آنسوؤں میں بھی درد ہنستا ہے
Poet: Dr. Masood Mehmood Khan By: Dr. Masood Mehmood Khan, Perth, Australiaخوں كے خلیوں میں درد بستا ہے
آنسوؤں میں بھی درد ہنستا ہے
قلب پیما كی تو جانا ہے
ہر رگِ دل میں درد بستا ہے
ہر رگِ جاں سكڑتی جاتی ہے
درد جب اپنا جال كستا ہے
كیا فشارِ لہو كو سمجھے ہیں
درد بس رفعتوں پہ اٹھتا ہے
جاں كی قیمت پہ ہم نے پایا ہے
كون كہتا ہے درد سستا ہے
ہر كسی پر كہاں یہ زیبا ہے
دردمندوں پہ درد جچتا ہے
شہر ِدل میں كہاں بسائیں انہیں
چپّے چپّے پہ درد بستا ہے
وقتِ تخلیق مجھ سے فرمایا
تیرے چہرے پہ درد جچتا ہے
حكمتِ كار ہا ئے عالم میں
درد ہی ہر طرف جھلكتا ہے
گلشنِ جاں كی ہرروش میں مسعود
درد پھولوں كے ساتھ سجتا ہے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






