General Poetry, Shayari & Ghazals
General Poetry, Shayari & Ghazals Poetry allows readers to express their inner feelings with the help of beautiful poetry. General Poetry, Shayari & Ghazals shayari and ghazals is popular among people who love to read good poems. You can read 2 and 4 lines Poetry and download General Poetry, Shayari & Ghazals poetry images can easily share it with your loved ones including your friends and family members. Up till, several books have been written on General Poetry, Shayari & Ghazals Shayari. Urdu Ghazal readers have their own choice or preference and here you can read General Poetry, Shayari & Ghazals poetry in Urdu & English from different categories.
- LATEST POETRY
- اردو
دھڑکا ٹرمپ کا تھا بدلتے گرگٹی رنگ کا تھا
جزبہ ایران کا ایٹمی سب پہ بازی لے گیا
امید قدرت سے تھی ، دبدبہ عاصم دبنگ کا تھا
محنت ڈار کی تھی شہباز سرکار کی تھی
خزانہ خالی تھا اور آسرا دعاے ملنگ کا تھا
وقت آ گیا امن کا ، شکر ہے میرے خدا کا
ملک ِ پاکستان میں ، معاہدہ مسلم و فرنگ کا تھا
قائم رہے دائم رہے ہمارا ملک پاکستان رہے
گفتارٕ ہے ، نعمان ہے، پر نشہ چاے کی ترنگ کا تھا Noman Baqi Siddiqi
آیا ہوں بیعتوں کو میں انکار بیچ کر
مایوس اس قدر ہوا میداں میں ہار کر
جرنیل لوٹ آیا ہے تلوار بیچ کر
کیا ہے قدر زبان کی یہ اُن سے جانیے
روٹی کما رہے ہیں جو گفتار بیچ کر
اُس کو خبر ہی نہ تھی مکاں اس کا جل گیا
گھر کو پلٹ رہا تھا جو اخبار بیچ کر
گھاٹے کا سودا کر لیا ہے جانتے نہیں
جو تاج لے کے آئے ہیں دستار بیچ کر
ہم قافلے کی گرد کو تھامے کھڑے رہے
منزل پہ آ گئے ہیں وہ سالار بیچ کر
فرصت کے لمحے تجھ پہ گنوائے ہیں کس لیے
پچھتا رہا ہوں اپنے میں اتوار بیچ کر
بچوں کو دل کے ٹکڑے کھلاتے ہیں اصل میں
گھر کو چلا رہے ہیں جو اشعار بیچ کر
پختہ عزم ہے پہنچیں گے منزل پہ لازمی
پیدل ہی چل پڑے ہیں جو رہوار بیچ کر
Ahmad sajjad
یہ ہر مشکل کھڑی کو گردشِ افلاک مانیں گے
محبت ایسا جذبہ ہے جو ظاہر ہو ہی جاتا ہے
ہمیں تم سے محبت ہے یہ ہم بے باک مانیں گے
ذہانت کو پرکھنے کا عجب معیار قائم ہے ؟
جو مشہورِ زمانہ ہے اسے چالاک مانیں گے
بھنّور میں کود کر بچنا تعجب اس میں تھوڑی ہے
جو ان کی آنکھ میں کودے اسے تیراک مانیں گے
جو حالِ دل سمجھنے میں نہ ہو محتاج لفظوں کا
تو حامیؔ اس بشر کو صاحبِ ادراک مانیں گے
انہیں ہم مشورہ دیں گے بلا ہم کون ہوتے ہیں
جو اپنے دل کی نہ مانیں ہماری خاک مانیں گے
سردار حمادؔ منیر
بہت تڑپا ہوں پر تو ملنے نہ آیا
یہ دل بھی ہے کہتا ،نکل جاؤں گا میں
جو مجھ کو نہ محبوب میرا دکھایا
جھگڑنے لگا میں جو دل سے، یہ کہتا
میں تیرا نہیں اب ، ہوا میں پرایا
جو بھی عشق میں مبتلا ہے ہوا یار
اُسی کا ہی اس نے تماشا بنایا
کریں عشق ہم تو گنہگار ٹھہرے
کیا تو تُو نے بھی اے میرے خدایا
جو بھی عشق میں ڈوب جاتا تھا عاشق
اُسے موت نے آ گلے ہے لگایا
کہ مر جائے گا یہ اسدؔ بیٹھے بیٹھے
جو مجھ کو نہ دیدار اپنا کرایا M Asad ali
زباں شیریں ہو تو دلوں کو جیت لیتی ہے
اخلاق و کردار سے بنتی ہے پہچان یہاں
اخلاص سے بھری سیرت دلوں کو جیت لیتی ہے
تعلیم سکھاتی ہے جینے کے لاکھوں گر مگر
ماں کی اچھی تربیت دلوں کو جیت لیتی ہے
چرا کر آنکھ سے آنسو بخشے جو ہنسی لب کو
ہاں وہی انسانیت دلوں کو جیت لیتی ہے Hajra
ہر ذرے کی آنکھوں میں تیرا ہی گلستاں ہے
روشن ہیں تری خاطر یہ شمس و قمر ایسے
جیسے کہ کسی در پر اک شعلہِ لرزاں ہے
ظلمت کے سمندر میں تُو نور کا ساحل ہے
تقدیر کی کشتی کا تُو ہی تو نگہباں ہے
ہر سانس جو لیتے ہیں، مرہونِ کرم تیرے
ہر رگ میں جو جاری ہے، وہ تیرا ہی احساں ہے
تو رزق جو دیتا ہے کیڑوں کو بھی پتھر میں
جو حکمِ خدا سے روشن مہرِ درخشاں ہے
مومن کی اداؤں میں ، طائر کی زبانوں میں
بندوں کا مرے مولیٰ ! تو ہی تو قدرداں ہے
دے اِذنِ لقا تو اسدِؔ سوختہ جاں کو اب
کہ وہ میں مدینہ دیکھوں یہ مرا ارماں ہے M Asad ali
تو نے شو ر بے وجہ مچا ئی ہے
تو کہں مر گیا کو ئی او ر فکر کیا ہم کو
غلط سمجھے سبھی تیرے سگائی ہے
تیری سو چیں ہو ئی الٹی عجب ہے تو
تو کہں اپنے سو چیں تیری پرا ئی ہے
عذاب اُ ترے کہیں نہ ہم پہ خو ف ہے ا ب
ڈرو رب سے غلط تیری نمائی ہے
مرا سم غیر تو چھوڑ ، ان کا دفاع نہ کر
ہمی سب اک تو کیوں سوچیں پرائی ہے
غمِ دل خاکؔ طیبؔ کا بتائے کیا
ہیں اپنے پھر وجہ کیا ؟ کہ جد ا ئی ہے MUHAMMAD TAYYAB AWAIS KHAKH
کریں نہ کچھ غریب کے خم کو دیکھ کے تو
نہ کوئی اشک بہتا دیکھ کے غم ان کا
نہ کچھ تم کرتے ان کے نم کو دیکھ کے تو
کوئی تھا مے روٹی ، کوئی دعا کرتا
نہ ہو دکھ تم کو روزی کم کو دیکھ کے تو
نہ سایہ ہے نہ گھر ، دکھ عمر میں اس کی
نہ کھاتے غم دکھی کے دم کو دیکھ کے تو
غریب دکھ میں ہو تو ہنسے امیر اس پر
ہیں ہنستے کیوں غریب پر تم دیکھ کے تو
پریشاں خاکؔ طیبؔ حال مسلم پر
مدد نہ کرتے کیوں د م غم دیکھ کے تو
MUHAMMAD TAYYAB AWAIS KHAKH
Poetry brings peace, like a Christmas tree
Escape life's troubles, find solace and joy seed
Relieve sorrow, and heart's heavy burden, as you lead
Through verse, speak your heart's desire
And let your soul's deepest longings acquire
So write on, spreading positivity and delight
Poetry's message shines through endless light Sanjha Sanwal
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔ MAZHAR IQBAL GONDAL
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا MAZHAR IQBAL GONDAL
کسی سے خود کو مگر کم نہیں بنائیں گے
ہمارے عہد میں ہر سو محبتیں ہوں گی
خزاں کا ہم کوئی موسم نہیں بنائیں گے
ہم ایک نقشہ بنائیں گے سارے ملکوں کا
کسی بھی ملک کا پرچم نہیں بنائیں گے
ہم اپنے علم سے مرہم بنائیں گے لیکن
ہم اپنے علم سے ایٹم نہیں بنائیں گے
ہماری سانس کو عادت نہ ہونے لگ جائے
کبھی بھی ہم کوئی ہمدم نہیں بنائیں گے
کبھی نہ راستہ روکیں گے جانے والوں کا
کہیں پہ چشمۂِ زم زم نہیں بنائیں گے
کسی سے دور بھی رہ کر خوشی سے جی لیں گے
کسی کی زیست جہنم نہیں بنائیں گے Khurshid Hassan
جو دل کی صداؤں کی گہرائی ہے، وہی ہے۔
جو ہر گام پر ہے چراغِ نظر
مسافت میں رہتی جو بینائی ہے، وہی ہے۔
نہ پوچھو کہ کیسے وہ دل میں بسا ہے
کہ جذبوں کی ہر ایک رسوائی ہے، وہی ہے۔
کبھی ایک آہٹ، کبھی ایک خوشبو
یہ دنیا جو دل میں بس آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو خیالوں میں اکثر سنواروں
جو خوابوں میں چپکے سے آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو دعاؤں میں اکثر پکاروں
مرے لب پہ ہر دم جو آئی ہے، وہی ہے۔
نہ چاہا کسی اور کو اس طرح سے
محبت کی میری جو سچائی ہے، وہی ہے۔
کہا جس کو میں نے کبھی زندگی
وہی میری سب کچھ، خدائی ہے، وہی ہے۔
وہی روشنی ہے، وہی خواب سا ہے
مری ہر نگاہوں کی بینائی ہے، وہی ہے۔
سنو لوگو! جس نے مجھے جان بخشا
مرے دل میں مظہر جو چھائی ہے، وہی ہے۔ MAZHAR IQBAL GONDAL
جو سب کے واسطے جیتا ہے، خود قربان ہوتا ہے
اپنی خواہش، اپنی خوشی سب روند دیتا ہے
مگر آخر وہی سب کے لیے نقصان ہوتا ہے
کما کر لاتا ہے جو دن رات سب کے واسطے رزق
اسی کے نام پہ پھر طعنہ بھی آسان ہوتا ہے
جنہیں اس نے سنبھالا تھا سہارا دے کے ہر مشکل
وہی کہتے ہیں یہ بندہ بہت نادان ہوتا ہے
لٹائی جس نے اپنی عمر اور کمائی سب گھر پر
اسی کے حق میں ہر الزام بھی اعلان ہوتا ہے
یہاں رشتے نہیں رہتے، فقط مفہوم رہتا ہے
جہاں مطلب نکل جائے وہی ویران ہوتا ہے
مظہرؔ سچ کہہ دیا تو سب مخالفت میں آ بیٹھے
یہی انجام ہر سچے کا اس جہان ہوتا ہے MAZHAR IQBAL GONDAL
چراغِ حرف میں جلتی شتاب ہے جناب کی
نظر میں عکسِ تبسم، سخن میں رنگِ جمال
جو موجِ زیست میں آئی، شراب ہے جناب کی
ادب کی راہ میں روشن، خیال کی ہر لکیر
جو حرف حرف میں ڈھلتی نصاب ہے جناب کی
دعائیں بانٹنے والا، سکوت میں بھی جَواں
جو لب پہ آ کے رُکے وہ خطاب ہے جناب کی
کہاں سے آئے یہ خوشبو؟ کہاں سے یہ آئینہ؟
جو عکس بن کے چمکتی نقاب ہے جناب کی
وہ جس کے ذکر سے مہکے دلوں کا دَشت تُمام
جو دھڑکنوں میں اُترتی، وہ تاب ہے جناب کی
سخن کے رنگ میں ہر بات نرم ہو جیسے
جو دل پہ اُترے وہ نازک جواب ہے جناب کی
جو لوحِ وقت پہ مظہرؔ ہو نقش جیسے وَفا
وہ سَطر سَطر جو چمکے، کتاب ہے جناب کی MAZHAR IQBAL GONDAL
خون پربت کے کلیجے سے نکالا میں نے
تیشۂ دہر دو ہاتھوں میں سنبھالا میں نے
چرخِ بے پیر کو آغوش میں پالا میں نے
میں وہ بلبل ہوں جسے باغ میں آرام نہیں
آئی دریا میں روانی تو روانی مجھ سے
