Poetries by محمد خلیل الرحمٰن

میں جِم پوٹر کا لڑکا ہوں اور کام کروں گا بڑے بڑے ہیری پوٹر
( جناب جمیل الدین عالی سے معذرت کے ساتھ)
میں جِم پوٹر کا لڑکا ہوں
اور کام کروں گا بڑے بڑے
میں جِم پوٹر کا لڑکا ہوں
اور کام کروں گا بڑے بڑے
جتنے بھی لڑاکا لڑکے ہیں
اُن کو تعظیم سِکھاؤں گا
جو ہاگورٹس کے ہمجولی ہیں
میں اُن کی ٹیم بناؤں گا
ڈی اے کی ٹیم بنائیں گے
جو رہتے ہیں اب لڑے لڑے
میں جِم پوٹر کا لڑکا ہوںں
اور کام کروں گا بڑے بڑے
جادو کی ہیں جو روشنیاں
میں گھر گھر میں پھیلاؤں گا
جادو کی چھڑی کو لہراکر
میں جادوگر بن جاؤں گا
بے کار گزاروں وقت بھلا
زینے کے نیچے پڑے پڑے
میں جِم پوٹر کا لڑکا ہوں
اور کام کروں گا بڑے بڑے
میں چار طرف لے جاؤں گا
پُرکھوں نے جو پیغام دیا
اپنا اُلّو سیدھا کرلوں
جسے میں نے ہیڈوِگ نام دیا
کوئڈِچ میں ایسے کھیلوں گا
اسنِچ کو پکڑلوں کھڑے کھڑے
میں جِم پوٹر کا لڑکا ہوں
اور کام کروں گا بڑے بڑے
گر ٹام رِڈِل بھی آئے گا
میں اُس کو بھی چِت کرلوں گا
ہر گتھی کو سلجھاؤں گا
ہر مشکل اپنے سر لوں گا
میں مات انہیں بھی دے دوں گا
جو جادو گر ہیں سڑے سڑے
میں جِم پوٹر کا لڑکا ہوں
اور کام کروں گا بڑے بڑے
 
