تاریخ کی عدالت

Poet: Hassan Hamidi By: Dr. Ghulam Shabbir Rana, Jhang

کبھی تو تاریخ کی عدالت میں
تم بھی آﺅ گے ہم بھی آئیں گے

حلف اٹھانے کی رسم سے بے نیاز لمحے
تمام مفلوج عدل گاہوں کی مصلحت کیش بے زبانی
لہو فروشی کے کل دلائل
دفاتر منصفی پہ تحریر کر رہے ہیں
کبھی تو تاریخ کی عدالت میں
تم بھی آﺅ گے ہم بھی آئیں گے

تم اپنے سارے حلیف لانا
قصیدہ خوانوں کا مجمع بے ضمیر لانا
خمیدہ سر مصلحت پسندی کے زہر آلود تیر لانا
تم اپنی مانگی ہوئی شکستہ سی تیغ لانا
صلیب لانا
اذیتوں کے نصاب لانا
ہر ایک پشت بشر پہ تحریر وحشتوں کی لکیر لانا
کبھی تو تاریخ کی عدالت میں
تم بھی آﺅ گے ہم بھی آئیں گے

ہم اپنے ہمراہ زندہ لفظوں کے پھول لے کر
ہر ایک دامن کی دھجیوں کی دھنک میں پوشیدہ
زندگی کے اصول لے کر
ہزارہا سر کشیدہ کرنوں کا نور لے کر
ہم اپنی ان بیٹیوں کی مانگوں کا حسن لے کر
کہ جن کے سیندور کو کھرچ کر
تم آج بارود کی سرنگیں بچھا رہے ہو
ہم اپنی دھرتی کے ذرے ذرے میں شعلہ افشاں
جلال لے کر
ضرور آئیں گے
جلد آئیں گے
وہ دور اب دور تو نہیں ہے
کہ وقت جب منصفی کرے گا

Rate it:
Views: 723
18 Jun, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL