اسے کھونے کی شکست بہت بڑی تھی
Poet: Humaira saqlain By: Humaira, torontoاسے پانے کی منزل بہت کڑی تھی
زندگی کی ہر سانس گلو میں اڑی تھی
میرا دامن دل جس میں جل کر خاکستر ہوا
وہ تیری محبت کا ایک پھلجھڑی تھی
دوراھے پر کھڑا کر کہ کہے چن لو راستہ
کیسی عجیب وہ فیصلے کی اک گھڑی تھی
اک شور برپا تھا دعوؤں کا منزل کے واسطے
کٹھن راستے پر جو مڑ کر دیکھا، میں تنہا کھڑی تھی
دو قدم ساتھ چل کر تھک گئے چلنے والے
ایسا کیا ہوا!ابھی تو ساری زندگی پڑی تھی
وہ الگ بات کہ سخت جان تھے سو جی گئے
ویسے!اسے کھونے کی شکست بہت بڑی تھی
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad







