اب تو اُسے میری ہر بات بُری لگتی ہے
Poet: Ibn.e.Raza By: Ibn.e.Raza, Islamabadاب تو اُسے میری ہر بات بُری لگتی ہے
اب کہ میں نے بھی یہ سوچ لیا ہے
اِس بار یہ ساون اندر ہی برسے گا
خزاں زدہ ہر خشک پتہ
اِک اِک بُوند کو ترسے گا
اُسے کیا معلوم
کب اُس کے نازک پاؤں تلے
کوئی آرزو کُچلی گئی
اُس کے نرم ہاتھوں میں
کوئی پتی مسلی گئی
بیچ گُلشن کے کوئی کانٹا اگر اُسے چُھبا ہوتا
تو آج اتنا تو پھر پتہ ہوتا
درد کیا ہوتا ہے چُھبن کیا ہوتی ہے
کوئی جب دل جلائے تو جلن کیا ہوتی ہے
کیوں تاروں بھری حسیں رات بُری لگتی ہے
اب تو اُسے میری ہر بات بُری لگتی ہے
کسی کو تنہا چھوڑ دینے سے
کوئی معصوم سا دل توڑ دینے سے
کبھی راحت نہیں ملتی
کہیں چاہت نہیں ملتی
گر داو پہ زندگی ٹھہرے
تو پھر مات بُری لگتی ہے
اب تو اُسے میری ہر بات بُری لگتی ہے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی







