Poetries by شاہین فصیح ربانی
وصل بخشے گا مجھ کو تو کب تک وصل بخشے گا مجھ کو تو کب تک
دل میں رکھیے یہ آرزو کب تک
دشت کی رونقیں بڑھائے گی
تیرے وحشی کی ہاؤ ہو کب تک
میرے ساقی! ادھر بھی چشمِ کرم
تھامے رکھوں تہی سبو کب تک
کچھ بتاؤ کہ مجھ کو دیکھنا ہے
یہ تمناؤں کا لہو کب تک
جاری رکھیں گے تیرے دانشور
میری غربت پہ گفتگو کب تک
اپنے چہرے پہ بھی نظر کر لے
آئنہ میرے روبرو کب تک
میری مٹی ہے انتشار صفت
یوں سمیٹے گا مجھ کو تو کب تک
گمشدہ آدمی پریشاں ہے
لوگ کرتے ہیں جستجو کب تک
یہ بہاریں فصیح کب تک ہیں
رنگ و نکہت ہیں چار سو کب تک شاہین فصیح ربانی
دل میں رکھیے یہ آرزو کب تک
دشت کی رونقیں بڑھائے گی
تیرے وحشی کی ہاؤ ہو کب تک
میرے ساقی! ادھر بھی چشمِ کرم
تھامے رکھوں تہی سبو کب تک
کچھ بتاؤ کہ مجھ کو دیکھنا ہے
یہ تمناؤں کا لہو کب تک
جاری رکھیں گے تیرے دانشور
میری غربت پہ گفتگو کب تک
اپنے چہرے پہ بھی نظر کر لے
آئنہ میرے روبرو کب تک
میری مٹی ہے انتشار صفت
یوں سمیٹے گا مجھ کو تو کب تک
گمشدہ آدمی پریشاں ہے
لوگ کرتے ہیں جستجو کب تک
یہ بہاریں فصیح کب تک ہیں
رنگ و نکہت ہیں چار سو کب تک شاہین فصیح ربانی
زیست میں ہو کوئی ترتیب ضروری تو نہیں زیست میں ہو کوئی ترتیب ضروری تو نہیں
لوگ ہوں تابعِ تہذیب ضروری تو نہیں
مہربانوں نے بلایا ہے محبت سے مگر
راس آ جائے وہ تقریب ضروری تو نہیں
آپ جھٹلائیں مجھے، آپ کا ہے ظرف مگر
میں کروں آپ کی تکذیب، ضروری تو نہیں
دوست بھی تو مری تعمیر سے خائف ہوں گے
ہوں عدو ہی پسِ تخریب، ضروری تو نہیں
مجھ کو بچنا ہے جدائی کے کٹھن لمحوں سے
گارگر ہو مری ترکیب ضروری تو نہیں
آپ ہو جائیں محبت میں وفا پر مائل
رنگ لائے مری ترغیب ضروری تو نہیں
بہتری لائیے کچھ اپنے رویے میں فصیح
بات بے بات ہو تادیب، ضروری تو نہیں شاہین فصیح ربانی
لوگ ہوں تابعِ تہذیب ضروری تو نہیں
مہربانوں نے بلایا ہے محبت سے مگر
راس آ جائے وہ تقریب ضروری تو نہیں
آپ جھٹلائیں مجھے، آپ کا ہے ظرف مگر
میں کروں آپ کی تکذیب، ضروری تو نہیں
دوست بھی تو مری تعمیر سے خائف ہوں گے
ہوں عدو ہی پسِ تخریب، ضروری تو نہیں
مجھ کو بچنا ہے جدائی کے کٹھن لمحوں سے
گارگر ہو مری ترکیب ضروری تو نہیں
آپ ہو جائیں محبت میں وفا پر مائل
رنگ لائے مری ترغیب ضروری تو نہیں
بہتری لائیے کچھ اپنے رویے میں فصیح
بات بے بات ہو تادیب، ضروری تو نہیں شاہین فصیح ربانی
طرحی غزل ناؤ اپنی ڈبو رہا ہے تو
جاگتا ہے کہ سو رہا ہے تو
آرزو مندِ شادمانی دیکھ!
فصل اداسی کی بو رہا ہے تو
تیرے کندھوں پہ کیا ہے کچھ بتلا
بوجھ یہ کس کا ڈھو رہا ہے تو
جانتا بھی ہے، کچھ نہیں حاصل
پھر بھی پانی بلو رہا ہے تو
مجھ سے پھولوں کی ہے توقع اور
آپ کانٹے چبھو رہا ہے تو
آج دیکھا ہے تجھ کو غصّے میں
’’کتنا دلچسپ ہو رہا ہے تو‘‘
کچھ خبر ہے، فصیحؔ شعروں میں
درد اپنا سمو رہا ہے تو شاہی فصیح ربانی
جاگتا ہے کہ سو رہا ہے تو
آرزو مندِ شادمانی دیکھ!
فصل اداسی کی بو رہا ہے تو
تیرے کندھوں پہ کیا ہے کچھ بتلا
بوجھ یہ کس کا ڈھو رہا ہے تو
جانتا بھی ہے، کچھ نہیں حاصل
پھر بھی پانی بلو رہا ہے تو
مجھ سے پھولوں کی ہے توقع اور
آپ کانٹے چبھو رہا ہے تو
آج دیکھا ہے تجھ کو غصّے میں
’’کتنا دلچسپ ہو رہا ہے تو‘‘
کچھ خبر ہے، فصیحؔ شعروں میں
درد اپنا سمو رہا ہے تو شاہی فصیح ربانی
وہ میرے دھیان سے غافل کبھی ہوئے بھی نہیں وہ میرے دھیان سے غافل کبھی ہوئے بھی نہیں
نظر اٹھا کے مری سمت دیکھتے بھی نہیں
یہ قربتیں بھی ہیں طرفہ، یہ دوریاں بھی عجب
نہیں وہ پاس بھی میرے، کہیں گئے بھی نہیں
کبھی تو حال سناتے ہیں بیتے لمحوں کا
کبھی یہی در و دیوار بولتے بھی نہیں
ابھی سے موسمِ گل رخصتی کی دھن میں ہے
ابھی تو پھول چمن میں نئے کھلے بھی نہیں
اجاڑ محفلوں جیسے اجاڑ ہیں دن بھی
وصال رُت کے وہ رنگین رتجگے بھی نہیں
کسی سے حالِ دلِ زار کس طرح کہیے
کہ اب تو لوگ یہاں درد بانٹتے بھی نہیں
ابھی سے آئنہ دامن جھٹک رہا ہے فصیح
ابھی تو رنگ مرے عکس میں بھرے بھی نہیں شاہین فصیح ربانی
نظر اٹھا کے مری سمت دیکھتے بھی نہیں
یہ قربتیں بھی ہیں طرفہ، یہ دوریاں بھی عجب
نہیں وہ پاس بھی میرے، کہیں گئے بھی نہیں
کبھی تو حال سناتے ہیں بیتے لمحوں کا
کبھی یہی در و دیوار بولتے بھی نہیں
ابھی سے موسمِ گل رخصتی کی دھن میں ہے
ابھی تو پھول چمن میں نئے کھلے بھی نہیں
اجاڑ محفلوں جیسے اجاڑ ہیں دن بھی
وصال رُت کے وہ رنگین رتجگے بھی نہیں
کسی سے حالِ دلِ زار کس طرح کہیے
کہ اب تو لوگ یہاں درد بانٹتے بھی نہیں
ابھی سے آئنہ دامن جھٹک رہا ہے فصیح
ابھی تو رنگ مرے عکس میں بھرے بھی نہیں شاہین فصیح ربانی
راس آئی نہ مجھے انجمن آرائی بھی "پا بہ زنجیر ہیں مجرم بھی، تماشائی بھی"
کام دکھلا ہی گئی حسن کی رعنائی بھی
کاٹتی ہے شبِ ہجراں کی یہ تنہائی بھی
راس آئی نہ مجھے انجمن آرائی بھی
ایسے عالم میں اسے کون کہے پروانہ
آگ سے خوفزدہ، شمع کا شیدائی بھی
دل عجب حال کو پہنچا ہے، اسے کیا کہیے
شاکیِ حسن بھی، چاہت کا تمنائی بھی
صرف اپنوں پہ نہیں عام عنایت اس کی
اس کی محفل میں ہے غیروں کی پذیرائی بھی
سچ تو یہ ہے کہ غریب الوطنی میں یارو
لطف دیتی ہے درختوں کی شناسائی بھی
صرف زنگار سے بنتا نہیں آئینہ فصیح
حیرتیں چاہئیں آئینے کو سچائی بھیچ شاہین فصیح ربانی
کام دکھلا ہی گئی حسن کی رعنائی بھی
کاٹتی ہے شبِ ہجراں کی یہ تنہائی بھی
راس آئی نہ مجھے انجمن آرائی بھی
ایسے عالم میں اسے کون کہے پروانہ
آگ سے خوفزدہ، شمع کا شیدائی بھی
دل عجب حال کو پہنچا ہے، اسے کیا کہیے
شاکیِ حسن بھی، چاہت کا تمنائی بھی
صرف اپنوں پہ نہیں عام عنایت اس کی
اس کی محفل میں ہے غیروں کی پذیرائی بھی
سچ تو یہ ہے کہ غریب الوطنی میں یارو
لطف دیتی ہے درختوں کی شناسائی بھی
صرف زنگار سے بنتا نہیں آئینہ فصیح
حیرتیں چاہئیں آئینے کو سچائی بھیچ شاہین فصیح ربانی