[email protected]
Poet: رشید حسرتؔ By: رشید حسرتؔ, Quettaہؤا کچھ نہیں، کِیا کچھ نہیں، مری زندگی ہی اجاڑ تھی
جو قریں رہا، وہی جل گیا، کہ یہ آتشیں کوئی باڑ تھی
مجھے بے سبب یہ گلہ رہا، کوئی میرے شعر سراہتا
یہ کبھی سمجھ میں نہ آ سکی، مری شاعری بھی تو ناڑ تھی
مرے سر پہ سایہ رہا نہیں، مجھےتلخیوں نے جلا دیا
کبھی پیش آئیں رکاوٹیں، مجھے ماں کی پیاری سی آڑ تھی
مجھے اس گلی کا جنون تھا، وہ جنون میرا سکون تھا
وہ جو اک ذرا سی تھی جھونپڑی، وہی جھونپڑی مرا ماڑ تھی
جو چمٹ کے ذہن سے رہ گئیں، نہ بھلا سکا ہوں میں آج تک
وہ تری کمال کی شوخیاں، کبھی جھانک تھی، کبھی تاڑ تھی
مری روح میں بھری روشنی، مجھے چاند جیسا بنا گئی
مجھے آشنائی کے گُر دیئے، تری ذات ہی مِرا جھاڑ تھی
یہ رشیدؔ بھاگ کی بات ہے، یہ ملا، وہ مجھ سے بچھڑ گیا
کبھی راحتوں کا بنی سبب، کبھی زیست میرے کو چاڑ تھی
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






