آنسو بنے الفاظ اور الفاظ بنی غزل
Poet: Mohammed masood By: Mohammed masood, Meadows Nottinghamدل والوں کا درد یوں بیان ہئوتا ہے
لکھ دو کاغز پر تو کم محسوس ہئوتا ہے
یہ اثر اٴن بے وفا کی بے وفاہئوں کا ہے
کہ ہر لفظ آج درد میں ڈوبا ہئوتا ہے
ہر دل کو کسی نہ کسی کا اتنظارہئوتا ہے
کئ ساری راہئوں سےگزرتے یہ جیوان پار ہئوتا ہے
ہر پل دل سپنے بونتا ہے تہناہئوں کے ساۓ میں
محبت سے ہی جینے کا احساس ہئوتا ہے
پانے سے کھونے کا مزە اور ہئوتا ہے
بند آ نکھوں میں رونے کا مزە اور ہئوتا ہے
آنسو بنے الفاظ اور الفاظ بنی غزل مسعود
اٴس غزل میں تیرا ہئونے کا مزە اور ہئوتا ہے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






