Poetries by Dr.Ghulam Shabbir Rana
تاریخ کی عدالت کبھی تو تاریخ کی عدالت میں
تم بھی آﺅ گے ہم بھی آئیں گے
حلف اٹھانے کی رسم سے بے نیاز لمحے
تمام مفلوج عدل گاہوں کی مصلحت کیش بے زبانی
لہو فروشی کے کل دلائل
دفاتر منصفی پہ تحریر کر رہے ہیں
کبھی تو تاریخ کی عدالت میں
تم بھی آﺅ گے ہم بھی آئیں گے
تم اپنے سارے حلیف لانا
قصیدہ خوانوں کا مجمع بے ضمیر لانا
خمیدہ سر مصلحت پسندی کے زہر آلود تیر لانا
تم اپنی مانگی ہوئی شکستہ سی تیغ لانا
صلیب لانا
اذیتوں کے نصاب لانا
ہر ایک پشت بشر پہ تحریر وحشتوں کی لکیر لانا
کبھی تو تاریخ کی عدالت میں
تم بھی آﺅ گے ہم بھی آئیں گے
ہم اپنے ہمراہ زندہ لفظوں کے پھول لے کر
ہر ایک دامن کی دھجیوں کی دھنک میں پوشیدہ
زندگی کے اصول لے کر
ہزارہا سر کشیدہ کرنوں کا نور لے کر
ہم اپنی ان بیٹیوں کی مانگوں کا حسن لے کر
کہ جن کے سیندور کو کھرچ کر
تم آج بارود کی سرنگیں بچھا رہے ہو
ہم اپنی دھرتی کے ذرے ذرے میں شعلہ افشاں
جلال لے کر
ضرور آئیں گے
جلد آئیں گے
وہ دور اب دور تو نہیں ہے
کہ وقت جب منصفی کرے گا Dr. Ghulam Shabbir Rana
تم بھی آﺅ گے ہم بھی آئیں گے
حلف اٹھانے کی رسم سے بے نیاز لمحے
تمام مفلوج عدل گاہوں کی مصلحت کیش بے زبانی
لہو فروشی کے کل دلائل
دفاتر منصفی پہ تحریر کر رہے ہیں
کبھی تو تاریخ کی عدالت میں
تم بھی آﺅ گے ہم بھی آئیں گے
تم اپنے سارے حلیف لانا
قصیدہ خوانوں کا مجمع بے ضمیر لانا
خمیدہ سر مصلحت پسندی کے زہر آلود تیر لانا
تم اپنی مانگی ہوئی شکستہ سی تیغ لانا
صلیب لانا
اذیتوں کے نصاب لانا
ہر ایک پشت بشر پہ تحریر وحشتوں کی لکیر لانا
کبھی تو تاریخ کی عدالت میں
تم بھی آﺅ گے ہم بھی آئیں گے
ہم اپنے ہمراہ زندہ لفظوں کے پھول لے کر
ہر ایک دامن کی دھجیوں کی دھنک میں پوشیدہ
زندگی کے اصول لے کر
ہزارہا سر کشیدہ کرنوں کا نور لے کر
ہم اپنی ان بیٹیوں کی مانگوں کا حسن لے کر
کہ جن کے سیندور کو کھرچ کر
تم آج بارود کی سرنگیں بچھا رہے ہو
ہم اپنی دھرتی کے ذرے ذرے میں شعلہ افشاں
جلال لے کر
ضرور آئیں گے
جلد آئیں گے
وہ دور اب دور تو نہیں ہے
کہ وقت جب منصفی کرے گا Dr. Ghulam Shabbir Rana
پیماں شکن اے کوفی پیماں شکن
تم کہاں گئے
سیلِ زماں کے ایک تھپیڑ ے میں بہہ گئے
تمہارے جبر کے ایوان
ریت کے گھروندے تھے
تیرے قہر کے وہ فرمان
سائیں سائیں کر تے جنگل کا قانون بنے
ساتا روہن جو تیرے گرد دُم ہلاتے پھرتے تھے
اجلاف اور ارزال سارے گلچھرے اڑایا کرتے تھے
سفہا کی تو پانچوں گھی میں تھیں
بہتی گنگا میں ہا تھ دھو کر
سب کے سب قارون بنے
شباہت شمر کے دیوانے تونے
یہ کیسا اندھیر کیا
مکر کا جال بچھا کر تو نے
مجبوروں کو پھانس لیا
پھر قہر و غیظ کے عالم میں
مجبوروں کو ڈھیر کیا
مظلوموں نے تیرے عقوبت خانے میں آکر
کبھی نہ سکھ کا سانس لیا
