Poetries by Sadeed Masood
بہار پھول دیکھےتو ہم کو یاد آیا
وہ زمانہ بھی کیا زمانہ تھا
جس زمانے میں خواب زندہ تھے
جس زمانے میں جوش باقی تھا
پھول رکھتے تھے ہم کتابوں میں
تیری خوشبو تھی ان گلابوں میں
تیری یادوں میں دن گزر جاتا
تیری سوچوں میں رات ڈھل جاتی
تیرے جانے سے دم نکل جاتا
تیرے آنے سے جان آ جاتی
ہم کو کتنا تھا زعم بدلیں گے
اس مقدر کی الٹی ریکھا کو
دودھ کی نہر گر ضروری ہو
تیری خاطر نکال لائیں گے
تارے توڑیں گے ہم بھی عرشوں کے
چاند کو بھی اتار لائیں گے
وہ زمانہ بھی کیا زمانہ تھا
جس زمانے میں خواب زندہ تھے
جس زمانے کے دھندلے شیشےسے
اب تو کچھ بھی نظر نہیں آتا
خاک اڑتی ہے روتی یادوں کی
آہیں باقی ہیں اجڑے چہروں کی Sadeed Masood
وہ زمانہ بھی کیا زمانہ تھا
جس زمانے میں خواب زندہ تھے
جس زمانے میں جوش باقی تھا
پھول رکھتے تھے ہم کتابوں میں
تیری خوشبو تھی ان گلابوں میں
تیری یادوں میں دن گزر جاتا
تیری سوچوں میں رات ڈھل جاتی
تیرے جانے سے دم نکل جاتا
تیرے آنے سے جان آ جاتی
ہم کو کتنا تھا زعم بدلیں گے
اس مقدر کی الٹی ریکھا کو
دودھ کی نہر گر ضروری ہو
تیری خاطر نکال لائیں گے
تارے توڑیں گے ہم بھی عرشوں کے
چاند کو بھی اتار لائیں گے
وہ زمانہ بھی کیا زمانہ تھا
جس زمانے میں خواب زندہ تھے
جس زمانے کے دھندلے شیشےسے
اب تو کچھ بھی نظر نہیں آتا
خاک اڑتی ہے روتی یادوں کی
آہیں باقی ہیں اجڑے چہروں کی Sadeed Masood
کیسی ھوا چلی نہ وہ رت رھی نہ وہ گل رھے نہ ھوا رھی نہ صبا رھی
نہ وہ قمریاں نہ وہ چہچہے نہ وہ بلبلوں کی نوا رھی
وہ جو نور تھا وہ چلا گیا تو چراغ دل کا بجھا گیا
نہ وہ بے کلی میں مزا رھا نہ وہ تیرگی میں ضیا رھی
میری ھر زمیں ھے لہو لہو میرا ھر چمن بھی ھے بے نمو
نہ وہ کونپلیں نہ وہ ٹہنیاں نہ وہ موسموں کی ادا رھی
نہ وہ عشق ھے نہ وہ شوق ھے نہ وہ دار ھے نہ وہ ذوق ھے
نہ وہ سر رھا نہ سزا رھی نہ علم رھا نہ وقا رھی
وھی شھر تھا کہ نہ کچھ رھا اے سدید کیسی ھوا چلی
نہ وہ شھر ھے نہ وہ لوگ ھیں نہ ردا رھی نہ قبا رھی sadeed Masood
نہ وہ قمریاں نہ وہ چہچہے نہ وہ بلبلوں کی نوا رھی
وہ جو نور تھا وہ چلا گیا تو چراغ دل کا بجھا گیا
نہ وہ بے کلی میں مزا رھا نہ وہ تیرگی میں ضیا رھی
میری ھر زمیں ھے لہو لہو میرا ھر چمن بھی ھے بے نمو
نہ وہ کونپلیں نہ وہ ٹہنیاں نہ وہ موسموں کی ادا رھی
نہ وہ عشق ھے نہ وہ شوق ھے نہ وہ دار ھے نہ وہ ذوق ھے
نہ وہ سر رھا نہ سزا رھی نہ علم رھا نہ وقا رھی
وھی شھر تھا کہ نہ کچھ رھا اے سدید کیسی ھوا چلی
نہ وہ شھر ھے نہ وہ لوگ ھیں نہ ردا رھی نہ قبا رھی sadeed Masood
چلو آؤ نہ پھر اک سوال کریں چلو آؤ نہ پھر اک سوال کریں
چلو آؤ نہ پھر اک کمال کریں
ہم نے سنا ہے جواب دیتا ہے
وہ فطرت کے ہر قرینے سے
وہ جس کی آنکھوں سے فیض جاری ہے
وہ جو بادہ و جام رکھتا ہے
وہ جو رندوں سے کام رکھتا ہے
وہ جس کے ہونٹوں کی سرخ مستی نے
عارض گل کو سیراب کر ڈالا
پھول تھا وہ گلاب کر ڈالا
وہ جس کی آنکھوں کی سحر سازی نے
زندگی کو چراغ کر ڈالا
بے بسی کو عذاب کر ڈالا
وہ جس کی آنکھوں کے اک اشارے سے
دل ویراں قرار پا جائے
زندگی کی بہار پا جائے
سوال سارے میں لے کے پہنچا تو
سوال سارے بکھر بکھر سے گئے
اس نے دیکھا جو پیار سے مجھ شکو
جواب سارے میں پا گیا جیسے
فریب سارے میں کھا گیا جیسے Sadeed Masood
چلو آؤ نہ پھر اک کمال کریں
ہم نے سنا ہے جواب دیتا ہے
وہ فطرت کے ہر قرینے سے
وہ جس کی آنکھوں سے فیض جاری ہے
وہ جو بادہ و جام رکھتا ہے
وہ جو رندوں سے کام رکھتا ہے
وہ جس کے ہونٹوں کی سرخ مستی نے
عارض گل کو سیراب کر ڈالا
پھول تھا وہ گلاب کر ڈالا
وہ جس کی آنکھوں کی سحر سازی نے
زندگی کو چراغ کر ڈالا
بے بسی کو عذاب کر ڈالا
وہ جس کی آنکھوں کے اک اشارے سے
دل ویراں قرار پا جائے
زندگی کی بہار پا جائے
سوال سارے میں لے کے پہنچا تو
سوال سارے بکھر بکھر سے گئے
اس نے دیکھا جو پیار سے مجھ شکو
جواب سارے میں پا گیا جیسے
فریب سارے میں کھا گیا جیسے Sadeed Masood
پیار ہو جس کی خطا کیا ہوگا پیار ہو جس کی خطا کیا ہوگا
زہر ہو جس کی دوا کیا ہوگا
جس کی تقصیر محبت نکلے
اسکا دنیا میں بھلا کیا ہوگا
مجھ کو اپنوں نے دیا ہے دھوکا
مجھ کو غیروں سے گلہ کیا ہوگا
دل جلایا ہے چراغوں کی جگہ
اب اندھیروں سے گلہ کیا ہوگا
اب تو آنکھوں میں ہیں آنسو نہ لہو
اے شب ہجر تیرا کیا ہو گا
مانگنا اس کے سوا کیا ہے سدید
مجھ کو بھولی ہے دعا کیا ہوگا Sadeed Masood
زہر ہو جس کی دوا کیا ہوگا
جس کی تقصیر محبت نکلے
اسکا دنیا میں بھلا کیا ہوگا
مجھ کو اپنوں نے دیا ہے دھوکا
مجھ کو غیروں سے گلہ کیا ہوگا
دل جلایا ہے چراغوں کی جگہ
اب اندھیروں سے گلہ کیا ہوگا
اب تو آنکھوں میں ہیں آنسو نہ لہو
اے شب ہجر تیرا کیا ہو گا
مانگنا اس کے سوا کیا ہے سدید
مجھ کو بھولی ہے دعا کیا ہوگا Sadeed Masood
ڈر لگتا ہے اس کو بھی شہنائی سے ڈر لگتا ہے اس کو بھی شہنائی سے
پیار کیا تھا اس نے بھی ہرجائی سے
اس کے بھی اب دل میں درد سا اٹھتا ہے
وحشت ہے اب اس کو بھی تنہائی سے
ڈوھونڈ رہا ہے جھوٹی دنیا میں خود کو
پیار بڑا تھا اس کو بھی سچائی سے
عشق سمندر ہے گہرا وہ کہتا تھا
لوٹ کے آنا مشکل ہے گہرائی سے
ایک ہنر میں یکتا ہے وہ مجھ سے بھی
باتیں جھوٹی کرتا ہے دانائی سے
مجرم ہم وہ منصف ہے کیا بات کریں
خاموشی اب بہتر ہے گویائی سے
عشق سدید فقط بدنام نہیں کرتا
شہرت ہم کو بڑھ کے ملی رسوائی سے sadeed Masood
پیار کیا تھا اس نے بھی ہرجائی سے
اس کے بھی اب دل میں درد سا اٹھتا ہے
وحشت ہے اب اس کو بھی تنہائی سے
ڈوھونڈ رہا ہے جھوٹی دنیا میں خود کو
پیار بڑا تھا اس کو بھی سچائی سے
عشق سمندر ہے گہرا وہ کہتا تھا
لوٹ کے آنا مشکل ہے گہرائی سے
ایک ہنر میں یکتا ہے وہ مجھ سے بھی
باتیں جھوٹی کرتا ہے دانائی سے
مجرم ہم وہ منصف ہے کیا بات کریں
خاموشی اب بہتر ہے گویائی سے
عشق سدید فقط بدنام نہیں کرتا
شہرت ہم کو بڑھ کے ملی رسوائی سے sadeed Masood
دیپ دل کا بجھا جلانا منزلوں کی آرزو میں
شکستہ پائی عذاب ہوگی
سراب زاروں میں جب چلو گے
یہ گرد راہ ہی رفیق ہو گی
ویران ہوگی یہ راہ ہستی
خیال سارے بکھر چکیں گے
وہ پھول زاروں کے سارے موسم
وہ عیش راتوں کے سارے سپنے
وہ دوستی کے پرانے بندھن
کہیں سے تم کو صدا نہ دیں گے
چراغ سارے بجھے رہیں گے
تاریک راہوں پہ جب چلو گے
کٹھن ہے راہ وفا پہ چلنا
کہ جان و دل بھی گنوا کے چلنا
چراغ حق کا نشان پانا
یہ دیپ دل کا بجھا جلانا sadeed Masood
شکستہ پائی عذاب ہوگی
سراب زاروں میں جب چلو گے
یہ گرد راہ ہی رفیق ہو گی
ویران ہوگی یہ راہ ہستی
خیال سارے بکھر چکیں گے
وہ پھول زاروں کے سارے موسم
وہ عیش راتوں کے سارے سپنے
وہ دوستی کے پرانے بندھن
کہیں سے تم کو صدا نہ دیں گے
چراغ سارے بجھے رہیں گے
تاریک راہوں پہ جب چلو گے
کٹھن ہے راہ وفا پہ چلنا
کہ جان و دل بھی گنوا کے چلنا
چراغ حق کا نشان پانا
یہ دیپ دل کا بجھا جلانا sadeed Masood
ساون کی برساتوں میں ساون کی برساتوں میں پیڑ ہجر کے سوکھے تھے
کیسے تیز ہوائی تھیں کیسے بادل برسے تھے
کیسا اچھا دن تھا وہ جانے کس کی میت تھی
میں نے شہر کے سارے لوگ اک مرکز پہ دیکھے تھے
میرے شہر میں بسنے والی ساری خلقت پیاسی تھے
میرے شہر سے تھوڑی دور گرچہ دریا بہتے تھے
ہوش میں آتے آتے ہم کو سارا جیون بیت گیا
لفظ تھے جدائی کے خط میں اس نے لکھے تھے
سدید ہم نے دیکھی ہے جس کو دنیا کہتے ہیں
گداگروں کی بستی تھی سب کے ہاتھ میں کاسے تھے Sadeed Masood
کیسے تیز ہوائی تھیں کیسے بادل برسے تھے
کیسا اچھا دن تھا وہ جانے کس کی میت تھی
میں نے شہر کے سارے لوگ اک مرکز پہ دیکھے تھے
میرے شہر میں بسنے والی ساری خلقت پیاسی تھے
میرے شہر سے تھوڑی دور گرچہ دریا بہتے تھے
ہوش میں آتے آتے ہم کو سارا جیون بیت گیا
لفظ تھے جدائی کے خط میں اس نے لکھے تھے
سدید ہم نے دیکھی ہے جس کو دنیا کہتے ہیں
گداگروں کی بستی تھی سب کے ہاتھ میں کاسے تھے Sadeed Masood
