوں کھڑے ہو میرے گرد کس لئے
کوئی بتاؤ مجھ کو کدھر جانا چاہیئے
ہر جلوہ جمال سے تنگ آ چکا ہے جی
اک روز زندگی سے بھی بھر جانا چاہیئے
جمشید سن رہے ہو سفر کی پکار کیا
طوفاں کو یوں نہ رہ میں ٹھہر جانا چاہیئے Sobia Sajo
فیصلے کچھ پاؤں کی ٹھوکر سے منوائے گئے روح پر اندھے خلا کے سائے برسائے گئے
ہم ستاروں تک نظر کے ہاتھ پھیلائے گئے
زیست شرمندہ ہے اے جاں تیری یادوں سے مگر
فیصلے کچھ پاؤں کی ٹھوکر سے منوائے گئے
تو نشاط روح کی صورت نظر سے دور ہے
آج دل سمجھا کہ ہم بےکار تڑپائے گئے
جن میں تیرے نرم ہونٹوں کی نمی کی باس تھی
ان نگاہوں میں جہنم زار دہکائے گئے
اک تجھ ہی سے یہ گلہ ہوتا تو کوئی بات تھی
ہم یہاں ہر راہ پہ ایسے ہی ٹھکرائے گئے
ہم نے بھی جمشید رکھا اس طرح اپنا بھرم
اپنے دل کو عمر بھر باتوں سے بہلائے گئے Sobia Sajo
ہم ستاروں تک نظر کے ہاتھ پھیلائے گئے
زیست شرمندہ ہے اے جاں تیری یادوں سے مگر
فیصلے کچھ پاؤں کی ٹھوکر سے منوائے گئے
تو نشاط روح کی صورت نظر سے دور ہے
آج دل سمجھا کہ ہم بےکار تڑپائے گئے
جن میں تیرے نرم ہونٹوں کی نمی کی باس تھی
ان نگاہوں میں جہنم زار دہکائے گئے
اک تجھ ہی سے یہ گلہ ہوتا تو کوئی بات تھی
ہم یہاں ہر راہ پہ ایسے ہی ٹھکرائے گئے
ہم نے بھی جمشید رکھا اس طرح اپنا بھرم
اپنے دل کو عمر بھر باتوں سے بہلائے گئے Sobia Sajo
داغ شکست و نکبت تقدیر دیکھنا داغ شکست و نکبت تقدیر دیکھنا
تم بھی نہ میرے پاؤں کی زنجیر دیکھنا
تم بھی گھسیٹنا مجھے مٹی پہ منہ کے بل
تم بھی نہ میری عزت و توقیر دیکھنا
دل پر جو لوح عشق تھا اے یار کم نظر
کُچھ کر دیا ہے وقت نے تحریر دیکھنا
دن بھر خواب دیکھنا تری بزم وصال کے
شب درد دل کے روپ میں تعبیر دیکھنا
دن راستوں کے ساتھ بکھرنا گلی گلی
شب جاگ جاگ کر تیری تصویر دیکھنا
کرتا ہوں اک جواب نظر کا سوال میں
بڑھ کر نہ زندگی سے ہو تاخیر دیکھنا
جمشید نوجواں تھا عجب ہم کو یاد ہے
جس وقت دیکھنا اسے دلگیر دیکھنا Sobia Sajo
تم بھی نہ میرے پاؤں کی زنجیر دیکھنا
تم بھی گھسیٹنا مجھے مٹی پہ منہ کے بل
تم بھی نہ میری عزت و توقیر دیکھنا
دل پر جو لوح عشق تھا اے یار کم نظر
کُچھ کر دیا ہے وقت نے تحریر دیکھنا
دن بھر خواب دیکھنا تری بزم وصال کے
شب درد دل کے روپ میں تعبیر دیکھنا
دن راستوں کے ساتھ بکھرنا گلی گلی
شب جاگ جاگ کر تیری تصویر دیکھنا
کرتا ہوں اک جواب نظر کا سوال میں
بڑھ کر نہ زندگی سے ہو تاخیر دیکھنا
جمشید نوجواں تھا عجب ہم کو یاد ہے
جس وقت دیکھنا اسے دلگیر دیکھنا Sobia Sajo
یہ چارہ گر یہ چارہ گر تو یہاں ہر گلی میں ملتے ہیں
کوئ بتاو کہاں دل کے چاک سلتے ہیں
تیرے بدن کی صبا کس چمن میں چلتی ہے
کہاں پہ اب ترے ہونٹوں کے پھول کھلتے ہیں
وہ جن کے اشک بچھڑتے ہوئے نہیں تھمتے
ملیں بچھڑ کے تو کیوں بے رُخی سے ملتے ہیں
غلط گُمان نہ کر میری خُشک آنکھوں پر
سمندروں میں جزیرے ضرور ملتے ہیں
ہے رسمسی سی تیری یاد میں فضائے خیال
کہ جیسے تیرگی شب میں پھول کھلتے ہیں
ملا ہے راہ میں ایسا فساد شیشہ و سنگ
رکوں تو پاؤں ہٹاؤں تو ہاتھ چھلتے ہیں Sobia Sajo
کوئ بتاو کہاں دل کے چاک سلتے ہیں
تیرے بدن کی صبا کس چمن میں چلتی ہے
کہاں پہ اب ترے ہونٹوں کے پھول کھلتے ہیں
وہ جن کے اشک بچھڑتے ہوئے نہیں تھمتے
ملیں بچھڑ کے تو کیوں بے رُخی سے ملتے ہیں
غلط گُمان نہ کر میری خُشک آنکھوں پر
سمندروں میں جزیرے ضرور ملتے ہیں
ہے رسمسی سی تیری یاد میں فضائے خیال
کہ جیسے تیرگی شب میں پھول کھلتے ہیں
ملا ہے راہ میں ایسا فساد شیشہ و سنگ
رکوں تو پاؤں ہٹاؤں تو ہاتھ چھلتے ہیں Sobia Sajo