آنکھوں سے آجوصل کا ہر خواب توڑ دیا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلا سودا مری وفاؤں کا مہنگا پڑا مجھے
سائے کے ساتھ ساتھ ہی چلنا پڑا مجھے
بڑھتی رہیں جو پیار کی منزل میں دوریاں
اپنا وجود خاک ہی کرنا پڑا مجھے
ملنا میں چاہتی تھی کسی اور سے مگر
اک بے وفا کے ساتھ ہی ملنا پڑا مجھے
زندہ تھے یہاں چار سو اس زندگی کے رنگ
مردہ ہوئے تو ساتھ ہی مرنا پڑا مجھے
آنکھوں سے آج وصل کا ہر خواب توڑ کر
قرضہ تری جدائی کا بھرنا پڑا مجھے
کچھ کہہ رہی تھی رات کوبجھتے دیئے کی لو
وشمہ یقین بات کا کرنا پڑا مجھے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






