Poetries by Muhammad Moazzam Akhlaq
حمد باری تعالیٰ کیونکر کروں بیاں تیری ثناء یارب میرے
تو پاک ہے اور تیرے سامنے گناہ سب میرے
ہر شے سے بالا ہے، مالک دو جہاں ہے تو
تیرے مرتبے کے آگے، کیا منصب میرے
جذبہ حمد و ثناء کبھی نہ کم ہونے پائے
اپنی مدحت کو بنا دے جینے کا سبب میرے
اس کثرت سے کروں تیرا ذکر، رب ذوالجلال
بن جائیں قاری و ذاکر، خدایا لقب میرے
میں اپنے گناہوں پہ اور بھی نادم نظر آیا
گرے آنکھوں سے آنسو جب جب میرے
حمد یھ لکھی ہے بڑے دل سے میں نے
بنا دے خدایا اس کو بخشش کا سبب میرے Muhammad Moazzam Akhlaq
تو پاک ہے اور تیرے سامنے گناہ سب میرے
ہر شے سے بالا ہے، مالک دو جہاں ہے تو
تیرے مرتبے کے آگے، کیا منصب میرے
جذبہ حمد و ثناء کبھی نہ کم ہونے پائے
اپنی مدحت کو بنا دے جینے کا سبب میرے
اس کثرت سے کروں تیرا ذکر، رب ذوالجلال
بن جائیں قاری و ذاکر، خدایا لقب میرے
میں اپنے گناہوں پہ اور بھی نادم نظر آیا
گرے آنکھوں سے آنسو جب جب میرے
حمد یھ لکھی ہے بڑے دل سے میں نے
بنا دے خدایا اس کو بخشش کا سبب میرے Muhammad Moazzam Akhlaq
آمنہ کے گھر میں ہر سمت روشنی چھا رہی ہے آمنہ کے گھر میں
قدرت اپنا کرشمہ دکھا رہی ہے آمنہ کے گھر میں
کسی اور کا کیا کہیے کہ جب ذات الھ خود بھی
خوشیاں منا رہی ہے، آمنہ کے گھر میں
جن و انس، ماہ و انجم سب ہی وجد میں ہیں
ملائک کی جان آرہی ہے، آمنہ کے گھر میں
مانگتے آئے ہر دور میں انبیاء جو دیکھو
دعا وہ رنگ لا رہی ہے آمنہ کے گھر میں
حلیمہ سے کہہ رہے ہیں یہ حور و ملائک
تیری قسمت مسکا رہی ہے آمنہ کے گھر میں
جو وجہ کائنات ہے جو ہے فخر موجودات
وہ ذات ارفع آرہی ہے آمنہ کے گھر میں Muhammad Moazzam Akhlaq
قدرت اپنا کرشمہ دکھا رہی ہے آمنہ کے گھر میں
کسی اور کا کیا کہیے کہ جب ذات الھ خود بھی
خوشیاں منا رہی ہے، آمنہ کے گھر میں
جن و انس، ماہ و انجم سب ہی وجد میں ہیں
ملائک کی جان آرہی ہے، آمنہ کے گھر میں
مانگتے آئے ہر دور میں انبیاء جو دیکھو
دعا وہ رنگ لا رہی ہے آمنہ کے گھر میں
حلیمہ سے کہہ رہے ہیں یہ حور و ملائک
تیری قسمت مسکا رہی ہے آمنہ کے گھر میں
جو وجہ کائنات ہے جو ہے فخر موجودات
وہ ذات ارفع آرہی ہے آمنہ کے گھر میں Muhammad Moazzam Akhlaq
خواہشوں کے بھنور اپنے خواہشوں کے بھنور
اپنے گرد لپیٹے
دور ساگر کے اس پار
ڈوبتے سورج کی آخری کرن کو
اپنی منزل سمجھ بیٹھی ہوں
مگر یہ کیا
یہ آخری کرن بھی میری نظروں سے
اوجھل ہوگئی
اور پھر
نئی منزل کی تلاش میں
رات بھر خواب
آنکھوں میں سجائے
یھ سوچتی رہی
کہ ان طویل مسافتوں میں
آخر کب تک
میں تنہا چلوں گی
مگر
یہ یقیں ہے مجھے
کہ روشنی ہی میری منزل ہے
دیکھو
سورج کی پہلی کرن کو
پھر ایک امید
لے کے آئی ہے
شاید
یہی میری منزل ہے
مگر یہ کیا
اس قدر روشنی؟
میری آنکھوں میں اندھیرا کیوں چھا گیا
میری منزل
میری نظروں سے اوجھل کیوں ہوگئی؟
یہ زندگی
اس قدر بوجھل کیوں ہوگئی
آخر
اس خواہشوں کے جزیرے میں
کنارہ کیوں نہیں ہوتا؟
ہم جسے چاہتے ہیں
ہمارا کیوں نہیں ہوتا؟
آسماں کی بلندیوں میں
زمیں کی گہرائیوں میں
میں ڈھونڈ رہی ہوں جس کو
خود اپنی تنہائیوں میں
اک پرچھائی سی ہے
جو میری پہنچ سے
بہت دور ہے
میں
کسی کو دوش کیوں دوں
ہر کوئی اس جہاں میں
بہت مجبور ہے Muhammad Moazzam Akhlaq
اپنے گرد لپیٹے
دور ساگر کے اس پار
ڈوبتے سورج کی آخری کرن کو
اپنی منزل سمجھ بیٹھی ہوں
مگر یہ کیا
یہ آخری کرن بھی میری نظروں سے
اوجھل ہوگئی
اور پھر
نئی منزل کی تلاش میں
رات بھر خواب
آنکھوں میں سجائے
یھ سوچتی رہی
کہ ان طویل مسافتوں میں
آخر کب تک
میں تنہا چلوں گی
مگر
یہ یقیں ہے مجھے
کہ روشنی ہی میری منزل ہے
دیکھو
سورج کی پہلی کرن کو
پھر ایک امید
لے کے آئی ہے
شاید
یہی میری منزل ہے
مگر یہ کیا
اس قدر روشنی؟
میری آنکھوں میں اندھیرا کیوں چھا گیا
میری منزل
میری نظروں سے اوجھل کیوں ہوگئی؟
یہ زندگی
اس قدر بوجھل کیوں ہوگئی
آخر
اس خواہشوں کے جزیرے میں
کنارہ کیوں نہیں ہوتا؟
ہم جسے چاہتے ہیں
ہمارا کیوں نہیں ہوتا؟
آسماں کی بلندیوں میں
زمیں کی گہرائیوں میں
میں ڈھونڈ رہی ہوں جس کو
خود اپنی تنہائیوں میں
اک پرچھائی سی ہے
جو میری پہنچ سے
بہت دور ہے
میں
کسی کو دوش کیوں دوں
ہر کوئی اس جہاں میں
بہت مجبور ہے Muhammad Moazzam Akhlaq
اگر ہم چاہیں یہ لڑائی آپس کی نہیں، ماجرا ہے کچھ اور
کہ جل رہے ہیں کراچی، پشاور اور لاھور
خودکش ہوں دھماکے یا ڈرون کے ہوں بم
مرتے تو اپنے ہی ہیں، پنڈی ہو یا باجوڑ
جان لے یہ اچھی طرح گر ہے کوئی دشمن
اس ملک کے ہیں رکھوالے ، سترہ کروڑ
ہم اپنی شرافت کے اور دین کے ہیں پابند
سن لیں ہمارے دشمن، ہم نھیں ہیں کمزور
ماضی کی طرح پھر سے دیکھے گی یہ دنیا
ہم ہی سنبھالیں گے زمانے کی باگ دوڑ
بس ایک التجا ہے میری، گر ہے تو مسلمان
تھام لے دین کی رسی، سنتوں کو نہ چھوڑ Muhammad Moazzam Akhlaq
کہ جل رہے ہیں کراچی، پشاور اور لاھور
خودکش ہوں دھماکے یا ڈرون کے ہوں بم
مرتے تو اپنے ہی ہیں، پنڈی ہو یا باجوڑ
جان لے یہ اچھی طرح گر ہے کوئی دشمن
اس ملک کے ہیں رکھوالے ، سترہ کروڑ
ہم اپنی شرافت کے اور دین کے ہیں پابند
سن لیں ہمارے دشمن، ہم نھیں ہیں کمزور
ماضی کی طرح پھر سے دیکھے گی یہ دنیا
ہم ہی سنبھالیں گے زمانے کی باگ دوڑ
بس ایک التجا ہے میری، گر ہے تو مسلمان
تھام لے دین کی رسی، سنتوں کو نہ چھوڑ Muhammad Moazzam Akhlaq
میری سرزمیں کیا وحشت ہے کہ سشہر و بستیاں ہیں ویراں
لاشے بھتیرے ہیں اور کمیاب ہیں انساں
خوں اسقدر ہے پھیلا ہر سو کہ اب تو
چرند و پرند بھی ہیں جیسے انگشت بدنداں
وُہ لاچاری کہ نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن
ذہن ماؤف، جسم ساکت، آنکھیں ویراں
کرتا ہے فصیل شہر سے قاضی یہ منا دی
ہے جاں عزیز تو کوئی بھی نہ آئے یہاں
اس قدر لاشے پڑے ہیں مرے گرد و نواح میں
کوئی دیکھے اگر مجھے تو ہو قاتل کا گماں
بارود کے دھویں میں کوئی سمت ملتی
شش و پنج میں ہیں جو بچ گئے ہیں جواں
ہاں کرتا تھا کبھی دل افروز شاعری معطم
چھین لیا حالت شہر نے اسکا حسن بیاں Muhammad Moazzam Akhlaq
لاشے بھتیرے ہیں اور کمیاب ہیں انساں
خوں اسقدر ہے پھیلا ہر سو کہ اب تو
چرند و پرند بھی ہیں جیسے انگشت بدنداں
وُہ لاچاری کہ نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن
ذہن ماؤف، جسم ساکت، آنکھیں ویراں
کرتا ہے فصیل شہر سے قاضی یہ منا دی
ہے جاں عزیز تو کوئی بھی نہ آئے یہاں
اس قدر لاشے پڑے ہیں مرے گرد و نواح میں
کوئی دیکھے اگر مجھے تو ہو قاتل کا گماں
بارود کے دھویں میں کوئی سمت ملتی
شش و پنج میں ہیں جو بچ گئے ہیں جواں
ہاں کرتا تھا کبھی دل افروز شاعری معطم
چھین لیا حالت شہر نے اسکا حسن بیاں Muhammad Moazzam Akhlaq
ہماری حالت زار دل کشادہ ہیں لوگوں کے مگر جیب خالی ہے
بادشاہ قارون ہے مگر قوم سوالی ہے
کس پہ بھروسا کریں کہ سیاست میں یہاں
ہر شخص فریبی ہے ہر شکل جعلی ہے
کیا معلوم کہ مکر جائیں کب وعدوں سے یہ
سیاست گروں کی یہاں ہر ادا نرالی ہے
قوم ہے کہ دو وقت کی روٹی کو ترسے
حکومت ہے کہ دولت کی حواری ہے
ہم ہی تو ہیں کہ جس نے چنا ہے انہیں
ہم نے ہی تو خود پہ یہ قضا اتاری ہے
جس قوپ نے نہیں بدلی خود اپنی تقدیر
کب اس قوم کی اﷲ نے قسمت سنواری ہے
جان چکے پرکھ چکے کئی بار تم ان کو
اٹھو کہ اس بار باری تمہاری ہے Muhammad Moazzam Akhlaq
بادشاہ قارون ہے مگر قوم سوالی ہے
کس پہ بھروسا کریں کہ سیاست میں یہاں
ہر شخص فریبی ہے ہر شکل جعلی ہے
کیا معلوم کہ مکر جائیں کب وعدوں سے یہ
سیاست گروں کی یہاں ہر ادا نرالی ہے
قوم ہے کہ دو وقت کی روٹی کو ترسے
حکومت ہے کہ دولت کی حواری ہے
ہم ہی تو ہیں کہ جس نے چنا ہے انہیں
ہم نے ہی تو خود پہ یہ قضا اتاری ہے
جس قوپ نے نہیں بدلی خود اپنی تقدیر
کب اس قوم کی اﷲ نے قسمت سنواری ہے
جان چکے پرکھ چکے کئی بار تم ان کو
اٹھو کہ اس بار باری تمہاری ہے Muhammad Moazzam Akhlaq
مجھے بھی جینا آگیا دل شمع وصال جیسا بجھ سا رہا ہے
ذہن تیری یادوں میں الجھ سا رہا ہے
تیری قربت میں کبھی احساس ہی نا ہوا
کہ مجھ میں بھی کبھی کوئی مجھ سا رہا ہے
وقت رفتہ نے یہ بھی بھلا دیا کہ سنگ میرے
وقت گزشتہ میں کوئی تجھ سا رہا ہے
یہ بے جان جسم، کسی بستی میں گم ہوگیا
دل دو نیم بھی رنگ دنیا سمجھ سا رہا ہے
آج دیکھ کے تجھے اک امیر ذادے کیساتھ
تیری بیوفائی کا معمہ سلجھ سا رہا ہے
یہ کیسی رت آئی ہے پھر پیار کی اے لوگوں
کہ معظم پھر کسی کے لیے سج دھج سا رہا ہے Muhammad Moazzam Akhlaq
ذہن تیری یادوں میں الجھ سا رہا ہے
تیری قربت میں کبھی احساس ہی نا ہوا
کہ مجھ میں بھی کبھی کوئی مجھ سا رہا ہے
وقت رفتہ نے یہ بھی بھلا دیا کہ سنگ میرے
وقت گزشتہ میں کوئی تجھ سا رہا ہے
یہ بے جان جسم، کسی بستی میں گم ہوگیا
دل دو نیم بھی رنگ دنیا سمجھ سا رہا ہے
آج دیکھ کے تجھے اک امیر ذادے کیساتھ
تیری بیوفائی کا معمہ سلجھ سا رہا ہے
یہ کیسی رت آئی ہے پھر پیار کی اے لوگوں
کہ معظم پھر کسی کے لیے سج دھج سا رہا ہے Muhammad Moazzam Akhlaq
خواب حقیقت کے اساس ہوتے ہیں یہ خواب ہی تو ہیں جو جاگیر ہیں ہماری
کہیں یہ ٹوٹ نہ جائیں کہ توقیر ہیں ہماری
ہر خواب کو روزن وقت پہ اٹھا رکھنا لوگو
یہ نسل آئندہ کے لیے تعبیر ہیں ہماری
رہو جس حال میں تم، بلند اپنا کردار رکھنا
چبھتی نظر ہو یا اٹھتی انگلی، تحقیر ہیں ہماری
جذبہ ایماں سے سرشار ہیں قلب ہمارے
مت دیکھو کہ کمانیں بے تیر ہیں ہماری
نکلیں گے فتحیاب ہر معرکے سے دیکھنا
فتح وکامرانی جان لو، تقدیر ہیں ہماری
بخشو قوت ایماں کو اپنے، تھامے رہو قرآن
مشکل گھڑی میں بس یہ ہی تدبیر ہیں ہماری
ہو بزم یاراں تو جان بھی نچھاور کردیں
دشمن کے لیے نظریں بھی شمشیر ہیں ہماری Muhammad Moazzam Akhlaq
کہیں یہ ٹوٹ نہ جائیں کہ توقیر ہیں ہماری
ہر خواب کو روزن وقت پہ اٹھا رکھنا لوگو
یہ نسل آئندہ کے لیے تعبیر ہیں ہماری
رہو جس حال میں تم، بلند اپنا کردار رکھنا
چبھتی نظر ہو یا اٹھتی انگلی، تحقیر ہیں ہماری
جذبہ ایماں سے سرشار ہیں قلب ہمارے
مت دیکھو کہ کمانیں بے تیر ہیں ہماری
نکلیں گے فتحیاب ہر معرکے سے دیکھنا
فتح وکامرانی جان لو، تقدیر ہیں ہماری
بخشو قوت ایماں کو اپنے، تھامے رہو قرآن
مشکل گھڑی میں بس یہ ہی تدبیر ہیں ہماری
ہو بزم یاراں تو جان بھی نچھاور کردیں
دشمن کے لیے نظریں بھی شمشیر ہیں ہماری Muhammad Moazzam Akhlaq
آؤ مپں تم کو اپنی رویداد سناؤں اک چھوٹی سی ملاقات کا فسانہ بنا دیا
اک شخص ملا مجھ کو اور دیوانہ بنا دیا
ایسا خمار تو پہلے کبھی بھی نہ تھا
اسکے ہاتھ نے اک جام کو میخانہ بنا دیا
جو کل کیا تھا ہم نے اب سامنے ہے آیا
نئی نسل نے ہم کو پرانا بنا دیا
وقت نے پھر سے ایکبار وہی چال چلی
جو کل تلک تھا اپنا اسے بیگانہ بنا دیا
تیری سادگی نے پھر سے تجھ کو اے معظم
زمانے کی سازشوں کا نشانہ بنا دیا Muhammad Moazzam Akhlaq
اک شخص ملا مجھ کو اور دیوانہ بنا دیا
ایسا خمار تو پہلے کبھی بھی نہ تھا
اسکے ہاتھ نے اک جام کو میخانہ بنا دیا
جو کل کیا تھا ہم نے اب سامنے ہے آیا
نئی نسل نے ہم کو پرانا بنا دیا
وقت نے پھر سے ایکبار وہی چال چلی
جو کل تلک تھا اپنا اسے بیگانہ بنا دیا
تیری سادگی نے پھر سے تجھ کو اے معظم
زمانے کی سازشوں کا نشانہ بنا دیا Muhammad Moazzam Akhlaq