آیا تھا زندگی میں وہ آ کر چلا گیا
Poet: M Masood By: M Masood, Nottinghamآیا تھا زندگی میں وہ آ کر چلا گیا
وہ شخص میرا آشیاں گرا کر چلا گیا
کہتا تھا خوشیاں بیچ کر خریدوں گا تیرے غم
عمر بھر کا غم میری زندگی کو لگا کر چلا گیا
کبھی جو لکھتا تھا ہواوُں میں وہ میرا نام
اب اپنے دل سے میرا نقش مٹا کر چلا گیا
دنیا کی رونقوں میں کبھی جو میرا ہمسفر رہا
صحراوں کے راستے پر مجھے لگا کر چلا گیا
لاتا تھا چمن سے چُن کے میرے لیے وہ پھول
اب کانٹے میرے راستے میں بچھا کر چلا گیا
وہ تو بیچ کر میری ہی وفاوُں کو سر عام
غیروں میں اپنی قیمت بڑھا کر چلا گیا
اِس کے گھر میں رہیں گے چراغوں کے جگر کا خون
میری ہی زندگی کے چراغ جو بجھا کر چلا گیا
سوچا تھا سنائیں گے اِسے داستانِ دل مسعود
وہ میری ہی زندگی کا افسانہ سنا کر چلا گیا
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






