Poetries by Ikram Ullah
بدلی بدلی سی زمانے بدلی بدلی سی زمانے کی فضا لگتی ہے
رات بھی آج کی راتوں سے جدا لگتی ہے
بھیگی بھیگی سی جو آتی ہے میری کھڑکی سے
مجھ کو تو تیری آنچل کی ہوا لگتی ہے
روز میں ایک نئے طوفان کو سر کرتا ہوں
دیکھے کس کی مجھے آج دعا لگتی ہے
لوگ کہتے ہیں کہ وہ عام سی ایک صورت ہے
مجھ کو تو سارے زمانے سے جدا لگتی ہے
زہر بھی دیں تو پی جاؤ تسلی سے اسے
ان کی ہاتھوں سے تو ہر چیز دوا لگتی ہے Ikram Ullah
رات بھی آج کی راتوں سے جدا لگتی ہے
بھیگی بھیگی سی جو آتی ہے میری کھڑکی سے
مجھ کو تو تیری آنچل کی ہوا لگتی ہے
روز میں ایک نئے طوفان کو سر کرتا ہوں
دیکھے کس کی مجھے آج دعا لگتی ہے
لوگ کہتے ہیں کہ وہ عام سی ایک صورت ہے
مجھ کو تو سارے زمانے سے جدا لگتی ہے
زہر بھی دیں تو پی جاؤ تسلی سے اسے
ان کی ہاتھوں سے تو ہر چیز دوا لگتی ہے Ikram Ullah
دل دل توڑ کے تو مجھے ناراض نہ کر
اپنا کہ کے تو مجھے پرایا نہ کر
ٹوٹ گئے ہیں بے وفاؤں سے پیار کر کے
تو اور مجھے برباد نہ کر
دل پر پتھر رکھ کر بولا دیا اسکو
وہ کام کر کے تو اسے یاد نہ کر
بےوفائی کے دامن میں بس گئے ہم
اب وفا کی تمنا آتش تو نہ کر
پھولوں پے چل کے ہو گئے کانٹے
اب اس کانٹوں سے پھولوں کی وفا نہ کر
ہم مسافر ہو گئے تیرے پیار میں
اب پیار کی تمنا عا شق بے وفا سے نہ کر Ikram Ullah
اپنا کہ کے تو مجھے پرایا نہ کر
ٹوٹ گئے ہیں بے وفاؤں سے پیار کر کے
تو اور مجھے برباد نہ کر
دل پر پتھر رکھ کر بولا دیا اسکو
وہ کام کر کے تو اسے یاد نہ کر
بےوفائی کے دامن میں بس گئے ہم
اب وفا کی تمنا آتش تو نہ کر
پھولوں پے چل کے ہو گئے کانٹے
اب اس کانٹوں سے پھولوں کی وفا نہ کر
ہم مسافر ہو گئے تیرے پیار میں
اب پیار کی تمنا عا شق بے وفا سے نہ کر Ikram Ullah