تو میرا نہیں
Poet: wasiq qureshi By: wasiq qureshi, karachiیہ حقیقت ہے کہ تو میرا نہیں
دل مگر کہتا ہے کہ ایسا نہیں
بعد مدت تجھ کو دیکھا تو لگا
پیار کا سورج ابھی ڈوبا نہیں
چودھویں کے چاند دھرتی پہ اتر
دیکھ میرے چاند میں دھبہ نہیں
تو کہ اک گہرا سمندر ہے صنم
کیا کروں کہ میں کوئی دریا نہیں
کیا ہمارا درد سمجھے گا بھلا
وہ جو اپنوں سے کبھی بچھڑا نہیں
جب سے تیری یاد میرے ساتھ ہے
مجھ کو لگتا ہے کہ میں تنہا نہیں
اس شہر میں اور بھی برباد ہیں
ایک میرا زخم ہی گہرا نہیں
لاکھ باندھو بند میرے دوستو
وقت کا دریا کبھی ٹھرا نہیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad







