میری سرزمیں

Poet: Muhammad Moazzam Akhlaq By: Muhammad Moazzam Akhlaq, Kuwait

کیا وحشت ہے کہ سشہر و بستیاں ہیں ویراں
لاشے بھتیرے ہیں اور کمیاب ہیں انساں

خوں اسقدر ہے پھیلا ہر سو کہ اب تو
چرند و پرند بھی ہیں جیسے انگشت بدنداں

وُہ لاچاری کہ نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن
ذہن ماؤف، جسم ساکت، آنکھیں ویراں

کرتا ہے فصیل شہر سے قاضی یہ منا دی
ہے جاں عزیز تو کوئی بھی نہ آئے یہاں

اس قدر لاشے پڑے ہیں مرے گرد و نواح میں
کوئی دیکھے اگر مجھے تو ہو قاتل کا گماں

بارود کے دھویں میں کوئی سمت ملتی
شش و پنج میں ہیں جو بچ گئے ہیں جواں

ہاں کرتا تھا کبھی دل افروز شاعری معطم
چھین لیا حالت شہر نے اسکا حسن بیاں

Rate it:
Views: 531
17 Mar, 2010
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL