خوابوں کے نگر کو چلنا ھو گا

Poet: By: Imran, ksa

خوابوں کے نگر کو چلنا ھو گا
چلنا ھو گا چلنا ھو گا
غم لے کے ابھی کچھ چلنا ھو گا

ھر موڑ پہ غم کے پہرے ھیں
جزبات کو آھوں میں ڈھلنا ھو گا
غم لے کے ابھی کچھ چلنا ھو گا

ابھی دل میں انھیرے گہرے ھیں
ابھی عشق کو آگ میں جلنا ھو گا
غم لے کے ابھی کچھ چلنا ھو گا

ابھی زیست کی تاریں نازک ھیں
انہیں پک کے کانٹے بننا ھو گا
چلنا ھو گا چلنا ھو گا

پروانے ابھی کچھ ذندہ ھیں
چراغ سحر کو ابھی جلنا ھو گا
غم لے کے ابھی کچھ چلنا ھو گا

جب سسکی کی پچکار بنے
جب ہچکی جھنکار بنے
تب آہوں کو نغموں ڈھلنا ھو گا
چلنا ھو گا چلنا ھو گا
غم لے کے ابھی کچھ چلنا ھو گا

Rate it:
Views: 803
27 Jul, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL