آ تجھے بتاؤں کہ تیرے بن میری عید کیسے گزری بیں
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaآ تجھے بتاوں کہ تیرے بن
میری عید کیسے گزری ہیں
وہ تاروں بھری رات میں
میری تنہائی کیسے گزری ہیں
وہ تنہائی کے پلوں میں
میری آنکھیں کیسے برسی ہیں
آ تجھے بتاوں کہ تیرے بن
میری عید کیسے گزری ہیں
میرے ہاتھوں سے مہندی کی
رنگت کیسے اتری ہیں
بادلوں میں چاند سے
چاندی کیسے بچھڑی ہیں
آ تجھے بتاوں کہ تیرے بن
میری عید کیسے گزری ہیں
وہ خوشی بھرے دن میں میری
ُاداسی کیسے مچلی ہیں
تیری راہوں میں دیپ جلا کر
میرے ہاتھوں میں شمع کیسے بگھلی ہیں
آ تجھے بتاوں کہ تیرے بن
میری عید کیسے گزری ہیں
جو پھول مرجھا گیے تیرے انتظار میں
جاناں ! ُان کے دلوں پے کیا گزری ہیں
چاہ کر بھی تجھے عید نا مل پائی میں
سوچ زرا عید ملے بناء میری عید کیسے گزری ہیں
آ تجھے بتاوں کہ تیرے بن
میری عید کیسے گزری ہیں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