ہے سمندر میں اچھلتا ہوا پانی مجھ سے
سیکھ لی پتھروں نے آگ جلانی مجھ سے
جس نے سننی ہو سنے میری کہانی مجھ سے
میں وہ بلبل ہوں جسے باغ میں آرام نہیں
حرفِ آغاز ہوں میں، صاحبِ اعجاز ہوں میں
آفتِ ناز ہوں میں، شوخیٔ انداز ہوں میں
محرمِ راز ہوں ہم راز کا، خود راز ہوں میں
پہلی آواز ہوں میں، آخری آواز ہوں میں
میں وہ بلبل ہوں جسے باغ میں آرام نہیں
کشتیٔ زیست چلاتا رہا طوفانوں میں
نام کندہ ہے مرا خلد کے ایوانوں میں
گونجتی ہے مری آواز کئی کانوں میں
عقل والوں میں ہے چرچا کہیں دیوانوں میں
میں وہ بلبل ہوں جسے باغ میں آرام نہیں
کیوں نہ میں چیخ پڑوں اور دو عالم پھٹ جائیں
کیوں نہ تقدیر کے الجھے ہوئے بادل چھٹ جائیں
کیوں نہ بہتے ہوئے اوقات کے دھارے کٹ جائیں
کوہِ سینا پہ لپیٹے ہوئے پردے ہٹ جائیں
میں وہ بلبل ہوں جسے باغ میں آرام نہیں
خاکداں ارض و سماوات کا میں چھان چکا
بحث مت کر مرے حق پر، مرا نقصان چکا
اب وہی ہو گا مرے ساتھ جو میں ٹھان چکا
چال اے گردشِ دوراں میں تری جان چکا
میں وہ بلبل ہوں جسے باغ میں آرام نہیں
میں حقیقت ہوں، نہیں ہوں، مجھے الہام نہیں
میں یہاں کام سے آیا ہوں، یہاں کام نہیں
عام ہے قصہ مرا، قصہ مرا عام نہیں
بزم میں نام ہے، تنہاؔ ہوں میں، گمنام نہیں
میں وہ بلبل ہوں جسے باغ میں آرام نہیں Tanha Lyallpuri
ہر اِک عروج کے لیے آخر زَوال ہے
اَپنے کیے پہ اب تو ہمیں بھی مَلال ہے
توبہ کے دَر پہ جھکُنا ہی اب تو حال ہے
انساں کی کیا حقیقت و کیا اَب مَجال ہے
جس کے لبوں پہ ہر گھڑی بس یہ سَوال ہے
غافل نہ ہو تو وقت کی رَفتار دیکھ کر
نیکی پہ اَجر ہے تو بَدی پر وَبال ہے
کتنے ہی لوگ چھوڑ گئے اِس جہان کو
اَب اُن کی یاد ہی تو ہمارا مَلال ہے
رَہتی یہ زندگی ہے فقط چند روز کی
اِس کی قدر نہ کرنا تو بڑا مُحال ہے
سچے دلوں میں رَب کی محبت کا نور ہو
نیکی کی راہ چلنا ہی اَب تو جَمال ہے
مظہرؔ یہ زندگی ہے امانت خُدا کی اب
اِس کی حفاظت کرنا ہی اَب تو کَمال ہے MAZHAR IQBAL GONDAL
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں MAZHAR IQBAL GONDAL
General Poetry in Urdu
User Reviews
Life is a journey with moments that shine bright, Each day brings new hopes, as dark fades to light. We stumble, we rise, through joy and through strife, But every step we take adds meaning to life.
- Sheeza , Karachi
This page has a diverse collection of poems on various topics, making it a good place for readers with broad interests in poetry.
- Kamran , Islamabad
Labor Day poetry often celebrates the hard work, struggles, and triumphs of the labor movement. Many poems focus on the dignity of work, the importance of worker solidarity, and the need for justice in the workplace
- Shahzaib , Karachi



