Poetries by Shaheed Ullah Shahid
نظر کرم فتور تھا نہ خرابی تھی میری نیت میں
نکل گیا تھا میں کچہ زیادہ ہی عقیدت میں
مجھ پہ لازم ہے احترام تیری عظمت کی
بھلا میں سمجھوں کیوں کمی تیری فضیلت میں
تیرے قدموں تلے جنت کو میں نے پانا ہے
لگا رہونگا ہمیشہ اسی عزیمت میں
خدارا مجھ سے بدگماں نہ ہو تم اس قدر
ورنہ گزریگی زندگی میری اذیت میں Shaheedullah Shahid
نکل گیا تھا میں کچہ زیادہ ہی عقیدت میں
مجھ پہ لازم ہے احترام تیری عظمت کی
بھلا میں سمجھوں کیوں کمی تیری فضیلت میں
تیرے قدموں تلے جنت کو میں نے پانا ہے
لگا رہونگا ہمیشہ اسی عزیمت میں
خدارا مجھ سے بدگماں نہ ہو تم اس قدر
ورنہ گزریگی زندگی میری اذیت میں Shaheedullah Shahid
دل کھو گیا ہمارا چاہت کی راہوں میں دل کھو گیا ہمارا
یہ تھا کبھی ہمارا اب ہو گیا تمہارا
ظالم حسن پرست تھا نکلا ہے ڈھونڈنے کو
بےتاب سا رہتا تھا تم سے بھی وہ ملنے کو
تم سے اگر ملا وہ اتنا ضرور کرنا
بانہوں میں اپنی لے لو تم دو اسے سہارا
ناداں ہے نا سمجھ ہے تو بھی اسے سمجھانا
وہ تمہیں جانتا ہے تم نے نہیں ہے جانا
اپنانا چاہتا ہے تو بھی اسے اپنانا
دیکھو ایسا لگتا ہے اس نے تمہیں پکارا Shaheedulllah Shahid
یہ تھا کبھی ہمارا اب ہو گیا تمہارا
ظالم حسن پرست تھا نکلا ہے ڈھونڈنے کو
بےتاب سا رہتا تھا تم سے بھی وہ ملنے کو
تم سے اگر ملا وہ اتنا ضرور کرنا
بانہوں میں اپنی لے لو تم دو اسے سہارا
ناداں ہے نا سمجھ ہے تو بھی اسے سمجھانا
وہ تمہیں جانتا ہے تم نے نہیں ہے جانا
اپنانا چاہتا ہے تو بھی اسے اپنانا
دیکھو ایسا لگتا ہے اس نے تمہیں پکارا Shaheedulllah Shahid