M. Khalil ur Rahman
مرزا تفتہ کے نام جانِ غالبؔ
یاد آتا ہے تمہارے عمِّ جانی سے سنا ہے​
میری فرہنگِ دساتیر آپ کے گھر پر ہے شاید
پھر یہ کہتا ہوں وہاں ہوتی تو کیوں نا آپ ہی تُم بھیج دیتے
تمُ کہ اک نورس ثمر ہو اس نہال ِ جانفزا کے
جس نے خودآنکھوں کے میرےسامنے نشو و نما پائی ہےاور میں
ہوں ہواخواہ و مربی اس نہالِ جانفزیں کا
مجھ کو تمُ سے پھر نہ کیونکر پیار ہوگا
اب تمہیں دیکھوں میں کیسے
اس کی دو ہی صورتیں ہیں
تُم ہی دلی آؤ یا پھر میں لوہارو آرہوں، پر
تم ہو مجبور اور یوں معذور ہوں میں
خود یہ کہتا ہوں کہ میرا عذرِ زنہار اس طرح مسموع نہ ہو جب تلک یہ نہ سمجھ لو
کون ہوں میں اور میرا ماجرا کیا
اب سنو کہ دو ہیں عالم
ایک ہے ارواح کااور ایک عالم آب و گِل کا
حاکم ان دونوں کا جو ہے
حق ہے ،فرماتا ہے خود ہی
آج ہے کس کے لیے یہ پادشاہی
اور پھر وہ آپ ہی خود بولتا ہے
واحد القہار اللہ کے لیے ہے
یوں اگرچہ قاعدہ اِک عام ہےیہ
اس جہانِ آب و گِل کے سارے مجرم
عالمِ ارواح میں پاتے سزا ہیں
لیکن ایسا بھی ہوا ہے
عالمِ ارواح میں جس نے خطا کی ہے اسے اس عالمِ دنیا میں بھیجا اور سزا دی
یوں رجب کی آٹھویں تھی جب یہ عاجز روبکاری کےلیے بھیجا گیا ہے
اور پھر تیرہ برس کے بعد میرے واسطے حکمِ دوامِ حبس بھی صادر ہوا ہے
ایک بیڑی ڈال دی پاؤں میں میرے
اور دلی شہر کو زنداں مقرر کردیا ہے
یوں مجھے زنداں میں ڈالا
فکرِ نظم و نثر کو میری مشقت کردیا ہے
بعد برسوں جیل خانے سے میں بھاگا
پھر بلادِ شرقیہ میں کچھ برس پھرتا رہا ہوں
مجھ کو پایاں کار کلکتے سے پکڑ ا اور اسی مجلس میں آکر لا بٹھایا
جب بغاوت پر مجھے آمادہ پایا
دو بڑھاکر اور ہتھکڑیاں لگادیں
پاؤں بیڑی سے فگاراور ہاتھ ہتھکڑیوں سے زخمی
یوں مشقت اور بھی مشکل ہوئی تھی
ساری طاقت یک قلم زائل ہوئی، پربے حیا ہوں
پھر گزشتہ سال بیڑی اس عقوبت خانہٗ زنداں میں چھوڑی
ساتھ ہتھکڑیوں کے بھاگا
اور مراد آباد پہنچا
دو مہنیےسے بھی کچھ کم ، میں وہاں تھا
پھراچانک آن پکڑا
اب کیا ہے عہد کہ میں پھر نہ بھاگوں گا کبھی یوں
بھاگ لوں پربھاگنے کی اب کسے طاقت رہی ہے
دیکھیے حکمِ رہائی کب ہو صادر
اک ذرا سا احتمالِ آخری ہے
چھوٹ جاؤں گا میں ذی الحجہ میں اب کے
پھر رہائی پانے والا بس سوائے اپنے گھر کے اور کہیں جاتا نہیں ہے
