Poetries by Imran
رات بھر نیند نہیں آتی رات بھر نیند نہیں آتی
اور اک پل چین نہیں ھے
بڑا آدمی بننے کی علامات
مجھ میں نظر آنے لگیں
مال و زر کا حساب ھر وقت کرتا ھوں
پھر بھی رزق تنگ ھونے کا کھٹکا ھے
آسودہ حال ھوں ھر طرع سے
کیوں مستقبل کی فکریں کھانیں لگیں
سمجھ آتی نہیں انجانے خوف کی وجہ
شاید دین سے دوریاں بڑھنے لگیں
مجھے شاید کوئی بیماری ھے؟
یہ سوچ کر فکریں اور برھنے لگیں
Nasir
اور اک پل چین نہیں ھے
بڑا آدمی بننے کی علامات
مجھ میں نظر آنے لگیں
مال و زر کا حساب ھر وقت کرتا ھوں
پھر بھی رزق تنگ ھونے کا کھٹکا ھے
آسودہ حال ھوں ھر طرع سے
کیوں مستقبل کی فکریں کھانیں لگیں
سمجھ آتی نہیں انجانے خوف کی وجہ
شاید دین سے دوریاں بڑھنے لگیں
مجھے شاید کوئی بیماری ھے؟
یہ سوچ کر فکریں اور برھنے لگیں
Nasir
خوابوں کے نگر کو چلنا ھو گا خوابوں کے نگر کو چلنا ھو گا
چلنا ھو گا چلنا ھو گا
غم لے کے ابھی کچھ چلنا ھو گا
ھر موڑ پہ غم کے پہرے ھیں
جزبات کو آھوں میں ڈھلنا ھو گا
غم لے کے ابھی کچھ چلنا ھو گا
ابھی دل میں انھیرے گہرے ھیں
ابھی عشق کو آگ میں جلنا ھو گا
غم لے کے ابھی کچھ چلنا ھو گا
ابھی زیست کی تاریں نازک ھیں
انہیں پک کے کانٹے بننا ھو گا
چلنا ھو گا چلنا ھو گا
پروانے ابھی کچھ ذندہ ھیں
چراغ سحر کو ابھی جلنا ھو گا
غم لے کے ابھی کچھ چلنا ھو گا
جب سسکی کی پچکار بنے
جب ہچکی جھنکار بنے
تب آہوں کو نغموں ڈھلنا ھو گا
چلنا ھو گا چلنا ھو گا
غم لے کے ابھی کچھ چلنا ھو گا Imran
چلنا ھو گا چلنا ھو گا
غم لے کے ابھی کچھ چلنا ھو گا
ھر موڑ پہ غم کے پہرے ھیں
جزبات کو آھوں میں ڈھلنا ھو گا
غم لے کے ابھی کچھ چلنا ھو گا
ابھی دل میں انھیرے گہرے ھیں
ابھی عشق کو آگ میں جلنا ھو گا
غم لے کے ابھی کچھ چلنا ھو گا
ابھی زیست کی تاریں نازک ھیں
انہیں پک کے کانٹے بننا ھو گا
چلنا ھو گا چلنا ھو گا
پروانے ابھی کچھ ذندہ ھیں
چراغ سحر کو ابھی جلنا ھو گا
غم لے کے ابھی کچھ چلنا ھو گا
جب سسکی کی پچکار بنے
جب ہچکی جھنکار بنے
تب آہوں کو نغموں ڈھلنا ھو گا
چلنا ھو گا چلنا ھو گا
غم لے کے ابھی کچھ چلنا ھو گا Imran
وطن کی مٹی لھو رنگ ھے اٹھو اے اہل پاک وطن
اے خالد و سعد و علی کے جانشینوں
اے ملک و ملت کے جان بازو
اے اقبال کے شا ھینو
کہ ظلم کی فصل جو پک گی ھے
کاٹ کر اس کو جلا دو
الطافیوں نوازیوں زرداریوں کے قلعے گرا کر
نام و نشان ان کے مٹا دو
سروں کی فصل یہ پک گی ھے
کاٹ کر اس کو گرا دو
کہ وطن کی مٹی لھو رنگ ھے
زخم زخم ھے سوھنی دھرتی
چاک اس کا انگ انگ ھے
ظلمتوں کے سیاست کدوں پر
قھر کی بجلیاں گرا دو
ظلم کی فصل جو پک گی ھے
کاٹ کر اس کو گرا دو
یہ تن سے ننگے بیمار بچے
یہ سڑک پہ پڑا لاچار بوڑھا
یہ سر سے ننگی اس کی بیٹی
رو رو کے پکارتے ھیں
کہ ظلم کی فصل جو پک گی ھے
کاٹ کر اس کوجلا دو
پاک وطن سے اس گندگی کو
بہرہ قلزم میں بہا دو
اٹھو اے اہل پاک وطن
کہ وطن پکارتا ھے تجھ کو Akram
اے خالد و سعد و علی کے جانشینوں
اے ملک و ملت کے جان بازو
اے اقبال کے شا ھینو
کہ ظلم کی فصل جو پک گی ھے
کاٹ کر اس کو جلا دو
الطافیوں نوازیوں زرداریوں کے قلعے گرا کر
نام و نشان ان کے مٹا دو
سروں کی فصل یہ پک گی ھے
کاٹ کر اس کو گرا دو
کہ وطن کی مٹی لھو رنگ ھے
زخم زخم ھے سوھنی دھرتی
چاک اس کا انگ انگ ھے
ظلمتوں کے سیاست کدوں پر
قھر کی بجلیاں گرا دو
ظلم کی فصل جو پک گی ھے
کاٹ کر اس کو گرا دو
یہ تن سے ننگے بیمار بچے
یہ سڑک پہ پڑا لاچار بوڑھا
یہ سر سے ننگی اس کی بیٹی
رو رو کے پکارتے ھیں
کہ ظلم کی فصل جو پک گی ھے
کاٹ کر اس کوجلا دو
پاک وطن سے اس گندگی کو
بہرہ قلزم میں بہا دو
اٹھو اے اہل پاک وطن
کہ وطن پکارتا ھے تجھ کو Akram
میں ویلہ ھوں مجھے کچھ کام دو میں ویلہ ھوں
مجھے کچھ کام دو
میں گلی کی نکڑ پہ کھڑا ھوں
سامنے گھر میں پیغام دو
بند کمرے میں میری خوب پٹائی کرو
اور ھمسائیوں کو الزام دو
بھوکا ھوں پیاسا ھوں فاقہ ذدہ ھوں صدیوں سے
چکن بروسٹ مغز فرائی کچھ کھیر پستہ وبادام دو
میری ڈیوٹی فارغ رہنا ھے
مجھے کوئی بڑا انعام دو
میں ویلہ ھوں
مجھے کوئی کام دو Imran
مجھے کچھ کام دو
میں گلی کی نکڑ پہ کھڑا ھوں
سامنے گھر میں پیغام دو
بند کمرے میں میری خوب پٹائی کرو
اور ھمسائیوں کو الزام دو
بھوکا ھوں پیاسا ھوں فاقہ ذدہ ھوں صدیوں سے
چکن بروسٹ مغز فرائی کچھ کھیر پستہ وبادام دو
میری ڈیوٹی فارغ رہنا ھے
مجھے کوئی بڑا انعام دو
میں ویلہ ھوں
مجھے کوئی کام دو Imran
دعا زندگی کی جو کرتے تھے دعا زندگی کی جو کرتے تھے
لگی کیوں بد دعا بن کر
دل میں سدا جو رہتے تھے
ملنے وہ آئے نا آشنا بن کر
جا نے کیوں ہیں غم خوار وہ اتنے
درد بھی دیے تو دوا بن کر
وہ مسیحا جس کے ھا تھوں میں امرت تھا
کھلا گیا کچلا قضا بن کر
پیار کے بدلے جو پای خوشیاں
ملی ھیں مجھ کو سزا بن کر
اتنے پیارے نہ لگتے تھے پہلے
ملے ہیں جب سے بے وفا بن کر Akram
لگی کیوں بد دعا بن کر
دل میں سدا جو رہتے تھے
ملنے وہ آئے نا آشنا بن کر
جا نے کیوں ہیں غم خوار وہ اتنے
درد بھی دیے تو دوا بن کر
وہ مسیحا جس کے ھا تھوں میں امرت تھا
کھلا گیا کچلا قضا بن کر
پیار کے بدلے جو پای خوشیاں
ملی ھیں مجھ کو سزا بن کر
اتنے پیارے نہ لگتے تھے پہلے
ملے ہیں جب سے بے وفا بن کر Akram
درد دل دل کی آگ آنسو بھجا نہ سکے
پھول کانٹوں سے سینا بچا نہ سکے
قطرہ قطرہ میری آنکھوں سے کشید کر
پیاس من کی وہ بجھا نہ سکے
کیوں گلہ کروں میں بیوفائی کا
خزاں میں بہار کبھی آ نہ سکے
کسے ڈھونڈتے پھرتے ھو گلیوں میں
وہ چہرہ جو نظروں سے جا نہ سکے
آج شرمسار ھوں اپنی ہی نظر وں میں
ان کے کہنے پر بھی ان کو بھلا نہ سکے Akram
پھول کانٹوں سے سینا بچا نہ سکے
قطرہ قطرہ میری آنکھوں سے کشید کر
پیاس من کی وہ بجھا نہ سکے
کیوں گلہ کروں میں بیوفائی کا
خزاں میں بہار کبھی آ نہ سکے
کسے ڈھونڈتے پھرتے ھو گلیوں میں
وہ چہرہ جو نظروں سے جا نہ سکے
آج شرمسار ھوں اپنی ہی نظر وں میں
ان کے کہنے پر بھی ان کو بھلا نہ سکے Akram
شاعری سے معافی فضول اور بےکار کام مت کرو
اور الٹی سیدھی شاعری چھوڑ دو لوگوں
بے وزن بے ڈھنگی بے تکی نظمیں
اور لولی لنگڑی غزلیں لکھنا چھوڑ دو لوگوں
کچھ ملک و قوم کی فکر کرو
اور ویلیاں کھانا چھوڑ دو لوگوں
ہر کام ہر کسی کے بس کے بس میں نہیں ہوتا
اس لیے ورقے کالے کرنا چھوڑ دو لوگوں
کوئی کام کا کام کرنے کی قسم کھاؤ
اپنے بونگے کلام کی گردن مروڑ دو لوگوں Imran
اور الٹی سیدھی شاعری چھوڑ دو لوگوں
بے وزن بے ڈھنگی بے تکی نظمیں
اور لولی لنگڑی غزلیں لکھنا چھوڑ دو لوگوں
کچھ ملک و قوم کی فکر کرو
اور ویلیاں کھانا چھوڑ دو لوگوں
ہر کام ہر کسی کے بس کے بس میں نہیں ہوتا
اس لیے ورقے کالے کرنا چھوڑ دو لوگوں
کوئی کام کا کام کرنے کی قسم کھاؤ
اپنے بونگے کلام کی گردن مروڑ دو لوگوں Imran