میں بھٹو ہون میں زندہ ہوں تم برسوں مجھ کو سوچو گے
ہر ظلمت کی تاریکی میں
میں تیری سوچ کا محور ہوں
میں ایک سحر کا قصہ ہوں
میں بھٹو ہوں میں زندہ ہوں
میں زندانوں کو توڑ گیا
اور دھبے خون کے چھوٹ گیا
جو میرے خون سے اٹھا ہے
میں اس طوفان کا حصہ ہوں
میں بھٹو ہوں میں زندہ ہوں
ہر ظالم کے درباروں میں
پر قاتل کی یلغاروں میں
جاؤ دیکھو دار کے پھندوں پر
میں نور حق کا نعرہ ہوں
میں بھٹو ہوں میں زندہ ہوں
تم سر مانگو میں سر دوں گا
کئی بھٹو اب بھی باقی ہیں
یہ سنت میرے گھر کی ہے
میں حق کی خاطر کٹتا ہوں
میں بھٹو ہوں میں زندہ ہوں
تم قبریں گنتے جاؤ گے
اور آخر میں پچھتاؤ گے
یہ دیواریں بھی بولیں گی
میں مظلوموں کا نوحہ ہوں
میں بھٹو ہوں میں زندہ ہوں Sadeed Masood
ہر ظلمت کی تاریکی میں
میں تیری سوچ کا محور ہوں
میں ایک سحر کا قصہ ہوں
میں بھٹو ہوں میں زندہ ہوں
میں زندانوں کو توڑ گیا
اور دھبے خون کے چھوٹ گیا
جو میرے خون سے اٹھا ہے
میں اس طوفان کا حصہ ہوں
میں بھٹو ہوں میں زندہ ہوں
ہر ظالم کے درباروں میں
پر قاتل کی یلغاروں میں
جاؤ دیکھو دار کے پھندوں پر
میں نور حق کا نعرہ ہوں
میں بھٹو ہوں میں زندہ ہوں
تم سر مانگو میں سر دوں گا
کئی بھٹو اب بھی باقی ہیں
یہ سنت میرے گھر کی ہے
میں حق کی خاطر کٹتا ہوں
میں بھٹو ہوں میں زندہ ہوں
تم قبریں گنتے جاؤ گے
اور آخر میں پچھتاؤ گے
یہ دیواریں بھی بولیں گی
میں مظلوموں کا نوحہ ہوں
میں بھٹو ہوں میں زندہ ہوں Sadeed Masood
لو رات ہجر کی بیت گئی لو رات ہجر کی بیت گئی
ہم روتے روتے سو ہی گئے
کچھ اشکوں کی برسات رہی
کچھ یادوں کی سوغات رہی
کچھ باتیں گزرے لمحوں کی
کچھ چہرے دھندلے دھندلے سے
کچھ اپنوں کی تصویروں نے
کچھ زخموں کی زنجیروں نے
کچھ ٹیسوں کی جھنکاروں نے
پھر یوں ہم کو بے حال کیا
کہ سانس بھی لینا محال کیا
لو رات ہجر کی بیت گئی
ہم روتے روتے سو ہی گئے Sadeed Masood
ہم روتے روتے سو ہی گئے
کچھ اشکوں کی برسات رہی
کچھ یادوں کی سوغات رہی
کچھ باتیں گزرے لمحوں کی
کچھ چہرے دھندلے دھندلے سے
کچھ اپنوں کی تصویروں نے
کچھ زخموں کی زنجیروں نے
کچھ ٹیسوں کی جھنکاروں نے
پھر یوں ہم کو بے حال کیا
کہ سانس بھی لینا محال کیا
لو رات ہجر کی بیت گئی
ہم روتے روتے سو ہی گئے Sadeed Masood
پتھر دل ہیں سارے لوگ دل کی چیخیں سنتا کون پتھر دل ہیں سارے لوگ
دل کی بات سمجھتا کون پتھر دل ہیں سارے لوگ
ساحل پہ میں ڈوب رہا تھا لوگ تماشہ دیکھ رہے تھے
میرا ہاتھ پکڑتا کون پتھر دل ہیں سارے لوگ
خالی کمرے چیخ رہے ہیں کس کا رستہ دیکھ رہے ہیں
سونے گھر میں آتا کون پتھر دل ہیں سارے لوگ
رات اندھیری میں اکیلا یادوں کا تھا بھرتا میلہ
میرا دیپ جلاتا کون پتھر دل ہیں سارے لوگ
پھولوں کو مہکاتا کون آنچل کو لہراتا کون
تیری بات سناتا کون پتھر دل ہیں سارے لوگ
سدید ریا کی باتوں کو لوگ سند سے لکھتے ہیں
سچی بات سناتا کون پتھر دل ہیں سارے لوگ Sadeed Masood
دل کی بات سمجھتا کون پتھر دل ہیں سارے لوگ
ساحل پہ میں ڈوب رہا تھا لوگ تماشہ دیکھ رہے تھے
میرا ہاتھ پکڑتا کون پتھر دل ہیں سارے لوگ
خالی کمرے چیخ رہے ہیں کس کا رستہ دیکھ رہے ہیں
سونے گھر میں آتا کون پتھر دل ہیں سارے لوگ
رات اندھیری میں اکیلا یادوں کا تھا بھرتا میلہ
میرا دیپ جلاتا کون پتھر دل ہیں سارے لوگ
پھولوں کو مہکاتا کون آنچل کو لہراتا کون
تیری بات سناتا کون پتھر دل ہیں سارے لوگ
سدید ریا کی باتوں کو لوگ سند سے لکھتے ہیں
سچی بات سناتا کون پتھر دل ہیں سارے لوگ Sadeed Masood
٢٣مارچ کے حوالے سے دائم تیرے پرچم کو میں پھر چوم رہا ہوں
گزرے ہوئے لمحوں کی میں چوکھٹ پہ کھڑا ہوں
میں تجھ سے ہوں اے میرے وطن پیارے وطن
تیرا ہوں زمانے میں پرا ہوں یا بھلا ہوں
وہ رنگ ہے مجھ میں تیری اک یاد کا جادو
زمانہ یہ سمجھتا ہے زمانے سے جدا ہوں
واقف ہے زمانہ کہ میں ٹلتا ہی نہیں ہوں
اے میرے وطن میں تیری عظمت پہ فدا ہوں
پردیس کی آندھی بھی بجھا سکتی نہیں مجھ کو
اے میرے وطن میں تیری مٹی کا دیا ہوں Sadeed Masood
گزرے ہوئے لمحوں کی میں چوکھٹ پہ کھڑا ہوں
میں تجھ سے ہوں اے میرے وطن پیارے وطن
تیرا ہوں زمانے میں پرا ہوں یا بھلا ہوں
وہ رنگ ہے مجھ میں تیری اک یاد کا جادو
زمانہ یہ سمجھتا ہے زمانے سے جدا ہوں
واقف ہے زمانہ کہ میں ٹلتا ہی نہیں ہوں
اے میرے وطن میں تیری عظمت پہ فدا ہوں
پردیس کی آندھی بھی بجھا سکتی نہیں مجھ کو
اے میرے وطن میں تیری مٹی کا دیا ہوں Sadeed Masood
در و دیوار سے ڈر جاؤ گے در و دیوار سے ڈر جاؤ گے
اٹھ کے صحرا سے جو گھر جاؤ گے
در بدر پھر تو لیا سارا دن
ہو گئی رات کدھر جاؤ گے
شیشہ دل ہے شکستہ دیکھو
اب کے ٹوٹا تو بکھر جاؤ گے
میں تو ڈوبوں گا مگر ہم سفر
تم تو ساحل پہ اتر جاؤ گے
درد قائم ہے مگر زندہ ہوں
وہ تو کہتا تھا کہ مر جاؤ گے
عشق برباد کرے گا لیکن
ہو کے برباد سنور جاؤ گے
ہے سدید اس کا نگر رستے میں
اجنبی بن کے گزر جاؤ گے Sadeed Masood
اٹھ کے صحرا سے جو گھر جاؤ گے
در بدر پھر تو لیا سارا دن
ہو گئی رات کدھر جاؤ گے
شیشہ دل ہے شکستہ دیکھو
اب کے ٹوٹا تو بکھر جاؤ گے
میں تو ڈوبوں گا مگر ہم سفر
تم تو ساحل پہ اتر جاؤ گے
درد قائم ہے مگر زندہ ہوں
وہ تو کہتا تھا کہ مر جاؤ گے
عشق برباد کرے گا لیکن
ہو کے برباد سنور جاؤ گے
ہے سدید اس کا نگر رستے میں
اجنبی بن کے گزر جاؤ گے Sadeed Masood
ہاں میں غدار ہوں مجھ کو پھانسی چڑھا دو مٹا دو مجھے
قتل گاہوں میں زندہ جلا دو مجھے
میں ہوں منصور سولی چڑھا دو مجھے
اس سے بڑھ کر بھی ہے تو سزا دو مجھے
ہاں میں غدار ہوں ایسے جمہور کا
غم کے منشور کا کالے دستور کا
پتھروں کی طرح کیسے زندہ رہوں
ظلم سہتا رہوں منہ سے کچھ نہ کہوں
قتل انسان کی بات کیسے کروں
ایسے دستور کے ساتھ کیسے چلوں
ہاں میں غدار ہوں ایسے جمہور کا
غم کے منشور کا کالے دستور کا
مجھ کو مارا گیا مجھ کو پیٹا گیا
مجھ کو سڑکوں پہ جبرا گھسیٹا گیا
کیا خطا تھی میری کب یہ پوچھا گیا
مجھ کو باغی نصابوں میں لکھا گیا
ہاں میں غدار ہوں ایسے جمہور کا
غم کے منشور کا کالے دستور کا
پھول کلیوں کی چادر کہاں کھو گئی
باد ظلمت چمن میں یہ کیا بو گئی
موسم گل میں طاری خزاں ہو کئی
لاشہ گل پہ دیکھو صبا رو گئی
ہاں میں غدار ہوں ایسے جمہور کا
غم کے منشور کا کالے دستور کا Sadeed Masood
قتل گاہوں میں زندہ جلا دو مجھے
میں ہوں منصور سولی چڑھا دو مجھے
اس سے بڑھ کر بھی ہے تو سزا دو مجھے
ہاں میں غدار ہوں ایسے جمہور کا
غم کے منشور کا کالے دستور کا
پتھروں کی طرح کیسے زندہ رہوں
ظلم سہتا رہوں منہ سے کچھ نہ کہوں
قتل انسان کی بات کیسے کروں
ایسے دستور کے ساتھ کیسے چلوں
ہاں میں غدار ہوں ایسے جمہور کا
غم کے منشور کا کالے دستور کا
مجھ کو مارا گیا مجھ کو پیٹا گیا
مجھ کو سڑکوں پہ جبرا گھسیٹا گیا
کیا خطا تھی میری کب یہ پوچھا گیا
مجھ کو باغی نصابوں میں لکھا گیا
ہاں میں غدار ہوں ایسے جمہور کا
غم کے منشور کا کالے دستور کا
پھول کلیوں کی چادر کہاں کھو گئی
باد ظلمت چمن میں یہ کیا بو گئی
موسم گل میں طاری خزاں ہو کئی
لاشہ گل پہ دیکھو صبا رو گئی
ہاں میں غدار ہوں ایسے جمہور کا
غم کے منشور کا کالے دستور کا Sadeed Masood
خود کو اپنا رقیب دیکھا ہے خود کو اپنا رقیب دیکھا ہے
خواب کتنا عجیب دیکھا ہے
روز سولی سجائی جاتی ہے
روز چڑھتے غریب دیکھا ہے
کیوں نہ دیکھوں اداس چہروں کو
ان پہ لکھا نصیب دیکھا ہے
اب کہ دیکھو جنوں میں کیا گزرے
ایک سایہ مہیب دیکھا ہے
اب کہ دیکھو کہ جیت کس کی ہو
حق سے باطل قریب دیکھا ہے
ایک پاگل سدید تم جیسا
بنتے پھرتے ادیب دیکھا ہے Sadeed Masood
خواب کتنا عجیب دیکھا ہے
روز سولی سجائی جاتی ہے
روز چڑھتے غریب دیکھا ہے
کیوں نہ دیکھوں اداس چہروں کو
ان پہ لکھا نصیب دیکھا ہے
اب کہ دیکھو جنوں میں کیا گزرے
ایک سایہ مہیب دیکھا ہے
اب کہ دیکھو کہ جیت کس کی ہو
حق سے باطل قریب دیکھا ہے
ایک پاگل سدید تم جیسا
بنتے پھرتے ادیب دیکھا ہے Sadeed Masood