تلاش
Poet: محمد خلیل الرحمٰن By: M. Khalil ur Rahman, Karachiیہاں کل رات
پورا چاند تھا
ایسا ہی روشن چاند
جیسے وہ تمہاری کوئٹہ وادی میں ہوتا ہے
جہاں اس کی
سنہری نرم کرنوں کو
تم اپنے جسم سے اٹھکیلیاں کرتے ہوئے محسوس کرتی ہو
تمہارے گھر کے پائیں باغ کے گوشے سےپھولوں کی مہک آکر تمہیں حیران کرتی ہو
کہ یہ مسحور کُن خوشبو
کہاں سے آرہی ہے اور
یونہی تُم سے ملاقاتوں کے منظر یاد آئے تو
میں اُن میٹھی ملاقاتوں کے نشے میں
کچھ ایسا کھو گیا جیسے
سہانی رات کے پچھلے پہر
سنسان سڑکوں پر
اکیلا گھومتا ہوں میں
بس اپنے چاند کو پانے کی خواہش میں
( اپنے پیارے دوست رضا کے والد جناب انور خان کی نظم کا اردو ترجمہ )
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






