Poetries by Humaira
دسترس بڑا مان تھا کہ دونوں جہاں ہیں دسترس میں
جھانک کر دیکھا تو اپنی ذات بھی پرائی تھی
بارہا گرے،بارہا سنبھلے، مگر اب کی بار نہ سنبھل سکے
کہیں کیسے، چوٹ بھی تو اپنوں سے گہری کھائی تھی
وہ ہمنشییں چاند، جگنو، نہ جانے کیا کیا تھا نظر میں
ہر نظم،اسی خوبرو کے لیے تو ہم نے سنائی تھی
بنتے ہیں لوگ مجرم، گھر اجاڑنے پر، پھر ہم کیونکر ہوئے
ہم نے تو اس کے دل ویراں کی دنیا ہی بسائی تھی
خانہ خدا توڑا لوگوں نے، جب تو کوئی شور برپا نہ ہوا
آج اک مکان گرا تو، ہر طرف مچی کیسی دھائی تھی
عہدو پیماں ہوئے تھے جس کی گنگناہٹ میں
وہی غزل آج پھر محفل میں کس نے گنگنائی تھی
خیال تھا اس کا، مسکرانے سے غم بھاگ جاتے ہیں
آزمانے کے لیے پھر، ہم نے قہقوں کی دولت لٹائی تھی
رفوگر کیونکر چلے آئے آج ہمدردیاں بانٹنے
ہم نے تو ہر چوٹ بڑے سلیقے سے چھپائی تھی
سنا تھا! سب کچھ گنوا کر ہی ملتی ہے یہاں چاہت
پھر اسے پانے کے لیے کب ہم نے کوئی چیز بچائی تھی
Humaira
جھانک کر دیکھا تو اپنی ذات بھی پرائی تھی
بارہا گرے،بارہا سنبھلے، مگر اب کی بار نہ سنبھل سکے
کہیں کیسے، چوٹ بھی تو اپنوں سے گہری کھائی تھی
وہ ہمنشییں چاند، جگنو، نہ جانے کیا کیا تھا نظر میں
ہر نظم،اسی خوبرو کے لیے تو ہم نے سنائی تھی
بنتے ہیں لوگ مجرم، گھر اجاڑنے پر، پھر ہم کیونکر ہوئے
ہم نے تو اس کے دل ویراں کی دنیا ہی بسائی تھی
خانہ خدا توڑا لوگوں نے، جب تو کوئی شور برپا نہ ہوا
آج اک مکان گرا تو، ہر طرف مچی کیسی دھائی تھی
عہدو پیماں ہوئے تھے جس کی گنگناہٹ میں
وہی غزل آج پھر محفل میں کس نے گنگنائی تھی
خیال تھا اس کا، مسکرانے سے غم بھاگ جاتے ہیں
آزمانے کے لیے پھر، ہم نے قہقوں کی دولت لٹائی تھی
رفوگر کیونکر چلے آئے آج ہمدردیاں بانٹنے
ہم نے تو ہر چوٹ بڑے سلیقے سے چھپائی تھی
سنا تھا! سب کچھ گنوا کر ہی ملتی ہے یہاں چاہت
پھر اسے پانے کے لیے کب ہم نے کوئی چیز بچائی تھی
Humaira
اسے کھونے کی شکست بہت بڑی تھی اسے پانے کی منزل بہت کڑی تھی
زندگی کی ہر سانس گلو میں اڑی تھی
میرا دامن دل جس میں جل کر خاکستر ہوا
وہ تیری محبت کا ایک پھلجھڑی تھی
دوراھے پر کھڑا کر کہ کہے چن لو راستہ
کیسی عجیب وہ فیصلے کی اک گھڑی تھی
اک شور برپا تھا دعوؤں کا منزل کے واسطے
کٹھن راستے پر جو مڑ کر دیکھا، میں تنہا کھڑی تھی
دو قدم ساتھ چل کر تھک گئے چلنے والے
ایسا کیا ہوا!ابھی تو ساری زندگی پڑی تھی
وہ الگ بات کہ سخت جان تھے سو جی گئے
ویسے!اسے کھونے کی شکست بہت بڑی تھی Humaira
زندگی کی ہر سانس گلو میں اڑی تھی
میرا دامن دل جس میں جل کر خاکستر ہوا
وہ تیری محبت کا ایک پھلجھڑی تھی
دوراھے پر کھڑا کر کہ کہے چن لو راستہ
کیسی عجیب وہ فیصلے کی اک گھڑی تھی
اک شور برپا تھا دعوؤں کا منزل کے واسطے
کٹھن راستے پر جو مڑ کر دیکھا، میں تنہا کھڑی تھی
دو قدم ساتھ چل کر تھک گئے چلنے والے
ایسا کیا ہوا!ابھی تو ساری زندگی پڑی تھی
وہ الگ بات کہ سخت جان تھے سو جی گئے
ویسے!اسے کھونے کی شکست بہت بڑی تھی Humaira
آج تو! اس دل نے حوصلہ ہار دیا آج تو! اس دل نے حوصلہ ہار دیا، تھک کر
اورپھر! اسے پانے کی خواہش کو مار دیا تھک کر
حیات ہو اگر آبلہ پا بھی تو! گزر ہی جائے گی
تلخ حقیقت کا یہ زہر بھی اندر اتار لیا تھک کر
شاید ہم بھی تھے بنے! اس سے جدائی کا سبب
تلخ حقیقت کا یہ زھر بھی اندر اتار دیا تھک کر
وہ بن کر پیامبر! روشنی کا، اترا تھا میرے آنگن میں
دکھانا تھا جو اسے اندھیرا، چپکے سے اندر اتار لیا تھک کر
اے کاش! وہ لا زوال پل زندگی کے امر ہوجاتے یونہی
مگر! اپنی ننھی ننھی خواہشوں کو اب مار دیا تھک کر
اس نے کہا! یہ تو عادت ہے تمہاری بکھرے رہنے کی
سو! ہم نے ٹوٹے ہوئے دل کو بظاہر سنوار لیا تھک کر Humaira
اورپھر! اسے پانے کی خواہش کو مار دیا تھک کر
حیات ہو اگر آبلہ پا بھی تو! گزر ہی جائے گی
تلخ حقیقت کا یہ زہر بھی اندر اتار لیا تھک کر
شاید ہم بھی تھے بنے! اس سے جدائی کا سبب
تلخ حقیقت کا یہ زھر بھی اندر اتار دیا تھک کر
وہ بن کر پیامبر! روشنی کا، اترا تھا میرے آنگن میں
دکھانا تھا جو اسے اندھیرا، چپکے سے اندر اتار لیا تھک کر
اے کاش! وہ لا زوال پل زندگی کے امر ہوجاتے یونہی
مگر! اپنی ننھی ننھی خواہشوں کو اب مار دیا تھک کر
اس نے کہا! یہ تو عادت ہے تمہاری بکھرے رہنے کی
سو! ہم نے ٹوٹے ہوئے دل کو بظاہر سنوار لیا تھک کر Humaira
یہ زندگی کا احساس یہ زندگی ہونے کا احساس، صرف تم سے ہے
میری چاہت کی پپاس صرف تم سے ہے
لوگ کہیں شیریں گفتار، شیریں کلام مجھے
مگر میرے لہجے کی مٹھاس صرف تم سے ہے
پھول کلیاں سی بکھری ہیں چاروں اطراف میرے
پر ! میری زندگی کی بو باس صرف تم سے ہے
ہجوم دوستاں میں گھرے رہتے ہیں ہر وقت ہم
مگر! ہماری دوستی اک خاص صرف تم سے ہے
مت بھیجو پھول یہ تحفے کلیوں کے اب مجھے
کہ یہ دل اداس اب ! صرف تم سے ہے
یہ زندگی ہونے کا احساس صرف تم سے ہے
میری چاہت کی پیاس صرف تم سے ہے Humaira Saqlain
میری چاہت کی پپاس صرف تم سے ہے
لوگ کہیں شیریں گفتار، شیریں کلام مجھے
مگر میرے لہجے کی مٹھاس صرف تم سے ہے
پھول کلیاں سی بکھری ہیں چاروں اطراف میرے
پر ! میری زندگی کی بو باس صرف تم سے ہے
ہجوم دوستاں میں گھرے رہتے ہیں ہر وقت ہم
مگر! ہماری دوستی اک خاص صرف تم سے ہے
مت بھیجو پھول یہ تحفے کلیوں کے اب مجھے
کہ یہ دل اداس اب ! صرف تم سے ہے
یہ زندگی ہونے کا احساس صرف تم سے ہے
میری چاہت کی پیاس صرف تم سے ہے Humaira Saqlain