Poetries by sehrish zahid
ME AND MY DISEASE Listen to me o God the most beneficial the most gracious
Whatever is going with me is very ridiculous
I don't think anything in the world bad
That's why every one call me mad
Some of the world says me psychotic
And the other's used to say me schizophrenic
A few days before,i met a scholar
He said that you are suffering from bipolar
Why is everything going so different
I know that i am not so innocent
Change my life o God please
Because i want to get cure from this disease
O' Lord ,O' God ,bring me one day
That ARSALAN ARSALAN every one say sehrish zahid
Whatever is going with me is very ridiculous
I don't think anything in the world bad
That's why every one call me mad
Some of the world says me psychotic
And the other's used to say me schizophrenic
A few days before,i met a scholar
He said that you are suffering from bipolar
Why is everything going so different
I know that i am not so innocent
Change my life o God please
Because i want to get cure from this disease
O' Lord ,O' God ,bring me one day
That ARSALAN ARSALAN every one say sehrish zahid
احساس جرم سا لگتا ہے محبت کرنا احساس جرم سا لگتا ہے محبت کرنا
کتنا مشکل ہے تمہاری چاہت کرنا
ہاتھوں میں تھام کر ہاتھ تمہارا
کتنا مشکل ہے کسی کی امانت کرنا
جب ملوں تو نظر جھکا کر ملنا
کتنا مشکل ہے خود سے بغاوت کرنا
آرزو ہے تمہیں بھول جاؤں لیکن
کتنا مشکل ہے خود پر عنایت کرنا
تم با وفا ہو دنیا کہتی ہے لیکن
کتنا مشکل ہے مجھ سے روایت کرنا
اے خدا خلوص نیت کے باوجود
کتنا مشکل ہے دلوں پر حکومت کرنا
جس سفر میں نہ ہو تو میرا ہمسفر
کتنا مشکل ہے ایسی مسافت کرنا
جس درخت پر ہو پیلے پتوں کا بسیرا
کتنا مشکل ہے اس کی خفاظت کرنا
یہ دنیا اور اس کی فرسودہ روایات
کتنا مشکل ہے ان کو ملامت کرنا
کس قدر مصائب جھیلے ہیں میں نے
کتنا مشکل ہے تم سے شکایت کرنا
یہ تعظیم محبت کیسی ہے سحر
کتنا مشکل ہے تم سے وضاحت کرنا sehrish zahid
کتنا مشکل ہے تمہاری چاہت کرنا
ہاتھوں میں تھام کر ہاتھ تمہارا
کتنا مشکل ہے کسی کی امانت کرنا
جب ملوں تو نظر جھکا کر ملنا
کتنا مشکل ہے خود سے بغاوت کرنا
آرزو ہے تمہیں بھول جاؤں لیکن
کتنا مشکل ہے خود پر عنایت کرنا
تم با وفا ہو دنیا کہتی ہے لیکن
کتنا مشکل ہے مجھ سے روایت کرنا
اے خدا خلوص نیت کے باوجود
کتنا مشکل ہے دلوں پر حکومت کرنا
جس سفر میں نہ ہو تو میرا ہمسفر
کتنا مشکل ہے ایسی مسافت کرنا
جس درخت پر ہو پیلے پتوں کا بسیرا
کتنا مشکل ہے اس کی خفاظت کرنا
یہ دنیا اور اس کی فرسودہ روایات
کتنا مشکل ہے ان کو ملامت کرنا
کس قدر مصائب جھیلے ہیں میں نے
کتنا مشکل ہے تم سے شکایت کرنا
یہ تعظیم محبت کیسی ہے سحر
کتنا مشکل ہے تم سے وضاحت کرنا sehrish zahid
احساس جرم سالگتاہےمحبت کرنا احساس جرم سالگتاہےمحبت کرنا
کتنا مشکل ہےتمہاری چاہت کرنا
ہاتھوں میں تھام کر ہاتھ تمہارا
کتنا مشکل ہے کسی کی امانت کرنا
جب ملوں تو نظر جھکا کرملنا
کتنا مشکل ہےخودسےبغاوت کرنا
آرزوہے تمہیں بھول جاؤں لیکن
کتنا مشکل ہے خود پرعنایت کرنا
تم باوفا ہویہ دنیاکہتی ہے لیکن
کتنا مشکل ہےمجھ سےروایت کرنا
اے خدا خلوص نیت کے باوجود
کتنا مشکل ہےدلوںپرحکومت کرنا
جس سفرمیںنہ ہومیرا تو ہمسفر
کتنا مشکل ہےایسی مسافت کرنا
جس درخت پر ہوں پیلے پتے آباد
کتنامشکل ہےاس کی خفاظت کرنا
یہ دنیااور اس کی فرسودہ روایات
کتنامشکل ہے ان کوملامت کرنا
کس قدر مصائب جھیلے ہیں میں نے
کتنا مشکل ہےتم سے شکایت کرنا
یہ تعظیم محبت کیسی ہے سحر
کتننا مشکل ہے تم سے وضاخت کرنا sehrish zahid
کتنا مشکل ہےتمہاری چاہت کرنا
ہاتھوں میں تھام کر ہاتھ تمہارا
کتنا مشکل ہے کسی کی امانت کرنا
جب ملوں تو نظر جھکا کرملنا
کتنا مشکل ہےخودسےبغاوت کرنا
آرزوہے تمہیں بھول جاؤں لیکن
کتنا مشکل ہے خود پرعنایت کرنا
تم باوفا ہویہ دنیاکہتی ہے لیکن
کتنا مشکل ہےمجھ سےروایت کرنا
اے خدا خلوص نیت کے باوجود
کتنا مشکل ہےدلوںپرحکومت کرنا
جس سفرمیںنہ ہومیرا تو ہمسفر
کتنا مشکل ہےایسی مسافت کرنا
جس درخت پر ہوں پیلے پتے آباد
کتنامشکل ہےاس کی خفاظت کرنا
یہ دنیااور اس کی فرسودہ روایات
کتنامشکل ہے ان کوملامت کرنا
کس قدر مصائب جھیلے ہیں میں نے
کتنا مشکل ہےتم سے شکایت کرنا
یہ تعظیم محبت کیسی ہے سحر
کتننا مشکل ہے تم سے وضاخت کرنا sehrish zahid
اب تو لوٹ آؤ اک عمرسےہےانتظاراب تو لوٹ آؤ
آنکھیں ہیں اشکباراب تولوٹ آؤ
جلائےہیں تیری راہ میں دیےمیں نے
ہوا کا نہیں اعتبار اب تو لوٹ آؤ
بن نہ جاؤں میں نصیب کسی کا
مجھ کو نہیں اختیار اب تو لوٹ آؤ
اس سال بھی عید تنہا ہی گزری
کب سے ہیں غمگساراب لوٹ آؤ
عہد و قرار تم بھول گئے لیکن
گواہ ہیں درو دیوار اب تولوٹ آؤ
غیروں کےکہنےپرتم روٹھ گئی سحر
مجھے تھا اعتبار اب تو لوٹ آؤ sehrish zahid
آنکھیں ہیں اشکباراب تولوٹ آؤ
جلائےہیں تیری راہ میں دیےمیں نے
ہوا کا نہیں اعتبار اب تو لوٹ آؤ
بن نہ جاؤں میں نصیب کسی کا
مجھ کو نہیں اختیار اب تو لوٹ آؤ
اس سال بھی عید تنہا ہی گزری
کب سے ہیں غمگساراب لوٹ آؤ
عہد و قرار تم بھول گئے لیکن
گواہ ہیں درو دیوار اب تولوٹ آؤ
غیروں کےکہنےپرتم روٹھ گئی سحر
مجھے تھا اعتبار اب تو لوٹ آؤ sehrish zahid
جلتےہوئےخواب میں نے آنکھوں میں جلتے ہوئےخواب دیکھے
روح بے تاب میں اترتےہوئےسیراب دیکھے
نگاہ جھکا کر پس پردہء زندگی
سیاہ مقدرمیں چاہتوں کے شباب دیکھے
حسد و خود غرضی کے مجسموں پر
پر خلوص آنچل کے حجاب دیکھے
نا ممکن تو نہیں بھلانا کسی کو
تنہا جیتےہوئےمیں نے مہتاب دیکھے
جن ہاتھوں کوپھولوں کی بڑی آرزوتھی کبھی
انہی ہاتھوں میں مسلےہوئےگلاب دیکھے
رگ خاموش سےمیری وہ واقف تھا سحر
ان آنکھوں میں میں نےکئی جواب دیکھے sehrish zahid
روح بے تاب میں اترتےہوئےسیراب دیکھے
نگاہ جھکا کر پس پردہء زندگی
سیاہ مقدرمیں چاہتوں کے شباب دیکھے
حسد و خود غرضی کے مجسموں پر
پر خلوص آنچل کے حجاب دیکھے
نا ممکن تو نہیں بھلانا کسی کو
تنہا جیتےہوئےمیں نے مہتاب دیکھے
جن ہاتھوں کوپھولوں کی بڑی آرزوتھی کبھی
انہی ہاتھوں میں مسلےہوئےگلاب دیکھے
رگ خاموش سےمیری وہ واقف تھا سحر
ان آنکھوں میں میں نےکئی جواب دیکھے sehrish zahid
گل وگلزار میں وہ حسن جہاں بھی رہا گل وگلزار میں وہ حسن جہاں بھی رہا
حسن فطرت میں وہ پردہءعیاں بھی رہا
جسے مندروں مزاروں میں ڈونڈتی رہی
میری روح پر وہ سایہء فگاں ہی رہا
میں نے وقت ضرورت پکارا جسے
ہر وقت وہ میرا نگہباں ہی رہا
چشم بےتاب کو کیوں کر بینائی ہے بخشی
اےہستئی بے مثل کیوں مجھ سے نہاں تو رہا
شکوہ زباں سے کبھی گیا ہی نہیں
میرےلب پر کوئی دعا ہی نہیں
اس دل کو احساس گناہ ہی نہیں
اک تو ہے کہ رب جہاں ہی رہا
ہر وقت میرا نگہباں ہی رہا sehrish zahid
حسن فطرت میں وہ پردہءعیاں بھی رہا
جسے مندروں مزاروں میں ڈونڈتی رہی
میری روح پر وہ سایہء فگاں ہی رہا
میں نے وقت ضرورت پکارا جسے
ہر وقت وہ میرا نگہباں ہی رہا
چشم بےتاب کو کیوں کر بینائی ہے بخشی
اےہستئی بے مثل کیوں مجھ سے نہاں تو رہا
شکوہ زباں سے کبھی گیا ہی نہیں
میرےلب پر کوئی دعا ہی نہیں
اس دل کو احساس گناہ ہی نہیں
اک تو ہے کہ رب جہاں ہی رہا
ہر وقت میرا نگہباں ہی رہا sehrish zahid
محبت جس نام سے ہے محبت ہم کو
اس نام سے ہمیں وحشت نہ دینا
جو رولائے ہمیں زندگی بھر
ہم کوایسی چاہت نہ دینا
بعداز شب تاریک صبح کو
یوں ہی کبھی بھی رخصت نہ دینا
جو گرا دے ہمیں ہماری نظروں میں
ہم کو ایسی عزت نہ دینا
وہ خواب جن کی تعبیرنہ ہو
ان خوابوں کو کبھی کثرت نہ دینا
یہ زندگی جوتیرے نام ہے سحر
کوئی اور حق جتلائے مہلت نہ دینا sehrish zahid
اس نام سے ہمیں وحشت نہ دینا
جو رولائے ہمیں زندگی بھر
ہم کوایسی چاہت نہ دینا
بعداز شب تاریک صبح کو
یوں ہی کبھی بھی رخصت نہ دینا
جو گرا دے ہمیں ہماری نظروں میں
ہم کو ایسی عزت نہ دینا
وہ خواب جن کی تعبیرنہ ہو
ان خوابوں کو کبھی کثرت نہ دینا
یہ زندگی جوتیرے نام ہے سحر
کوئی اور حق جتلائے مہلت نہ دینا sehrish zahid
سلسلے وفاؤں کے سلسلے وفاؤں کے ٹوٹ جاتے ہیں اکثر
ساحل پر مسافر ڈوب جاتے ہیں اکثر
عمر بھر ساتھ نبھائیں گے یہ کہ کر
زندگی بھر کے لئے بچھڑ جاتے ہیں اکثر
نازک طنابوں کے یہ خوبصورت بندھن
ہوا کی سرگوشیوں سے ٹوٹ جاتے ہیں اکثر
جو تنہائی میں بھی ہمیں یاد نہیں کرتے
محفل میں وہ ہمیں یاد آتے ہیں اکثر
ان جذبات کی نزاکت کوئی کی سمجھے
بےرخی سےبھی یہ مرجاتے ہیں اکثر
کتنے ہی ماہ جبیں چہرے سحر
زمیں اوڑھ کر سو جاتے ہیں اکثر sehrish zahid
ساحل پر مسافر ڈوب جاتے ہیں اکثر
عمر بھر ساتھ نبھائیں گے یہ کہ کر
زندگی بھر کے لئے بچھڑ جاتے ہیں اکثر
نازک طنابوں کے یہ خوبصورت بندھن
ہوا کی سرگوشیوں سے ٹوٹ جاتے ہیں اکثر
جو تنہائی میں بھی ہمیں یاد نہیں کرتے
محفل میں وہ ہمیں یاد آتے ہیں اکثر
ان جذبات کی نزاکت کوئی کی سمجھے
بےرخی سےبھی یہ مرجاتے ہیں اکثر
کتنے ہی ماہ جبیں چہرے سحر
زمیں اوڑھ کر سو جاتے ہیں اکثر sehrish zahid
اک لفظ محبت کا بھرم یہ شہر اتنا ویراں کیوں ہے
ہرشخص یہاں پریشاں کیوں ہے
یہ ظلمت شب ہےکیوں کر چھائی
بے ایماں یہاں ایماں کیوں ہے
میری تقدیرکا لکھا پڑھنےوالے
تیری قسمت ہی تجھ پر گراں کیوں ہے
یہ زندگی کی جنگ ہارنے والا
اس قدربے سازوساماں کیوں ہے
اندھیروں میں اجالے تلاشنے والا
نور سحر سے اتنا بد گماں کیوں ہے
جو رکھ نہ سکا اک لفظ محبت کا بھرم
وہاں رہ کر بھی وہ یہاں کیوں ہے
یہ خامشی میں ڈوبے ہوئےالفاظ سحر
چشم نم سے تیری عیاں کیوں ہے sehrish zahid
ہرشخص یہاں پریشاں کیوں ہے
یہ ظلمت شب ہےکیوں کر چھائی
بے ایماں یہاں ایماں کیوں ہے
میری تقدیرکا لکھا پڑھنےوالے
تیری قسمت ہی تجھ پر گراں کیوں ہے
یہ زندگی کی جنگ ہارنے والا
اس قدربے سازوساماں کیوں ہے
اندھیروں میں اجالے تلاشنے والا
نور سحر سے اتنا بد گماں کیوں ہے
جو رکھ نہ سکا اک لفظ محبت کا بھرم
وہاں رہ کر بھی وہ یہاں کیوں ہے
یہ خامشی میں ڈوبے ہوئےالفاظ سحر
چشم نم سے تیری عیاں کیوں ہے sehrish zahid
ضبط نفس بکھرا ہے زیست کا عنواں میرا
اپنے ہی ہاتھوں اجڑا گلستاں میرا
سوکھے پتوں میں بھی تواک حسن ہے
اڑتے آتے ہیں سجانے کو آشیاں میرا
خامشی ترآنسوں میں بہے جاتی ہے
توڑانہ ضبط نفس نے ایماں میرا
تازہ ہواہے زخم شکست جب سے
لہو سے تر ہے دل ناداں میرا
جو بدل دے انداز نظر تیرا
ایسا تو نہیں انداز بیاں میرا
بکتیں ہیں محبتیں سر عام سحر
اک محروم ہے خانہ ویراں میرا sehrish zahid
اپنے ہی ہاتھوں اجڑا گلستاں میرا
سوکھے پتوں میں بھی تواک حسن ہے
اڑتے آتے ہیں سجانے کو آشیاں میرا
خامشی ترآنسوں میں بہے جاتی ہے
توڑانہ ضبط نفس نے ایماں میرا
تازہ ہواہے زخم شکست جب سے
لہو سے تر ہے دل ناداں میرا
جو بدل دے انداز نظر تیرا
ایسا تو نہیں انداز بیاں میرا
بکتیں ہیں محبتیں سر عام سحر
اک محروم ہے خانہ ویراں میرا sehrish zahid
فکر حکام کی تعمیر ظلمات کا سایہ سر شام بہت ہے
فکر حکام کی تعمیر کا کام بہت ہے
کیسے ہو گا امن اس ریاست میں
حفاظ قرآں کا قتل عام بہت ہے
کس قدر خود غرض ہیں ہمارے رہبر
ان کے سینوں میں آتش انتقام بہت ہے
کیوں نہ اٹھیں،شعلے اس چمن سے
بارود کا جہاں اہتمام بہت ہے
پتھر سے سخت دل ہیں ان کے
کھیل وحشت کاسر عام بہت ہے
ہر گھر ہے فاقہ کشی کی نظر
خوشحالی ابھی گمنام بہت ہے
تہزیب نو کا یہ نتیجہ ہے سامنے
بے حجابئ خواتین کا نام بہت ہے
سستے داموں جانیں بکتیں ہیں سحر
پیشہء ظلم و ستم یہاں عام بہت ہے sehrish zahid
فکر حکام کی تعمیر کا کام بہت ہے
کیسے ہو گا امن اس ریاست میں
حفاظ قرآں کا قتل عام بہت ہے
کس قدر خود غرض ہیں ہمارے رہبر
ان کے سینوں میں آتش انتقام بہت ہے
کیوں نہ اٹھیں،شعلے اس چمن سے
بارود کا جہاں اہتمام بہت ہے
پتھر سے سخت دل ہیں ان کے
کھیل وحشت کاسر عام بہت ہے
ہر گھر ہے فاقہ کشی کی نظر
خوشحالی ابھی گمنام بہت ہے
تہزیب نو کا یہ نتیجہ ہے سامنے
بے حجابئ خواتین کا نام بہت ہے
سستے داموں جانیں بکتیں ہیں سحر
پیشہء ظلم و ستم یہاں عام بہت ہے sehrish zahid
آتش غم میں جلے‘فنا ہو گے آتش غم میں جلے‘فنا ہو گے
اشک اتنے بہے‘دریا ہو گے
مقتل میں ڈھونڈتا ہوں آثار زندگی
اندھرے میرے مقدر پہ خدا ہو گے
اٹھتی نہیں جبیں آستان یار سے
تھے بادشاہ کبھی اب گدا ہو گے
میرے دل ناداں سے خطا کیا ہوئی
کہ موسم سبھی بہار کے خفا ہو گے
ہر سانس میں تھی جن کی سحرآرزو
وہی لوگ تیری زیست سے قضا ہو گے sehrish zahid
اشک اتنے بہے‘دریا ہو گے
مقتل میں ڈھونڈتا ہوں آثار زندگی
اندھرے میرے مقدر پہ خدا ہو گے
اٹھتی نہیں جبیں آستان یار سے
تھے بادشاہ کبھی اب گدا ہو گے
میرے دل ناداں سے خطا کیا ہوئی
کہ موسم سبھی بہار کے خفا ہو گے
ہر سانس میں تھی جن کی سحرآرزو
وہی لوگ تیری زیست سے قضا ہو گے sehrish zahid