Poetries by Ijaz Ahmed
بدلتے راشتے لہجے بھی بدل جاتے ہیں
رویے بھی بدل جاتے ہیں
برسوں سے جو چلے تھے پکڑ کر دامن جن
ہائے وہ لوگ بدل جاتے ہیں
راشتوں کی نزاکت کو تو خوب سمجھا اعجاز
نہ جانے کیوں سب نظریں ہی بدل جاتے ہیں
بدلتے موسم،بدلتی ہوائیں تو سنا میں نے
کیا خبر تھی کہ لوگ چہرے بھی بدل جاتے ہیں
کبھی محبت کا نام دے تو کبھی نفرت کا
ہر بار دھوکا دینے کے انداز بھی بدل جاتے ہیں
جب جانا ہی تھا سب نے ایک ہی منزل پر تو
کچھ دیر ساتھ چل کر راستے بھی بدل جاتے ہیں
اب نہ اُمید وفا رکھنا تم کسی سے میرے اپنوں
یہاں تو وفا کرنے کے تقاضے بھی بدل جاتے ہیں
مجھے غیروں نے لوٹا یہاں پیار کا دلاسہ دے کر
غیر تو غیر ،اپنے بھی بدل جاتے ہیں
جن کا ساتھ تھا کنارے پر
جب آئی منجدھار میں کشتی تو ارادے ہی بدل جاتے ہیں Ijaz Ahmed
رویے بھی بدل جاتے ہیں
برسوں سے جو چلے تھے پکڑ کر دامن جن
ہائے وہ لوگ بدل جاتے ہیں
راشتوں کی نزاکت کو تو خوب سمجھا اعجاز
نہ جانے کیوں سب نظریں ہی بدل جاتے ہیں
بدلتے موسم،بدلتی ہوائیں تو سنا میں نے
کیا خبر تھی کہ لوگ چہرے بھی بدل جاتے ہیں
کبھی محبت کا نام دے تو کبھی نفرت کا
ہر بار دھوکا دینے کے انداز بھی بدل جاتے ہیں
جب جانا ہی تھا سب نے ایک ہی منزل پر تو
کچھ دیر ساتھ چل کر راستے بھی بدل جاتے ہیں
اب نہ اُمید وفا رکھنا تم کسی سے میرے اپنوں
یہاں تو وفا کرنے کے تقاضے بھی بدل جاتے ہیں
مجھے غیروں نے لوٹا یہاں پیار کا دلاسہ دے کر
غیر تو غیر ،اپنے بھی بدل جاتے ہیں
جن کا ساتھ تھا کنارے پر
جب آئی منجدھار میں کشتی تو ارادے ہی بدل جاتے ہیں Ijaz Ahmed
میری یاد اسے بھی آتی تو ہو گی میری یاد اسے بھی آتی تو ہو گی
اسے دل ہی دل میں رولاتی تو ہو گی
بے خیالی میں ہی سہی خیالوں میں اکچر
وہ مجھے گیت بنا کر گنگناتی تو ہو گی
نام میرا اپنی ہتھیلی پر لکھ کر
وہ سکھیوں سے اپنی چھپاتی تو ہو گی
جب تنگ کرتی ہوں گی اسے سکھیاں
تو شرم سے منہ کو چھپاتی تو ہو گی
یاد جب بھی آتی ہو گی اسے سر شام
اپنے نازک رسیلے لبوں کو چباتی تو ہو گی
فقط میرا نام اپنی کتابوں میں لکھ کر
وہ غیروں کے ڈر سے مٹاتی تو ہو گی Ijaz Ahmed
اسے دل ہی دل میں رولاتی تو ہو گی
بے خیالی میں ہی سہی خیالوں میں اکچر
وہ مجھے گیت بنا کر گنگناتی تو ہو گی
نام میرا اپنی ہتھیلی پر لکھ کر
وہ سکھیوں سے اپنی چھپاتی تو ہو گی
جب تنگ کرتی ہوں گی اسے سکھیاں
تو شرم سے منہ کو چھپاتی تو ہو گی
یاد جب بھی آتی ہو گی اسے سر شام
اپنے نازک رسیلے لبوں کو چباتی تو ہو گی
فقط میرا نام اپنی کتابوں میں لکھ کر
وہ غیروں کے ڈر سے مٹاتی تو ہو گی Ijaz Ahmed
جب اپنے ہی رشتوں کی توقیر نہیں کرتے جب اپنے ہی رشتوں کی توقیر نہیں کرتے
ہم کوئی بھی غم ہو اسے تھریر نہیں کرتے
رویوں کا یہ تلخ پن دل توڑ کے رکھتا ہے
کرتے ہیں الفاظ وہ کام جو تیر نہیں کرتے
لکھتے ہیں وہی کچھ جو اس دل پے گزرتی ہے
پریوں کی کہانیاں ہم لکھا نہیں کرتے
اس چاند سے کہہ دو کہیں اور جا کے طلوع ہو
ہم ایسے حسن کی تجہید کیا نہیں کرتے
دو پل کی ہی زندگی جب مقدر ہے سب کا
یہ سوچ کر ہم خواہشوں کا محل تعمیر نہیں کرتے Ijaz Ahmed
ہم کوئی بھی غم ہو اسے تھریر نہیں کرتے
رویوں کا یہ تلخ پن دل توڑ کے رکھتا ہے
کرتے ہیں الفاظ وہ کام جو تیر نہیں کرتے
لکھتے ہیں وہی کچھ جو اس دل پے گزرتی ہے
پریوں کی کہانیاں ہم لکھا نہیں کرتے
اس چاند سے کہہ دو کہیں اور جا کے طلوع ہو
ہم ایسے حسن کی تجہید کیا نہیں کرتے
دو پل کی ہی زندگی جب مقدر ہے سب کا
یہ سوچ کر ہم خواہشوں کا محل تعمیر نہیں کرتے Ijaz Ahmed
ویلنٹائن اس بار اس نے کسی اور کے نام کا پھول زلفوں میں سجایا ہو گا
کر کہ ناز اپنی قسمت پے کسی کے دل کو آج چرایا ہو گا
وہ جو کہتا تھا کہ مر جائیں گے ہو کر اک پل بھی جدا تم سے
جینے پرنے کا عہد کسی اور کے ساتھ آج نبھایا ہو گا
کر کہ ریزہ ریزہ کسی نادان کے دل کو
آج کسی اور کے دل میں خواب جگایا ہو گا
فقط بکھرا کر اپنے سیاہ گیسوؤں کو سکی کے شانے پے
گیت پھر کوئی نیا آج اس نے گنگنایا ہو گا
میری امیدوں کو رسوا بھری محفل میں
کسیے آج اس نے دوسروں کی بانہوں میں ویلنٹائن منایا ہو گا Ijaz Ahmed
کر کہ ناز اپنی قسمت پے کسی کے دل کو آج چرایا ہو گا
وہ جو کہتا تھا کہ مر جائیں گے ہو کر اک پل بھی جدا تم سے
جینے پرنے کا عہد کسی اور کے ساتھ آج نبھایا ہو گا
کر کہ ریزہ ریزہ کسی نادان کے دل کو
آج کسی اور کے دل میں خواب جگایا ہو گا
فقط بکھرا کر اپنے سیاہ گیسوؤں کو سکی کے شانے پے
گیت پھر کوئی نیا آج اس نے گنگنایا ہو گا
میری امیدوں کو رسوا بھری محفل میں
کسیے آج اس نے دوسروں کی بانہوں میں ویلنٹائن منایا ہو گا Ijaz Ahmed
ویلنٹائن ڈے لوگ کہتے ہیں اسے تجدید محبت کا دن
ہم کہتے ہیں کہ یہ ہے خون محبت کا دن
کوئی پاتا ہے محبت اس دن
کوئی کھوتا ہے محبت اس دن
کچھ کو ملتی ہیں مرادیں اس دن
کچھ کی مٹتی ہیں امیدیں اس دن
کوئی کرتا ہے ناز اپنی لکیروں پے
کچھ کی مٹتی ہیں لکیریں اس دن
کچھ امیدوں کا محور پروان چڑھتا ہے
کچھ کی امیدیں بھنور کا ہوتی ہیں شکار اس دن
اعجاز کے دل کو بھی ملتی ہے تسکین اس دن
محبت کی کر ڈالی تھی تزلیل اس دن
لوگ کہتے ہیں اسے تجدید محبت کا دن
ہم کیتے ہیں اسے خون محبت کا دن Ijaz Ahmed
ہم کہتے ہیں کہ یہ ہے خون محبت کا دن
کوئی پاتا ہے محبت اس دن
کوئی کھوتا ہے محبت اس دن
کچھ کو ملتی ہیں مرادیں اس دن
کچھ کی مٹتی ہیں امیدیں اس دن
کوئی کرتا ہے ناز اپنی لکیروں پے
کچھ کی مٹتی ہیں لکیریں اس دن
کچھ امیدوں کا محور پروان چڑھتا ہے
کچھ کی امیدیں بھنور کا ہوتی ہیں شکار اس دن
اعجاز کے دل کو بھی ملتی ہے تسکین اس دن
محبت کی کر ڈالی تھی تزلیل اس دن
لوگ کہتے ہیں اسے تجدید محبت کا دن
ہم کیتے ہیں اسے خون محبت کا دن Ijaz Ahmed
بدلتے موسم اس آس پے بیٹھا ہوں کھلے آسمان کے نیچے
انتظار میں ہوں موسموں کے لوٹ آنے کے
سنا ہے موسم لوٹ آتے ہیں
وہ بھی تو بدلا تھا موسم کی طرح
شاید اب کہ بار لوٹ آئے وہ
اب کی بار جب وہ لوٹے گا موسموں کے ساتھ
پھر ہم بھی چل دیں گے موسموں کے ساتھ
جانے والے کب لوٹا کرتے ہیں
موسم تو پھر بھی لوٹ آیا کرتے ہیں Ijaz Ahmed
انتظار میں ہوں موسموں کے لوٹ آنے کے
سنا ہے موسم لوٹ آتے ہیں
وہ بھی تو بدلا تھا موسم کی طرح
شاید اب کہ بار لوٹ آئے وہ
اب کی بار جب وہ لوٹے گا موسموں کے ساتھ
پھر ہم بھی چل دیں گے موسموں کے ساتھ
جانے والے کب لوٹا کرتے ہیں
موسم تو پھر بھی لوٹ آیا کرتے ہیں Ijaz Ahmed
چلو روٹھو تم چلو روٹھو تم مجھ سے میں تم کو مناتا ہوں
تم اظہار وفا کرو میں اسے آگے بڑھاتا ہوں
بہت دن ہو گئے تاروں سے باتیں کرتے
تم گاؤ کوئی گیت نیا میں تم پے غزل گینگناتا ہوں
ابھی تو ہے آغاز سفر اور جذبات ھیں مدھم سے
چلو اب مان جاؤ میں تم سے روٹھ جاتا ہوں
مجھے تھام لو اپنی بانہوں میں اور کوئی ضد نئ کر دو
چلو تھامو تم میرا ہاتھ میں واپس لوٹ آتا ہوں
اور بھی ہیں بہت سے آزمانے کے ہنر باقی
رکھو تم سینے پے سر میں تمھیں دھڑکنیں سناتا ہوں
بہت وقت ہوا خاموش محبت کو نبھاتے ہوے اعجاز
مجھے تم سے محبت ہے میں کہنا بھول جاتا ہوں Ijaz Ahmed
تم اظہار وفا کرو میں اسے آگے بڑھاتا ہوں
بہت دن ہو گئے تاروں سے باتیں کرتے
تم گاؤ کوئی گیت نیا میں تم پے غزل گینگناتا ہوں
ابھی تو ہے آغاز سفر اور جذبات ھیں مدھم سے
چلو اب مان جاؤ میں تم سے روٹھ جاتا ہوں
مجھے تھام لو اپنی بانہوں میں اور کوئی ضد نئ کر دو
