آج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے
Poet: محمد سلیم صیاد By: محمد سلیم صیاد, Houston,Texasدل سے جب دل کا ملن عہدِ وفا ہوتا ہے
پھول آنگن میں نیا روز کھلا ہوتا ہے
آج مشکل میں ہوں کچھ درد سوا ہے ساقی
ورنہ ہر وقت کہاں جام بھرا ہوتا ہے
آج پھر دل نے مری جان شکایت کی ہے
پیار ہو جن سے محبت تو گلہ ہوتا ہے
حال اپنا میں زمانے سے چھپاوں کیسے
درد ہو دل میں تو چہرے پہ لکھا ہوتا ہے
دیکھ کر رنگ سیہ اتنا پریشان نہ ہو
عشق میں جسم تو کیا دل بھی جلا ہوتا ہے
رات بھر جام پلا بھر کے لبا لب ساقی
آج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے
ہم وہ عاشق ہیں صنم دل میں ہمیشہ جن کے
حسرتِ دیدِ رسلﷺ عشقِ خدا ہوتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






