آئینہ
Poet: farah ejaz By: farah ejaz, Aaronsburgابتدا کیا ہے
انجام کیا ہے
درد کیا ہے
خوشی کیا ہے
ہوس کیا ہے
قناعت کیا ہے
مجھے بتاؤ
ان سب کی حقیقت کیا ہے
ہر چیز ایک سوالیا نشاں ہو جیسے
یہ وادیاں
یہ اونچے پربت
یہ دھرتی
یہ آسمان
یہ چاند تارے
یہ کہکشاں
یہ میری لٹی پٹی دنیا
کس سمت اشارہ کرتی ہیں
یہ سب نشانیاں
غفلت میں ڈوبی
احساس سے عاری
اپنی ہی خودی ہے سب کو پیاری
نہ دلوں میں ایفاء
نہ گنجائش کوئی
بنتی جارہی ہے دنیا
ایک ماتم کدہ جیسے کوئی
سراب ہے الفت
یا پھر ایک خوش گمانی کوئی
کے ہے ابھی باقی
انسانیت یہیں کہیں روندی پڑی
منافقت کا بازار
بھید بھاؤ بھی خوب
اپنوں کا مول
کوڑیوں کے داموں فروخت
کون مطمعن
کون یہاںخوش
رب سے کون راضی
فقط سب ہیں فریادی
کہنے کو سبھی اس کے بندے
درپردہ مگر ابلیس سے ہے یاری
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






