آخرکیاسوچ کےتونے اس دیس میں لگایااپنادل
Poet: Dilkash Mariam By: Dilkash Mariam, chiniotیہاں کے لوگ جذبات سے عاری یہاں کے لوگ بےحس
آخر کیا سوچ کے تونے اس دیس میں لگایا اپنا دل
ایسی اندھیر نگری ہے،یہاں دل جلا کربھی روشنی ممکن نہیں
کسی کی خاطر خود کو جلا کر بھی روشنی ممکن نہیں
یہاں چاند کو زمین پرلا کر بھی روشنی ممکن نہیں
اسکی خاطرآنکھوں کو گنوا کر بھی روشنی ممکن نہیں
پھرکس خوشی کے خیال سےتونے بہلایا اپنا دل
آخرکیا سوچ کے تونےاس دیس میں لگایا اپنا دل
جذبات نیلام کرکےبھی،خود کوبرباد کر کے بھی
وہ لوٹ کر نہیں آئےگا اسکا انتظار کرکے بھی
تیرا ہو نہ پائے گا حالات سازگار کرکے بھی
منزل مل نہ پائے گی راہ ہموار کرکے بھی
سب جانتے ہوئے اے دلکش کیوں تونےگنوایااپنادل
آخر کیا سوچ کےتونے اس دیس میں لگایااپنا دل؟؟
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






