دل کھو گیا ہمارا
Poet: Shaheedulllah Shahid By: Shaheedulllah Shahid, CHARSADDA چاہت کی راہوں میں دل کھو گیا ہمارا
یہ تھا کبھی ہمارا اب ہو گیا تمہارا
ظالم حسن پرست تھا نکلا ہے ڈھونڈنے کو
بےتاب سا رہتا تھا تم سے بھی وہ ملنے کو
تم سے اگر ملا وہ اتنا ضرور کرنا
بانہوں میں اپنی لے لو تم دو اسے سہارا
ناداں ہے نا سمجھ ہے تو بھی اسے سمجھانا
وہ تمہیں جانتا ہے تم نے نہیں ہے جانا
اپنانا چاہتا ہے تو بھی اسے اپنانا
دیکھو ایسا لگتا ہے اس نے تمہیں پکارا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






