آئینِ عشق
Poet: Haroon Alfaaz By: Haroon Alfaaz, Lahoreعِشق کا ع آئین بنا آئین تحت سزا ہوئی
سزا ہوئی کہ ایسی ہوئی ساری زندگی تباہ ہوئی
مَگر اب تو ڈر سا لگتا ہے کہیں ایسا نہ ہو جائے
سبھی کو عِشق کرنا ہو
کسی کو پہر سے پہلے، کسی کو شام سے پہلے
کسی کو کام کے دوراں، کسی انجام سے پہلے
ہاں قاضی کو بھی کرنا ہو،کسی احسان سے پہلے
جو عزت دار کرتا ہے، کسی الزام سے پہلے
بیمارے عِشق ہو جاو، کسی بھی مرض سے پہلے
تم نے بھی تو کیا ہو گا، کسی خود غرض سے پہلے
جیسےضمانت مانگی ہو،کسی بھی قرض سے پہلے
کسی رکوع سے پہلے، کسی بھی فرض سے پہلے
سبھی کو عشق کرنا ہو، غمِ حَیات سے پہلے
کسی کو اَجل سے پہلے، کسی الفاظ ؔ سے پہلے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






