وہ میرے دھیان سے غافل کبھی ہوئے بھی نہیں
Poet: شاہین فصیح ربانی By: شاہین فصیح ربانی, Muscat, Omanوہ میرے دھیان سے غافل کبھی ہوئے بھی نہیں
نظر اٹھا کے مری سمت دیکھتے بھی نہیں
یہ قربتیں بھی ہیں طرفہ، یہ دوریاں بھی عجب
نہیں وہ پاس بھی میرے، کہیں گئے بھی نہیں
کبھی تو حال سناتے ہیں بیتے لمحوں کا
کبھی یہی در و دیوار بولتے بھی نہیں
ابھی سے موسمِ گل رخصتی کی دھن میں ہے
ابھی تو پھول چمن میں نئے کھلے بھی نہیں
اجاڑ محفلوں جیسے اجاڑ ہیں دن بھی
وصال رُت کے وہ رنگین رتجگے بھی نہیں
کسی سے حالِ دلِ زار کس طرح کہیے
کہ اب تو لوگ یہاں درد بانٹتے بھی نہیں
ابھی سے آئنہ دامن جھٹک رہا ہے فصیح
ابھی تو رنگ مرے عکس میں بھرے بھی نہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