بیگار کیمپ اور قحبہ خانہ چلانے والے وحشی تو نے
فطرت کی تعزیروں کو بھی نہ سمجھا
ہلاکو اور چنگیز کے مقلد تو نے
بے ثمر رتیں کر دیں مجبوروں کی امیدوں کو غارت کر کے
آنگن بے چراغ کر ڈالے
ان کے خون پسینے کی محنت اکارت چلی گئی
گھر سے بلا کر لوٹنے والے اے فرومایہ بقال
مظلوموں کی آنکھوں میں جھونک کے دھول
اے عطائی فلسفی تو بن بیٹھا کحال
تیری رعونت کے باعث تو جینا ہوا محال
تو دھرتی کا بوجھ بنا ہے
تیری شقاوت آمیز ناانصافی سے
ہر چہرہ ہے مغموم
تیری بد اعمالیوں کی ہے
چاروں جا نب دھوم
دیپک راگ الاپ رہا تھا وقت کا نیرو
جلتا دیکھ کے روم
سب لوگ دہائی دیتے ہیں
اے رحیم وکر یم رب عظیم
اب سن بھی لے فریاد
اس فرعون کی کسی بھی صورت
نہ اور بڑھا معیاد
ختم بھی ہو بیداد
کاٹھ کی گھو ڑی پر ہو سوار
یہ متفنی جلاد
مجموعہ اضداد
اس کی پیماں شکنی کی اب تو
ہر سو مچی ہے دھوم
امیدیں موہوم
اس کے سب لچھن مذموم
اس پیر فرتوت کے بعد
ہر چہر ہ ہےشاداں
ہیںخوشیوں کے ساماں
کوئی نہیں مغموم
ہیں فرحاں سب معصوم
Dr. Ghulam Shabbir Rana
تم کہاں گئے
سیلِ زماں کے ایک تھپیڑ ے میں بہہ گئے
تمہارے جبر کے ایوان
ریت کے گھروندے تھے
تیرے قہر کے وہ فرمان
سائیں سائیں کر تے جنگل کا قانون بنے
ساتا روہن جو تیرے گرد دُم ہلاتے پھرتے تھے
اجلاف اور ارزال سارے گلچھرے اڑایا کرتے تھے
سفہا کی تو پانچوں گھی میں تھیں
بہتی گنگا میں ہا تھ دھو کر
سب کے سب قارون بنے
شباہت شمر کے دیوانے تونے
یہ کیسا اندھیر کیا
مکر کا جال بچھا کر تو نے
مجبوروں کو پھانس لیا
پھر قہر و غیظ کے عالم میں
مجبوروں کو ڈھیر کیا
مظلوموں نے تیرے عقوبت خانے میں آکر
کبھی نہ سکھ کا سانس لیا
بیگار کیمپ اور قحبہ خانہ چلانے والے وحشی تو نے
فطرت کی تعزیروں کو بھی نہ سمجھا
ہلاکو اور چنگیز کے مقلد تو نے
بے ثمر رتیں کر دیں مجبوروں کی امیدوں کو غارت کر کے
آنگن بے چراغ کر ڈالے
ان کے خون پسینے کی محنت اکارت چلی گئی
گھر سے بلا کر لوٹنے والے اے فرومایہ بقال
مظلوموں کی آنکھوں میں جھونک کے دھول
اے عطائی فلسفی تو بن بیٹھا کحال
تیری رعونت کے باعث تو جینا ہوا محال
تو دھرتی کا بوجھ بنا ہے
تیری شقاوت آمیز ناانصافی سے
ہر چہرہ ہے مغموم
تیری بد اعمالیوں کی ہے
چاروں جا نب دھوم
دیپک راگ الاپ رہا تھا وقت کا نیرو
جلتا دیکھ کے روم
سب لوگ دہائی دیتے ہیں
اے رحیم وکر یم رب عظیم
اب سن بھی لے فریاد
اس فرعون کی کسی بھی صورت
نہ اور بڑھا معیاد
ختم بھی ہو بیداد
کاٹھ کی گھو ڑی پر ہو سوار
یہ متفنی جلاد
مجموعہ اضداد
اس کی پیماں شکنی کی اب تو
ہر سو مچی ہے دھوم
امیدیں موہوم
اس کے سب لچھن مذموم
اس پیر فرتوت کے بعد
ہر چہر ہ ہےشاداں
ہیںخوشیوں کے ساماں
کوئی نہیں مغموم
ہیں فرحاں سب معصوم
Dr. Ghulam Shabbir Rana
کھوٹے سکے نہ ہوں گے اب مطلوب کھوٹے سکے نہ ہوں گے اب مطلوب
چاہے جتنا کرو ہمیں معتوب
مجھ پہ احساں ہے میر ے یاروں کا
کرچی کرچی کیا میرا دل خوب
کوئی بھی قول کا نہیں راسخ
اب تصنع ہے ہر طرف مرغوب
بھر کے پوٹے چلے گئے پنچھی
گریہ کر اب اکیلے پن میں خوب
نام جس کا رہا تھا ورد زباں
بھول بیٹھا ہے تجھ کو وہ محبوب
وقت مفلس ٹلے گا بالآخر
نان شیریں نصیب ہو گا خوب
پل گئے مال کھا کے رشوت کا
جاہ و منصب سے جو ہوئے منسوب
زر کی خاطر جو آن بیچتا ہے
ذلتوں کا بنے گا وہ آشوب Dr.Ghulam Shabbir Rana
چاہے جتنا کرو ہمیں معتوب
مجھ پہ احساں ہے میر ے یاروں کا
کرچی کرچی کیا میرا دل خوب
کوئی بھی قول کا نہیں راسخ
اب تصنع ہے ہر طرف مرغوب
بھر کے پوٹے چلے گئے پنچھی
گریہ کر اب اکیلے پن میں خوب
نام جس کا رہا تھا ورد زباں
بھول بیٹھا ہے تجھ کو وہ محبوب
وقت مفلس ٹلے گا بالآخر
نان شیریں نصیب ہو گا خوب
پل گئے مال کھا کے رشوت کا
جاہ و منصب سے جو ہوئے منسوب
زر کی خاطر جو آن بیچتا ہے
ذلتوں کا بنے گا وہ آشوب Dr.Ghulam Shabbir Rana
درکار ہے مجھ کو تیری رحمت کا سہارا درکار ہے مجھ کو تیری رحمت کا سہارا
دل پر ہو میرے تیری محبت کا اجارہ
میں ان کو پکاروں گا مدد کے لیے جس دم
کشتی سر گرداب ہو اور دور کنا را
یہ دہر ہے اک قلزم ذخار کے مانند
رحمت سے تیری ہوتا ہے ساحل کا نظارہ
در پیش ہوئے جب کبھی آلام زمانہ
دے چھاؤں گھنیری مجھے وہ رب کا پیارا
جس دم ہو جدا روح میرے جسم سے شبیر
ہو سامنے آنکھوں کے مدینے کا نظارہ Dr.Ghulam Shabbir Rana
دل پر ہو میرے تیری محبت کا اجارہ
میں ان کو پکاروں گا مدد کے لیے جس دم
کشتی سر گرداب ہو اور دور کنا را
یہ دہر ہے اک قلزم ذخار کے مانند
رحمت سے تیری ہوتا ہے ساحل کا نظارہ
در پیش ہوئے جب کبھی آلام زمانہ
دے چھاؤں گھنیری مجھے وہ رب کا پیارا
جس دم ہو جدا روح میرے جسم سے شبیر
ہو سامنے آنکھوں کے مدینے کا نظارہ Dr.Ghulam Shabbir Rana
اب معلوم ہوا اپنوں کے ہیں جھوٹے لارے اب معلوم ہوا
مطلب کے ہیں رشتے سارے اب معلوم ہوا
جو منجدھار کی زد میں ہے اس ڈولتی کشتی کو
کوئی نہیں جو پار اتارے اب معلوم ہوا
کوئی نہ آ کر درد بٹائے مفلس لوگوں کا
ہر جانب ہیں کھوکھلے نعرے اب معلوم ہوا
رشتے توڑ کے جانے والے کبھی نہ واپس آئیں
تڑپ رہے ہیں ہجر کے مارے اب معلوم ہوا
پال لیے تقدیر کے ہاتھو کتنے روگ نئے
ہم نے سہے ہیں بوجھ یہ سارے اب معلوم ہوا Dr.Ghulam Shabbir Rana
مطلب کے ہیں رشتے سارے اب معلوم ہوا
جو منجدھار کی زد میں ہے اس ڈولتی کشتی کو
کوئی نہیں جو پار اتارے اب معلوم ہوا
کوئی نہ آ کر درد بٹائے مفلس لوگوں کا
ہر جانب ہیں کھوکھلے نعرے اب معلوم ہوا
رشتے توڑ کے جانے والے کبھی نہ واپس آئیں
تڑپ رہے ہیں ہجر کے مارے اب معلوم ہوا
پال لیے تقدیر کے ہاتھو کتنے روگ نئے
ہم نے سہے ہیں بوجھ یہ سارے اب معلوم ہوا Dr.Ghulam Shabbir Rana