احساس جرم سالگتاہےمحبت کرنا

Poet: sehrish By: sehrish zahid, narang mandi

احساس جرم سالگتاہےمحبت کرنا
کتنا مشکل ہےتمہاری چاہت کرنا

ہاتھوں میں تھام کر ہاتھ تمہارا
کتنا مشکل ہے کسی کی امانت کرنا

جب ملوں تو نظر جھکا کرملنا
کتنا مشکل ہےخودسےبغاوت کرنا

آرزوہے تمہیں بھول جاؤں لیکن
کتنا مشکل ہے خود پرعنایت کرنا

تم باوفا ہویہ دنیاکہتی ہے لیکن
کتنا مشکل ہےمجھ سےروایت کرنا

اے خدا خلوص نیت کے باوجود
کتنا مشکل ہےدلوںپرحکومت کرنا

جس سفرمیںنہ ہومیرا تو ہمسفر
کتنا مشکل ہےایسی مسافت کرنا

جس درخت پر ہوں پیلے پتے آباد
کتنامشکل ہےاس کی خفاظت کرنا

یہ دنیااور اس کی فرسودہ روایات
کتنامشکل ہے ان کوملامت کرنا

کس قدر مصائب جھیلے ہیں میں نے
کتنا مشکل ہےتم سے شکایت کرنا

یہ تعظیم محبت کیسی ہے سحر
کتننا مشکل ہے تم سے وضاخت کرنا

Rate it:
Views: 563
30 Jan, 2012
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL