آحسان
Poet: Gohar ali Dilsooz By: Gohar ali Dilsooz, from chitral in Karachiدُنیا کی میر ی اول و اٰخری خواہش
تیرا احسان عُمر بھر نہیں بھول پاؤںگا
ہاں گرچہ تم میرے لئے کُچھ نا کرسکے
مجبوری میں مرا ساتھ نا دے سکے
مگر تم نے میرے لئے اور صرف میری ہی خاطر
سونا اور چاندی کو ٹھکرا دیا
ہاں اُن لوگوں کا سونا اور چاندی
جو مُنہ میں سونے کا چمچ لیکر پیدا ہوئے تھے،
جنکے مال و زر کی کوئی اِنتہا نہیں ہے،،،
جنہوں نے تم سے اپنا سونا اور چاندی بھی وصول کی
پر اک تعجب ہے کہ
یہ اِن کو کہاں سنبھالیں گے
جن کے پہلے سے مال و زر کی کوئی انتہا نہیں ہے
اور گاوں کاگھر ،گھر ان کا محتاج ہے
جاناں
میں مزید حقیقت کی طرف نہیں جانا چاہت
کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے خزانوں کا بھہد کُھل جائے
میں صرف اب کا شُکریہ ادا کر تا ہوں
بس شُکرگُزار ہو ں تیرے احسان ک
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