سوچتا ہوں اس نجاتِ آخری کے بعد میں بھی عالمِ ارواح جاؤں
M. Khalil ur Rahman
شکوہ ’’کیوں زیاں کار بنوں سُود فراموش رہُوں؟‘‘
میں خطا کار نہیں ، پھر بھی سِتم کوش رہوں
قہقہے روز سنوں ، اور ہمہ تن گوش رہوں
دوستو! میں کوئی احمق ہوں کہ خاموش رہوں
حوصلہ یہ مِری تائی سے مِلا ہے مجھ کو
شکوہ امّاں سے ہے، ابا سے گِلا ہے مجھ کو
یوں تو ہر گھر میں کِتابیں بھی ہیں ، بستے بھی ہیں
کچھ جو مہنگے ہیں اگر اُن میں ، تو سستے بھی ہیں
اکثر ابّا ہیں جو یہ دیکھ کے ہنستے بھی ہیں
کوئی دیکھے ہیں، نا پڑھنے پہ برستے بھی ہیں؟
اے مری امّی و ابّا مری تقصیر معاف
خُوگرِ حمد سے یوں ظلم کی تشہیر معاف
امیّاں اور بھی ہیں، اور بھی ابّا ہوں گے
اپنے بچوں سے محبت میں وہ یکتا ہوں گے
کچھ تو بچوں کے لیے پیار سراپا ہوں گے
پر نہ بچوں کو دھنکنے کے وہ رسیا ہوں گے
روز پٹنے کی جو شہرت ہےجو رُسوائی ہے
آج شکوہ مرے ہونٹوں پہ لوا لائی ہے
ہم سے پہلے تھا عجب اپنے گھروں کا منظر
بلیّاں تھیں کہیں پیاری کہیں بوتےتھے شجر
خُوگرِ پیکرِ انسان تھی ا مّاں کی نظر
پیار ان مصنوعی چیزوں سے وہ کرتی کیونکر؟
ہم نے آتے ہی یہ ماحول جو گھر کا بدلا
موڈ بلی کا ، تو حلیہ بھی شجر کا بدلا
آئے مہمان تو دروازہ ہمیں نے کھولا
ابّا گھر پر نہیں ، یہ جھوٹ سراسر بولا
ایسے مہمان تھے گھر بھر میں مچایا رَولا
بھانڈا پھوٹا ہے تو سوری بھی ہمیں نے بولا
آئے مہمان ، گئے بھینس کا انڈا لے کر
پھر تو ابّا مرے پیچھے گئے ڈنڈا لے کر
دادی اماں کا جو اِک پان تھا، کھایا کِس نے
رو رہا ہے جو یوں منّا ، تو رُلایا کِس نے
اباجانی کی کتابوں کو گرایا کِس نے
کام کرتی ہوئی وماسی کو ستایا کِس نے
ہاں شرارت سی شرارت ہوکوئی، مار پڑے
یاں تو ہر بات پہ، ہر کام پہ پھٹکار پڑے
کبھی دھوبی کی طرح میری دھلائی کی ہے
کبھی دفتر سے پہنچتے ہی پٹائی کی ہے
کبھی اتوار کو بس یونہی دھنائی کی ہے
بعد پٹنے کےتو خود ہم نے سنکائی کی ہے
ھائے امی کی جو آواز لگائی ہم نے
پیٹتے آپ تھے ، بس بات بنائی ہم نے
مکتبوں کا یہاں دستور نَرالا دیکھا
دِل تو کالے تھے، یہاں بورڈ بھی کالا دیکھا
خوش جو دیکھا، وہی استاد کا سالا دیکھا
یوں بھی اکثر ہی بڑے گیٹ پہ تالا دیکھا
ھائے امّاں مِری ! مکتب سے اُٹھالے مجھ کو
خود کسی طور سہی ،گھر پہ پڑھالے مجھ کو​(علامہ اقبال سے معذرت کے ساتھ)
 
محمد خلیل الرحمٰن
ایک لڑکا اور لڑکی (علامہ اقبال سے معذرت کےساتھ) اک دن کسی لڑکی سے یہ کہنے لگا لڑکا​
اس راہ سے ہوتا ہے گزر روز تہارا​

لیکن مرے دل کی کبھی جاگی نہیں قسمت​
بھولے سے کبھی تم نے مجھے مڑ کے نہ دیکھا​

غیروں کو نہ دیکھو تو کوئی بات نہیں ہے​
اپنوں سے مگر چاہیے یوں کھنچ کے نہ رہنا​

دیکھو جو مجھے ہنس کے تو عزت ہے یہ میری​
گر میری گلی میں تمہیں منظور ہو آنا​

لڑکی نے سنی بات جو لڑکے کی تو بولی​
حضرت کسی نادان کو دیجے گا یہ دھوکا​

باتوں میں یہ لڑکی کبھی آنے کی نہیں ہے​
جو آپ کے چنگل میں پھنسا ، پھر نہیں نکلا​

لڑکے نے کہا ’’واہ! فریبی مجھے سمجھے​
تم سا کوئی نادان زمانے میں نہ ہوگا​

منظور تمہاری مجھے خاطر تھی وگرنہ​
کچھ فائدہ اپنا تو مرا اس میں نہیں تھا​

چلتی ہوئی آئی ہو خدا جانے کہاں سے​
ٹھہرو ذرا دم بھر کے تو ہے اس میں برا کیا​

اس دل کے کئی داغ دکھانے کے ہیں تم کو​
باہر سے سمجھتی ہو اسے گوشت کا ٹکڑا​

لڑکی نے کہا خیر یہ سب ٹھیک ہے لیکن​
میں آپ کے پاس آؤں یہ امید نہ رکھنا​

بس آپ کے چنگل سے خدا مجھ کو بچائے​
پھنس جائے کوئی اس میں تو نکلا نہ کبھی کا​

لڑکے نے کہا دل میں، سنی بات جو اس کی​
پھانسوں اسے کس طرح ، یہ کمبخت ہے دانا​

سو کام خوشامد سے نکلتے ہیں جہاں میں​
دیکھو جسے دنیا میں خوشامد کا ہے پتلا​

یہ سوچ کے لڑکی سے کہا اس نے بڑی بی!​
اللہ نے بخشا ہے جو یہ تم کو سراپا​

یوں تو ہے مجھے آپ کی صورت سے محبت​
جس دن سے کہیں آپ کو میں نے جو ہے دیکھا​

آنکھیں ہیں تمہاری کہ پیالے ہیں یہ مے کے​
ہے آپ کو اللہ نے فرصت سے بنایا​

یہ حسن، یہ پوشاک، یہ خوبی ،یہ صفائی​
پھر اس پہ قیامت ہے یہ چلتے ہوئے آنا​

لڑکی نے سنی جب یہ خوشامد تو یہ بولی​
گرچہ ہے نہیں آپ سے مجھ کو کوئی کھٹکا​

گو آپ کی تعریف بجا ہے مرے بھائی​
پر مجھ کو بزرگوں نے مرے ہے یہ بتایا​

گو یوں تو ہر اک شخص ہی اچھا ہے جہاں میں​
کرنا نہ ہراک شخص پہ فوراً ہی بھروسا​

رستے میں تو میں بات کسی سے نہ کروں گی​
یہ کہہ کے گئی راہ پہ اور مڑ کے نہ دیکھا​

نوٹ: جناب محمود احمد غزنوی کی فرمائش پر لکھی گئی، جس میں پہلا شعر انھوں نے ہی بنایا ہے۔​
محمد خلیل الرحمٰن
ایک باپ کا بھیانک خواب میں سویا جو اِک شب تو دیکھا یہ خواب​
بڑھا اور جِس سے مِرا اضطراب​

یہ دیکھا مِرا جو پِسر ہے بڑا​
اندھیرے میں ہے ایک جانب کھڑا​

لرزتا ہے ڈر سے ہر اِک اُس کا بال​
قدم کا ہے دہشت سے اُٹھنا مُحال​

مجھے سوتا پایا تو آگے بڑھا​
سمجھ کر کہ اب سامنے ہے گڑھا​

بڑی چُست پوشاک پہنا ہوا​
دیا ایک ہاتھوں میں جلتا ہوا​

وہ چُپ چاپ باہر کی جانب رواں​
خدا جانے جانا تھا اُس کو کہاں​

اِسی خواب میں تھا کہ ہوش آگیا​
وہ بستر سے جب آکے ٹکرا گیا​

کہا میں نے پہچان کر میری جاں​
مجھے چھوڑ کر چل دئیے ہو کہاں​

جدائی میں کِس کی ہوئے بے قرار​
پروتے ہو کیوں آج اشکوں کے ہار​

نہ عزت ہماری ذرا تُم نے کی​
چلے چھوڑ ، اچھی وفا تُم نے کی​

جو بیٹے نے دیکھا مِرا پیچ و تاب​
دیا اُس نے منہ پھیر کر یوں جواب​

جو دیکھا مجھے، وہ تو بھاگا گیا​
دیا نیند سے اپنی ماں کو اُٹھا​

وہ اُٹھتے ہی بس ریفری بن گئی​
ریفری کیا، جوالا مُکھی بن گئی​

جو دیکھا کہ حالات ہیں اب خراب​
میں واپس چلا اور ہوا محوِ خواب​(علامہ اقبال سے معذرت کے ساتھ)​
 
محمد خلیل الرحمٰن
شوہر کی فریاد ( مولوی اسماعیل میرٹھی سے معذرت کے ساتھ)​
ایک لڑکا بگھارتا ہے دال​
دال کرتی ہے عرض یوں احوال​
ایک دِن تھا کہ سورہا تھا تُو​
وقت کو یوں ہی کھو رہا تھا تُو​
گھر تِرا تھا سکوں کا گہوارہ​
اور تھا یہ گھر تجھے بہت پیارا​
چائے پی پی کے تُو تھا لہراتا​
دھوپ لیتا کبھی ہوا کھاتا​
ایک امّاں تھی مہربان ترِی​
دِل سے کھا نا تجھے کھِلاتی تھی​
یوں تو گھر میں سبھی تھے، ماں باوا​
تجھ سے کرتے تھے نیک برتاوا​
جب کیا تجھ کو پال پوس بڑا​
کوئی تجھ پر کچھ ایسے آن پڑا​
گئی تقدیر یک بیک جو پلٹ​
زندگانی کو کردیا تلپٹ​
یک بیک طے ہوئی ترِی شادی​
ترِی دلہن تھی یاکہ شہزادی​
ہوگئی دَم کے دَم میں بربادی​
چھِن گئی ھائے تیری آزادی​
ایک ظالِم سے یوں پڑا پالا​
جِس نے کولہو میں ہے تجھے ڈالا​
کیا کہوں میں کہاں کہاں کھینچا​
جیسے منڈی میں تجھ کو جا بیچا​
پہلی تاریخ کو کمال کیا​
تیری تنخواہ کو حلال کیا​
نہ سنی تیری آہ اور زاری​
خوب بیوی نے کی خریداری​
پھر مقدر تجھے جو گھر لایا​
اُس نے یاں اور بھی غضب ڈھایا​
دھکّے دے کر کچن میں بھیج دیا​
کام سارا ترے سپرد کیا​
بولی امّاں سے، اے مرِی اماں!
یاں پہ بیٹھو ذرا، چلی ہو کہاں​
کام کچھ بھی نہ اب کرو گی تُم​
تھک چکی ہو تو سو رہو گی تُم​
ڈالیں مرچیں نمک لگایا خوب​
کی شکایت ، تو جی جلایا خوب​
ہاتھ دھوکر پڑی تھی پیچھے یوں​
تجھ کو کرنا تھا یوں ہی خوار و زبوں​
تُو نے رو کر طلب کیا انصاف​
ھائے بیگم ، مِرا قصور معاف​
کہا لڑکے نے میری پیاری دال​
تجھ کو معلوم ہے مِرا سب حال​
وہ تو رتبہ مِرا بڑھاتی ہے​
جو پکاتا ہوں میں ، وہ کھاتی ہے​
نہ ستانا ، نہ جی جلانا تھا​
یوں مجھے آدمی بنانا تھا​
محمد خلیل الرحمٰن
سیاسی لوگ ( علامہ اقبال سے معذرت کے ساتھ) (علامہ اقبال سے معذرت کے ساتھ)
یہی سیاستِ دوراں، یہی ہے حال ان کا
کہ صبح و شام بدلتی ہیں ان کی تقریریں
کمالِ کِذب و ریا ہے یہ زندگی ان کی
معاف کرتا ہے ’’انصاف‘‘ ان کی تقصیریں
سکندرانہ جلال اور ادائیں شاہانہ
سیاسی لوگ، برہنہ ہیں جن کی تدبیریں
خودی؟ یہ کون سی چڑیا کا نام ہے صاحب
کھنگال بیٹھے سیاسی تمام تحریریں
بس ایک بار انہیں منتخب تو ہونے دو
یہ اقربا ء کی تو بدلیں ضرور تقدیریں
جمہوریت کا تو منکِر نہیں ہوں میں لیکن
یہ وہ نظام ہے جِس میں فقط ہیں تکبیریں
۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔
اقبال
نشاں یہی ہے زمانے میں زندہ قوموں کا
کہ صبح و شام بدلتی ہیں ان کی تقدیریں
کمالِ صِدق و مروّت ہے زندگی ان کی
معاف کرتی ہے فطرت بھی ان کی تقصیریں
قلندرانہ ادائیں ، سکندرانہ جلال
یہ امّتیں ہیں جہان میں برہنہ شمشیریں
خودی سے مردِ خود آگاہ کا جمال و جلال
کہ یہ کتاب ہے باقی تمام تفسیریں
شکوہِ عید کا منکر نہیں ہوں میں لیکن
قبول ِ حق ہیں فقط مردِ حر کی تکبیریں
حکیم میری نواؤں کا راز کیا جانے
وارئے عقل ہیں اہلِ جنوں کی تدبیریں​
محمد خلیل الرحمٰن
ہمارا بکرا خواب میں ہمارا بکرا خواب میں
محمد خلیل الرحمٰن
( علامہ اقبال سے معذرت کے ساتھ)
میں سویا جو اِک شب تو دیکھا یہ خواب
بڑھا اور جِس سے مِرا اضطراب
یہ دیکھا کہ میں جا رہا ہوں کہیں
چلا آتا ہے ایک ریوڑ وہیں
عجب تھا تقدس عجب نور تھا
ہر اِک جانور ایسے مخمور تھا
جو کچھ حوصلہ پاکے آگے بڑھا
تو دیکھا کہ ریوڑ یہ بکروں کا تھا
زمرد سی پوشاک پہنے ہوئے
گلے میں تھے مالا سی ڈالے ہوئے
مجھے یاد اب پچھلی عید آگئی
جو مجھ سے بھی قربانی کرواگئی
یہ رب کی رضا کا تھے ساماں ہوئے
یہ بکرے وہی تھے جو قرباں ہوئے
اسی سوچ میں تھا کہ بکرا مِرا
اچانک مجھے یوں نظر آگیا
وہ پیچھے تھا اور تیز چلتا نہ تھا
وہ آدھا تھا بس، باقی آدھا نہ تھا
کہا میں نے پہچان کر میری جاں
مجھے چھوڑ کر آگئے تم کہاں
جدائی میں رہتا ہوں میں بے قرار
پروتا ہوں ہر روز اشکوں کے ہار
نہ پروا ہماری ذرا تم نے کی
گئے چھوڑ اچھی وفا تم نے کی
جو بکرے نے دیکھا مِرا پیچ و تاب
دیا اُس نے منہ پھیر کر یوں جواب
رُلاتی ہے تُجھ کو جدائی مِری
نہیں اِس میں کچھ بھی بھلائی مِری
یہ کہہ کر وہ کچھ دیر تک چُپ رہا
دھڑ اپنا دِکھا کر یہ کہنے لگا
سمجھتا ہے تُو ہوگیا کیا اِسے
تِرےہی فریزر نے کھایا اِسے
اِسی دَم مجھے یاد بھی آگئیں
وہ بکرے کی رانیں جو فریزر میں تھیں
جنہیں میں نے رکھّا بچا کر وہاں
بچا کر کہوں یا چھپا کر وہاں​
محمد خلیل الرحمٰن
پہاڑ اور گلہری (جدید) پہاڑ اور گلہری(جدید)
(علامہ اقبال سے معذرت کے ساتھ)
محمد خلیل الرحمٰن
کسی پہاڑ سے اِک دِن کہا گلہری نے
تجھے ہو شرم ، سمندر میں جاکے ڈوب مرے
یہ تاڑ جسم ہے، اس پر غرور کیا کہنا
یہ عقل اور یہ سمجھ، یہ شعور کیا کہنا
خدا کی شان ہے بے جان، جان بن بیٹھیں
جو مردہ جسم ہوں انساں سمان بن بیٹھیں
تری بساط کہ صورت مری بنائے تو
چلت پھرت جو ہے میری، کبھی وہ پائے تو
جو بات مجھ میں ہے تجھ کو وہ ہے نصیب کہاں
بھلا یہ چال مری پائے تو غریب کہاں
پہاڑ نے یہ کہا سُن کے منہ سنبھال ذرا
یہ کچی باتیں ہیں دِل سے انہیں نکال ذرا
جو تو بڑی نہیں میری طرح تو کیا پروا
نہیں ہوں میں بھی تو آخر تری طرح چھوٹا
ہر ایک چیز سے پیدا خدا کی قدرت ہے
کوئی بڑا کوئی چھوٹا ، یہ اُس کی حِکمت ہے
بڑا جہان میں رُتبہ مِرا دیا اُس نے
تجھے حقیر سا چوہا بنا دیا اُس نے
مجھے اُٹھانے کی طاقت نہیں ذرا تُجھ میں
چلت پھِرت تو ہے، خوبی ہے اور کیا تُجھ میں
جو میں بڑا ہوں تو کچھ احترام کر میرا
مری ہے شان کہ تو خود ہی نام کر میرا
نہیں پہاڑ کے جیسا کوئی زمانے میں
عجب مِثال ہوں قدرت کے کارخانے میں
محمد خلیل الرحمٰن
نئے شادی شداؤں کے نام​ تیری شادی پہ تحفہ میں دوں گا بھی کیا​
اپنی منظوم اِک اِس دُعا کے سِوا​
گو تھی لڑکی سے تقدیر تیری تہی​
ھائے پِھر بھی یہ لڑکی تُجھے مِل گئی​
شادی کرنے سے پہلے ذرا دیکھتا​
سارے شادی شداؤں کا جو حال تھا​
اپنے خالو کو، ماموں کو بھی دیکھتا​
حشر خالہ ، ممانی نے جو کردیا​
تیرے تایا زمانے میں مشہور تھے​
کرکے شادی بچارے وہ مقہور تھے​
تیرے سب دوستوں کی جو حالت ہوئی​
زندگی بھر کی اُن کو خجالت ہوئی​
کرکے شادی جو اُن کو نصیحت ہوئی​
بعد از مرگ دُگنی فضیحت ہوئی​
اب گرہ میں نصیحت یہ تو باندھ لے​
سامنے اپنی بیوی کے چُپ ساندھ لے​
سامنے کوئی بلی جو آئے نظر​
کوئی حرکت سے اُس کی ، نہ کر در گُزر​
ہاتھ اپنا بڑھا اور جوتا اُٹھا​
کر جہنم رسید اس کو تو ، کرکے ٹھا
تیری اِس بات سے بیوی ڈر جائے گی​
وہ تو ڈر جائے گی، گویا مر جائے گی​
گرچہ اِس مشورے میں قباحت ہے اِک​
جو کہ اِس وقت کی ہی ضرورت ہے اِک​
تیری حرکت کو بیوی نے دیکھا جونہی​
سُرخ شعلہ بنے اور چیخے یونہی​
’’کیسی حرکت یہ کی ہے مرے سامنے​
بعد ا س کے لگے اپنا دِل تھامنے؟​
آکے بیٹھے نہیں ، گھر کو گندا کیا​
آئے غصے میں اور ایسا دھندا کیا​
کل سے حرکت کوئی ایسی کرنا نہیں​
سامنے ہر کسی کے بگڑنا نہیں​
باتیں ساری بس اب میری مرضی سے ہوں​
ہوگا بس اب وہی کچھ کہ جو میں کہوں‘‘
بس اگر ایسا کوئی ہوا ماجرا​
اور بیوی نے قابو وہیں پالیا​
سمجھو قسمت نے تم کو ہےپھینکا وہیں​
کی پِٹائی زبردست ، سینکا وہیں​
سارے عالم کے شوہر جہاں ڈھیر ہیں​
بیویاں جِس گلی کی سوا سیر ہیں​
صبر کرنا مری جان ، رونا نہیں​
زندگانی کو رو رو کے کھونا نہیں​
پھر پڑوسن تمہیں یاد آجائے گی​
یاد اس کی تمہیں پھر سے گرمائے گی​
بس کلیجے سے اُس کو لگاکر جیو
یاد اُس کی تمنا بنا کر جیو
محمد خلیل الرحمٰن