Poetries by WASIQ QURESHI
سحر کی جانب چلے یا رات کی جانب سحر کی جانب چلے یا رات کی جانب چلے
وقت کا ہر تیر میری ذات کی جانب چلے
زندگی میری کہ جیسے کرب کا کوئی سفر
جب قدم اٹھے فقط آفات کی جانب چلے
راہ میں کتنے مسائل کا پڑاؤ آگیا
سوچ کیسے پیار کے باغات کی جانب چلے
ذہن و دل میں بڑھ رہی ہے بے سکونی کی گھٹن
چین کی باد صبا جذبات کی جانب چلے
بزدلی کی یہ علامت ہے کہ غربت کا اثر
لوگ جینا چھرڑ کے اموات کی جانب چلے
گفتگو کے بہتے پانی میں روانی آگئی
بولنے والے جو تیری ذات کی جانب چلے
دوستوں نے پھر میرے دکھ کا مداوا کر دیا
حوصلے پھر تلخی حالات کی جانب چلے
میرے حصے میں بھی واثق جیت کیسے آ گئی
شور تو اٹھا تھا لیجے مات کی جانب چلے Wasiq
وقت کا ہر تیر میری ذات کی جانب چلے
زندگی میری کہ جیسے کرب کا کوئی سفر
جب قدم اٹھے فقط آفات کی جانب چلے
راہ میں کتنے مسائل کا پڑاؤ آگیا
سوچ کیسے پیار کے باغات کی جانب چلے
ذہن و دل میں بڑھ رہی ہے بے سکونی کی گھٹن
چین کی باد صبا جذبات کی جانب چلے
بزدلی کی یہ علامت ہے کہ غربت کا اثر
لوگ جینا چھرڑ کے اموات کی جانب چلے
گفتگو کے بہتے پانی میں روانی آگئی
بولنے والے جو تیری ذات کی جانب چلے
دوستوں نے پھر میرے دکھ کا مداوا کر دیا
حوصلے پھر تلخی حالات کی جانب چلے
میرے حصے میں بھی واثق جیت کیسے آ گئی
شور تو اٹھا تھا لیجے مات کی جانب چلے Wasiq
تو میرا نہیں یہ حقیقت ہے کہ تو میرا نہیں
دل مگر کہتا ہے کہ ایسا نہیں
بعد مدت تجھ کو دیکھا تو لگا
پیار کا سورج ابھی ڈوبا نہیں
چودھویں کے چاند دھرتی پہ اتر
دیکھ میرے چاند میں دھبہ نہیں
تو کہ اک گہرا سمندر ہے صنم
کیا کروں کہ میں کوئی دریا نہیں
کیا ہمارا درد سمجھے گا بھلا
وہ جو اپنوں سے کبھی بچھڑا نہیں
جب سے تیری یاد میرے ساتھ ہے
مجھ کو لگتا ہے کہ میں تنہا نہیں
اس شہر میں اور بھی برباد ہیں
ایک میرا زخم ہی گہرا نہیں
لاکھ باندھو بند میرے دوستو
وقت کا دریا کبھی ٹھرا نہیں
wasiq qureshi
دل مگر کہتا ہے کہ ایسا نہیں
بعد مدت تجھ کو دیکھا تو لگا
پیار کا سورج ابھی ڈوبا نہیں
چودھویں کے چاند دھرتی پہ اتر
دیکھ میرے چاند میں دھبہ نہیں
تو کہ اک گہرا سمندر ہے صنم
کیا کروں کہ میں کوئی دریا نہیں
کیا ہمارا درد سمجھے گا بھلا
وہ جو اپنوں سے کبھی بچھڑا نہیں
جب سے تیری یاد میرے ساتھ ہے
مجھ کو لگتا ہے کہ میں تنہا نہیں
اس شہر میں اور بھی برباد ہیں
ایک میرا زخم ہی گہرا نہیں
لاکھ باندھو بند میرے دوستو
وقت کا دریا کبھی ٹھرا نہیں
wasiq qureshi
زندگی بھی عجیب رستہ ہے زندگی بھی عجیب رستہ ہے
ہر کوئی چین کو ترستا ہے
کوہساروں سے کیسے ٹکراؤں
حوصلے کا وجود خستہ ہے
جس کی خاطر ہوا ہوں میں رسوا
وہ بھی آواز مجھ پہ کستا ہے
یہ میرا شہر ہے یا مقتل ہے
آب مہنگا ہے لہو سستا ہے
قابل داد شخص ہے وہ بھی
درد سہتا ہے پھر بھی ہنستا ہے
ساعت ہجر کیا کہوں واثق
آنکھ پر نم ہے دل شکستہ ہے wasiq qureshi
ہر کوئی چین کو ترستا ہے
کوہساروں سے کیسے ٹکراؤں
حوصلے کا وجود خستہ ہے
جس کی خاطر ہوا ہوں میں رسوا
وہ بھی آواز مجھ پہ کستا ہے
یہ میرا شہر ہے یا مقتل ہے
آب مہنگا ہے لہو سستا ہے
قابل داد شخص ہے وہ بھی
درد سہتا ہے پھر بھی ہنستا ہے
ساعت ہجر کیا کہوں واثق
آنکھ پر نم ہے دل شکستہ ہے wasiq qureshi
دریا کے کنارے دریا کے کنارے پہ پیاسے کی طرح ہیں
سب عہد تیرے جھوٹے دلاسے کی طرح ہیں
جس دن سے دعاؤں میں تجھے مانگ رہا ہوں
لگتا ہے میرے ہاتھ بھی کاسے کی طرح ہیں
آنکھوں کے پیا لوں سے چھلکتے ہوئے آنسو
روداد محبت کے خلاصے کی طرح ہیں
کیونکر نہ بھلا ان کو میں سنبھالتا واثق
اپنوں کے زخم بھی تو اثاثے کی طرح ہیں WASIQ QURESHI
سب عہد تیرے جھوٹے دلاسے کی طرح ہیں
جس دن سے دعاؤں میں تجھے مانگ رہا ہوں
لگتا ہے میرے ہاتھ بھی کاسے کی طرح ہیں
آنکھوں کے پیا لوں سے چھلکتے ہوئے آنسو
روداد محبت کے خلاصے کی طرح ہیں
کیونکر نہ بھلا ان کو میں سنبھالتا واثق
اپنوں کے زخم بھی تو اثاثے کی طرح ہیں WASIQ QURESHI