فیصلے کچھ پاؤں کی ٹھوکر سے منوائے گئے
Poet: Jamshed Masroor By: Sobia Sajo, OSLOروح پر اندھے خلا کے سائے برسائے گئے
ہم ستاروں تک نظر کے ہاتھ پھیلائے گئے
زیست شرمندہ ہے اے جاں تیری یادوں سے مگر
فیصلے کچھ پاؤں کی ٹھوکر سے منوائے گئے
تو نشاط روح کی صورت نظر سے دور ہے
آج دل سمجھا کہ ہم بےکار تڑپائے گئے
جن میں تیرے نرم ہونٹوں کی نمی کی باس تھی
ان نگاہوں میں جہنم زار دہکائے گئے
اک تجھ ہی سے یہ گلہ ہوتا تو کوئی بات تھی
ہم یہاں ہر راہ پہ ایسے ہی ٹھکرائے گئے
ہم نے بھی جمشید رکھا اس طرح اپنا بھرم
اپنے دل کو عمر بھر باتوں سے بہلائے گئے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






