آج بھی یاد کا مردنگ بجاکر تنہائی کچھ گا رہی ہے
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiآج بھی یاد کا مردنگ بجاکر تنہائی کچھ گا رہی ہے
نہ جانے یہ رات کہاں سجے اب شہنائی کچھ گا رہی ہے
وہ دیواروں سے تنگ آکر ساحل کو سفر لیئے نکلے
پھر کس سرَ سے ہوا نے اتارا یہ ردائی کچھ گا رہی ہے
کوئی اپنے ارمان لیکر جلواگری سے کیوں گذرا
بے رخی کے بھاپ اٹھے یہاں ہرجائی کچھ گا رہی ہے
کثیف دل نشینی کے رابطے سے بڑے دقیق ہوئے ہم
ناسائشتگی سے اٹھکر وہاں دانائی کچھ گا رہی ہے
سارے راستے پتھر پتھر، پاؤں کی انگلیوں کو کیا معلوم
عذاب بھری ہے منزل ہماری خفائی کچھ گا رہی ہے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






