Poetries by محمد سلیم صیاد
آج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے دل سے جب دل کا ملن عہدِ وفا ہوتا ہے
پھول آنگن میں نیا روز کھلا ہوتا ہے
آج مشکل میں ہوں کچھ درد سوا ہے ساقی
ورنہ ہر وقت کہاں جام بھرا ہوتا ہے
آج پھر دل نے مری جان شکایت کی ہے
پیار ہو جن سے محبت تو گلہ ہوتا ہے
حال اپنا میں زمانے سے چھپاوں کیسے
درد ہو دل میں تو چہرے پہ لکھا ہوتا ہے
دیکھ کر رنگ سیہ اتنا پریشان نہ ہو
عشق میں جسم تو کیا دل بھی جلا ہوتا ہے
رات بھر جام پلا بھر کے لبا لب ساقی
آج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے
ہم وہ عاشق ہیں صنم دل میں ہمیشہ جن کے
حسرتِ دیدِ رسلﷺ عشقِ خدا ہوتا ہے محمد سلیم صیاد
پھول آنگن میں نیا روز کھلا ہوتا ہے
آج مشکل میں ہوں کچھ درد سوا ہے ساقی
ورنہ ہر وقت کہاں جام بھرا ہوتا ہے
آج پھر دل نے مری جان شکایت کی ہے
پیار ہو جن سے محبت تو گلہ ہوتا ہے
حال اپنا میں زمانے سے چھپاوں کیسے
درد ہو دل میں تو چہرے پہ لکھا ہوتا ہے
دیکھ کر رنگ سیہ اتنا پریشان نہ ہو
عشق میں جسم تو کیا دل بھی جلا ہوتا ہے
رات بھر جام پلا بھر کے لبا لب ساقی
آج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے
ہم وہ عاشق ہیں صنم دل میں ہمیشہ جن کے
حسرتِ دیدِ رسلﷺ عشقِ خدا ہوتا ہے محمد سلیم صیاد
یہ نازو ادائیں یہ عِشوہ طرازی یہ نازو ادائیں
سمندر سے گہری غزالی نگاہیں
یہ بادِ بہاراں یہ رنگیں فضائیں
صنم لے رہی ہیں تمھاری بلائیں
کنول کے سی نازک جوانی تمھاری
شرارت بھری ہیں یہ چنچل ادائیں
یہ خوشبو تمھارے بدن کی ہے شاید
مہکنے لگی ہیں ہیں جو سُندر فضائیں
جلادیں دلوں کو شعاوں سے پل میں
اگر سر جھکا کر وہ نظریں اُٹھائیں
حسیں اتنا ربّ نے بنایا جو تم کو
حسینو! لگی ہیں ہمھاری دعائیں
تکبر نہ کرنا قسم سے وگرنہ
لگیں گی تمہیں ہم فقیروں کی آہیںیہ محمد سلیم صیاد
سمندر سے گہری غزالی نگاہیں
یہ بادِ بہاراں یہ رنگیں فضائیں
صنم لے رہی ہیں تمھاری بلائیں
کنول کے سی نازک جوانی تمھاری
شرارت بھری ہیں یہ چنچل ادائیں
یہ خوشبو تمھارے بدن کی ہے شاید
مہکنے لگی ہیں ہیں جو سُندر فضائیں
جلادیں دلوں کو شعاوں سے پل میں
اگر سر جھکا کر وہ نظریں اُٹھائیں
حسیں اتنا ربّ نے بنایا جو تم کو
حسینو! لگی ہیں ہمھاری دعائیں
تکبر نہ کرنا قسم سے وگرنہ
لگیں گی تمہیں ہم فقیروں کی آہیںیہ محمد سلیم صیاد