چلو تھامو تم میرا ہاتھ میں واپس لوٹ آتا ہوں
اور بھی ہیں بہت سے آزمانے کے ہنر باقی
رکھو تم سینے پے سر میں تمھیں دھڑکنیں سناتا ہوں
بہت وقت ہوا خاموش محبت کو نبھاتے ہوے اعجاز
مجھے تم سے محبت ہے میں کہنا بھول جاتا ہوں Ijaz Ahmed
Es December Say Keh Do Es December Say Keh Do Ub Guzar B Jaye
Ub Hum Say Aur Roya Ni Jata
Bhot Kho Diya Khushion Ko Panay Khowish Main
Jo Baqi Hai Wo Ub Khoya Ni Jata
Chaha To Jaan Say Burh Kr Tha Hum Nay
Phir Kyon Woh Hum Say Paya Ni Jata
Gya Tha To Apnay Sath Lay Jata Saray Ghum
K Ub Hum Say Ye Bojh Uthaya Ni Jata
Wo To Nikla December Ki Tarha Bewafa Ijaz
Aur Tou Hai K Tujh Say Mosam Ki Tarha Bdla Ni Jata ijaz ahmed
Ub Hum Say Aur Roya Ni Jata
Bhot Kho Diya Khushion Ko Panay Khowish Main
Jo Baqi Hai Wo Ub Khoya Ni Jata
Chaha To Jaan Say Burh Kr Tha Hum Nay
Phir Kyon Woh Hum Say Paya Ni Jata
Gya Tha To Apnay Sath Lay Jata Saray Ghum
K Ub Hum Say Ye Bojh Uthaya Ni Jata
Wo To Nikla December Ki Tarha Bewafa Ijaz
Aur Tou Hai K Tujh Say Mosam Ki Tarha Bdla Ni Jata ijaz ahmed
میں تیری جھیل سی آنکھوں میں ڈوبنا چاہتا ہوں میں تیری جھیل سی آنکھوں میں ڈوبنا چاہتا ہوں
مجھے نہ روکو میں اسی سمندر میں اترنا چاہتا ہوں
نہیں ہے پیار یہ کہہ کر مُکھ موڑ لیا ہم سے
میں تو تیرے پیار میں جینا مرنا چاہتا ہوں
میں تیری زلفوں میں الجھنے کی خاطر جاناں
دنیا سے ساری اُلجھنا چاہتا ہوں
نہ سمیٹے کوئی آکر ریزہ ریزہ دل کو
میں اسی روگ میں خود ہی بکھرنا چاہتا ہوں
آؤ آکر مجھے اپنے غم سے آزاد کر دو
میں اب تیرے عشق میں سنورنا چاہتا ہوں Ijaz Ahmed
مجھے نہ روکو میں اسی سمندر میں اترنا چاہتا ہوں
نہیں ہے پیار یہ کہہ کر مُکھ موڑ لیا ہم سے
میں تو تیرے پیار میں جینا مرنا چاہتا ہوں
میں تیری زلفوں میں الجھنے کی خاطر جاناں
دنیا سے ساری اُلجھنا چاہتا ہوں
نہ سمیٹے کوئی آکر ریزہ ریزہ دل کو
میں اسی روگ میں خود ہی بکھرنا چاہتا ہوں
آؤ آکر مجھے اپنے غم سے آزاد کر دو
میں اب تیرے عشق میں سنورنا چاہتا ہوں Ijaz Ahmed
شام کے ڈھلتے سائے شام کے ڈھلتے سائے
سورج غروب ہوتا ہے
جب شب نے روپ سنوارا ہوتا ہے
اور پانی میں مہتاب اتارا ہوتا ہے
جب بھی تیرے لبوں پر خوشیوں کے پھول کھلتے ہیں
تو ان آنکھوں میں اک ستارا ہوتا ہے
اب تو پھولوں کی خوشبو
ماتم کرتی محسوس ہوتی ہے
لگتا ہے رگوں میں زہر اتارا ہوتا ہے
میں جب بھی روشنیوں سے لفظ لکھنا چاہتا ہوں
دیکھتا ہوں تو صرف نام تمہارا ہوتا ہے Ijaz Ahmed
سورج غروب ہوتا ہے
جب شب نے روپ سنوارا ہوتا ہے
اور پانی میں مہتاب اتارا ہوتا ہے
جب بھی تیرے لبوں پر خوشیوں کے پھول کھلتے ہیں
تو ان آنکھوں میں اک ستارا ہوتا ہے
اب تو پھولوں کی خوشبو
ماتم کرتی محسوس ہوتی ہے
لگتا ہے رگوں میں زہر اتارا ہوتا ہے
میں جب بھی روشنیوں سے لفظ لکھنا چاہتا ہوں
دیکھتا ہوں تو صرف نام تمہارا ہوتا ہے Ijaz Ahmed
کس قدر تھا نا مخلص کس قدر تھا نا مخلص وہ میری سادگی کے ساتھ
اتنا بڑا فریب میری زندگی کے ساتھ
شاید ملی سزا میری ہی خطا کی مجھے
کہ تھا مجھے پیار اک اجنبی کہ ساتھ
دیتا رہا وہ دکھ مجھے کس بے رخی کے ساتھ
اتنا بُرا سلوک میری مخلصی کے ساتھ
وہ تو تھا نئی منزلوں کی تلاش میں
مجھے چھوڑ گیا وہ میرے غموں کے ساتھ
کیوں نہیں مٹاتا آ کر نشان اپنی یادوں کے اعجاز
شب و روز جیتا مرتا ہوں اس کی یادوں کے ساتھ Ijaz Ahmed
اتنا بڑا فریب میری زندگی کے ساتھ
شاید ملی سزا میری ہی خطا کی مجھے
کہ تھا مجھے پیار اک اجنبی کہ ساتھ
دیتا رہا وہ دکھ مجھے کس بے رخی کے ساتھ
اتنا بُرا سلوک میری مخلصی کے ساتھ
وہ تو تھا نئی منزلوں کی تلاش میں
مجھے چھوڑ گیا وہ میرے غموں کے ساتھ
کیوں نہیں مٹاتا آ کر نشان اپنی یادوں کے اعجاز
شب و روز جیتا مرتا ہوں اس کی یادوں کے ساتھ Ijaz Ahmed
مجھے ڈوبنے دو مجھے کناروں کی کب تمنا ہوئی
اور تمہیں ہے جاناں دریا کے پار جانا
تو ایک بات مانو جاناں
مجھے اپنا شریک سفر کر لو
کہ میرا کیا ہے
مگر سوچو کہ آج دریا میں بہت طغیانی ہے
بپھرتی موجوں کی سرخ لہریں بتا رہی ہیں
خراج مانگے گا تم سے دریا بھی
تو ایسا کر لو جاناں
مجھے شریک سفر کر لو
خراج مانگے جب تم سے دریا
مجھے اس کے بھنور میں اتار جانا
کیونکہ تیرا ضروری ہے دریا کے پار جانا
مجھے جاناں کناروں کی کب تمنا ہوئی
اور تمہیں تو ہے دریا کے پار جانا Ijaz Ahmed
اور تمہیں ہے جاناں دریا کے پار جانا
تو ایک بات مانو جاناں
مجھے اپنا شریک سفر کر لو
کہ میرا کیا ہے
مگر سوچو کہ آج دریا میں بہت طغیانی ہے
بپھرتی موجوں کی سرخ لہریں بتا رہی ہیں
خراج مانگے گا تم سے دریا بھی
تو ایسا کر لو جاناں
مجھے شریک سفر کر لو
خراج مانگے جب تم سے دریا
مجھے اس کے بھنور میں اتار جانا
کیونکہ تیرا ضروری ہے دریا کے پار جانا
مجھے جاناں کناروں کی کب تمنا ہوئی
اور تمہیں تو ہے دریا کے پار جانا Ijaz Ahmed
کس قدر آساں ہے اس کے لیے کس قدر آساں ہے اس کے لیے
کسی کو اپنی ذات سے وابستہ کر کے
اپنے نام کی پہچان بھی چھین لینا
دیکھو جا کر اس سے کہو
یوں تو نہ رشتوں کو بے نام کرے
وہ کہ جس نے آباد کیے تھے
کسی کی یاد سے من آنگن کے دریچے
اس سے کہو یوں تو نا چاہت کا یہ انجام کرے
گر توڑنا ہی تھا خلوص کا ہر رشتہ
تو چپکے سے آ کر یہ کہہ دے
کہ ہم تو کسی اور کے ہوئے بیٹھے ہیں
دیکھو جا کر اس سے کہو گر توڑنا ہی تھا اس چاہت کو
تو اس بے نام سے بندھن کو یہ نام ہی کیوں دیا
دیکھو جا کر اس سے کہو Ijaz Ahmed
کسی کو اپنی ذات سے وابستہ کر کے
اپنے نام کی پہچان بھی چھین لینا
دیکھو جا کر اس سے کہو
یوں تو نہ رشتوں کو بے نام کرے
وہ کہ جس نے آباد کیے تھے
کسی کی یاد سے من آنگن کے دریچے
اس سے کہو یوں تو نا چاہت کا یہ انجام کرے
گر توڑنا ہی تھا خلوص کا ہر رشتہ
تو چپکے سے آ کر یہ کہہ دے
کہ ہم تو کسی اور کے ہوئے بیٹھے ہیں
دیکھو جا کر اس سے کہو گر توڑنا ہی تھا اس چاہت کو
تو اس بے نام سے بندھن کو یہ نام ہی کیوں دیا
دیکھو جا کر اس سے کہو Ijaz Ahmed
میری دنیا ہے اشکوں میں ڈوبی ہوئی میری دنیا ہے اشکوں میں ڈوبی ہوئی
میری آنکھیں نظاروں کے قابل نہیں
میری کشتی کو طوفاں نے بوسے دئیے
بولی موج طلاطم مجھے دیکھ کر
تیری تقدیر میں ہیں بھنور ہی بھنور
تیری کشتی کناروں کے قابل نہیں
ہم کو جان ہی ہے اور جائیں گے ہم
اپنی دنیا نئی اک بسائیں گے ہم
میں نے دیکھا ہے شہر حسیں آپ کا
ہم دل جلوں دل فگاروں کے قابل نہیں
ان کی دنیا حسیں آپ بھی وہ حسیں
ان کے آنگن مین مہتاب اترے ہوئے
میری چھوٹی سی آہوں بھری جھونپڑی
چاند جیسے پیاروں کے قابل نہیں
اس نے محفل سے اٹھا مجھ کو اٹھا کر یہ کہا
میرا پیچھا خدا کے لیے چھوڑ دے
میری محفل میں پھر نا آنا کبھی
یہ محبت کے ماروں کے قابل نہیں
اب تو دعا میں تاثیر ہے
میں نے مانگی خوشی اس نے غم دے دئیے Ijaz Ahmed
میری آنکھیں نظاروں کے قابل نہیں
میری کشتی کو طوفاں نے بوسے دئیے
بولی موج طلاطم مجھے دیکھ کر
تیری تقدیر میں ہیں بھنور ہی بھنور
تیری کشتی کناروں کے قابل نہیں
ہم کو جان ہی ہے اور جائیں گے ہم
اپنی دنیا نئی اک بسائیں گے ہم
میں نے دیکھا ہے شہر حسیں آپ کا
ہم دل جلوں دل فگاروں کے قابل نہیں
ان کی دنیا حسیں آپ بھی وہ حسیں
ان کے آنگن مین مہتاب اترے ہوئے
میری چھوٹی سی آہوں بھری جھونپڑی
چاند جیسے پیاروں کے قابل نہیں
اس نے محفل سے اٹھا مجھ کو اٹھا کر یہ کہا
میرا پیچھا خدا کے لیے چھوڑ دے
میری محفل میں پھر نا آنا کبھی
یہ محبت کے ماروں کے قابل نہیں
اب تو دعا میں تاثیر ہے
میں نے مانگی خوشی اس نے غم دے دئیے Ijaz Ahmed
Meri Sooch Tujh Se Hai Meri Sooch Mere Alfaz Hain Tujh Se Wabsta
Meri Tou Zaat Ka Har Rang Tujh Se Wabsta
Laboon Per Jo Khele The Phool Khushion Ke Sub Tere The
Aaj Hain En Ankhoon Main Aanso Bhi Tujh Se Wabsta
Hum Kahin Bhi Rahen Paas Tere Hi Pohnchen Ge
Meri Har Rah K Raste Hain Tujh Se Wabsta
Tou Meri Rooh Main Aese Samaya Hai
K Ub Tou Har Sans Ka Rishta Hai Tujh Se Wabsta
Khutam Ker Deye Tou Ne The Baqi Jetne Bhi Nasaab
Meri Zindgi Ka Har Nasaab Hai Ub Tujh Se Wabsta Ijaz Ahmed
Meri Tou Zaat Ka Har Rang Tujh Se Wabsta
Laboon Per Jo Khele The Phool Khushion Ke Sub Tere The
Aaj Hain En Ankhoon Main Aanso Bhi Tujh Se Wabsta
Hum Kahin Bhi Rahen Paas Tere Hi Pohnchen Ge
Meri Har Rah K Raste Hain Tujh Se Wabsta
Tou Meri Rooh Main Aese Samaya Hai
K Ub Tou Har Sans Ka Rishta Hai Tujh Se Wabsta
Khutam Ker Deye Tou Ne The Baqi Jetne Bhi Nasaab
Meri Zindgi Ka Har Nasaab Hai Ub Tujh Se Wabsta Ijaz Ahmed
وہ ترک تعلق کا اشارہ نہیں کرتے وہ ترک تعلق کا ا شارہ نہیں کرتے
ہر بات بھی اب ہم سے گوارہ نہیں کرتے
ہم جن کو بسا لیتے ہیں اک بار نظر میں
پھر ان کو کبھی دل سے اتارا نہیں کرتے
اپنے لیے بس اک محبت ہی کافی ہے
ہم کوئی بھی غلطی ہو دوبارہ نہیں کرتے
آنکھوں میں سجا رکھتے ہیں سب خواب سہانے
اپنوں سے بھی ذکر تمہارا نہیں کرتے
شاید وہ کبھی آئیں آ کر سنبھالیں ہم کو
اس آس پر ہم خود کو سنبھالا نہیں کرتے
جو دوست نظر آتے ہیں باطن میں ہیں دشمن
ہم جانتے ہیں پھر بھی کنارا نہیں کرتے
حد سے گزرنا پڑے راہ وفا میں اعجاز
ہم اپنوں کو ایسے آزمایا نہیں کرتے Ijaz Ahmed
ہر بات بھی اب ہم سے گوارہ نہیں کرتے
ہم جن کو بسا لیتے ہیں اک بار نظر میں
پھر ان کو کبھی دل سے اتارا نہیں کرتے
اپنے لیے بس اک محبت ہی کافی ہے
ہم کوئی بھی غلطی ہو دوبارہ نہیں کرتے
آنکھوں میں سجا رکھتے ہیں سب خواب سہانے
اپنوں سے بھی ذکر تمہارا نہیں کرتے
شاید وہ کبھی آئیں آ کر سنبھالیں ہم کو
اس آس پر ہم خود کو سنبھالا نہیں کرتے
جو دوست نظر آتے ہیں باطن میں ہیں دشمن
ہم جانتے ہیں پھر بھی کنارا نہیں کرتے
حد سے گزرنا پڑے راہ وفا میں اعجاز
ہم اپنوں کو ایسے آزمایا نہیں کرتے Ijaz Ahmed
Kaam Kaaj Or Mizaj Kesa Hai Kaam Kaaj Or Mizaj Kesa Hai
Kal Tou Kal Bteo Aaj Kaisa Hai
Hmary Sher Main Hain Mohubat K Dushman
Tumhare Sher Main Bteo Rewaj Kaisa Hai
Us Ki Awaz Sun Loon Tou Milta Hai Skon-E-Dill
Mere Ghum Ka Dekho Ilaj Kaisa Hai
Us Ki Methi Baten Bhul Skta Nahien Kabhi
Mohsin Tere Awaz Ka Mohtaj Kaisa Hai
Ijaz Ahmed
Kal Tou Kal Bteo Aaj Kaisa Hai
Hmary Sher Main Hain Mohubat K Dushman
Tumhare Sher Main Bteo Rewaj Kaisa Hai
Us Ki Awaz Sun Loon Tou Milta Hai Skon-E-Dill
Mere Ghum Ka Dekho Ilaj Kaisa Hai
Us Ki Methi Baten Bhul Skta Nahien Kabhi
Mohsin Tere Awaz Ka Mohtaj Kaisa Hai
Ijaz Ahmed
Tumhara Ashuk Barsana Mujhe Tumhara Ashuk Barsana Mujhe Acha Nahien Lagta
Tumhara Youn Bikhar Jana Mujh Acha Nahien Lagta
Tumhara Humsafar Hona Mujhe Acha Tou Lagta Hai
Tumhara Thaukk K Ruk Jana Mujhe Acha Nahien Lagta
Tumhare Payar Main Larna Mujhe Acha Tou Lagta Hai
Magar Khamoosh Ho Jana Mujhe Acha Nahien Lagta Ijaz Ahmed
Tumhara Youn Bikhar Jana Mujh Acha Nahien Lagta
Tumhara Humsafar Hona Mujhe Acha Tou Lagta Hai
Tumhara Thaukk K Ruk Jana Mujhe Acha Nahien Lagta
Tumhare Payar Main Larna Mujhe Acha Tou Lagta Hai
Magar Khamoosh Ho Jana Mujhe Acha Nahien Lagta Ijaz Ahmed
میری یاد آتی تو ہو گی میری یاد تجھے آتی تو ہو گی
تجھے دل ہی دل میں رولاتی تو ہو گی
بے خیالی میں اپنے ہی خیالوں میں
تو مجھے گیت بنا کر گنگناتی تو ہو گی
میرا نام اپنی ہتھیلی پر لکھ کر
تو سکھیوں سے اپنی چھپاتی تو ہو گی
جب تنگ کرتی ہوں گی تیرا سکھیاں
تو شرم سے آنکھیں چراتی تو ہو گی
یاد جب بھی کرتی ہو گی مجھے تم
تو نازک رسیلے لبوں کو چباتی تو ہو گی
فقط میرا نام اپنی کتابوں میں لکھ کر
تم غیروں کے ڈر سے مٹاتی تو ہو گی Ijaz Ahmed
تجھے دل ہی دل میں رولاتی تو ہو گی
بے خیالی میں اپنے ہی خیالوں میں
تو مجھے گیت بنا کر گنگناتی تو ہو گی
میرا نام اپنی ہتھیلی پر لکھ کر
تو سکھیوں سے اپنی چھپاتی تو ہو گی
جب تنگ کرتی ہوں گی تیرا سکھیاں
تو شرم سے آنکھیں چراتی تو ہو گی
یاد جب بھی کرتی ہو گی مجھے تم
تو نازک رسیلے لبوں کو چباتی تو ہو گی
فقط میرا نام اپنی کتابوں میں لکھ کر
تم غیروں کے ڈر سے مٹاتی تو ہو گی Ijaz Ahmed