اب مجھے یاد نہ کرنا
Poet: Majassaf imran By: Majassaf imran, Gujratکر رہا ہوں تم سے فریاد اب مجھے یاد نہیں کرنا
کر رہا ہوں اپنی زندگی برباد اب مجھے یاد نہیں کرنا
بھول جاؤ میرا پیار میری باتیں سبھی تم
دُور بہت دُور تم سے جارہا ہوں میرے یار مجھے یاد نہ کرنا
تو سمجھا ہی نہیں تو جانا ہی نہیں مخض وقت گزارہ تو نے
بھول جاؤ میری غزلیں میرے اشعار اب مجھے یاد نہ کرنا
مٰیں ٹوٹ گیاہوں میں بِکھرگیاہو ںتم چاہوبھی تو نہ سمیٹ سکوگی
تم قاتل ہو تو نے قتل کیا ہے میرا نفیس پیار اب مجھے یاد نہ کرنا
اب موت سے ناتا جوڑ رہا ہوں قلم بھی اپنا توڑ رہا ہوں
میرے بعد نہ لکھے گا غزلیں نہ لکھے گا اشعار اب مجھے یاد نہ کرنا
رکھوں گا کیس خُدا کی عدالت میں جہاں نا انصافی کی بات ہی نہیں
تم بھی آوگے محشر میں کرو گا تیرا نفیس نتظار اب مجھے یاد نہ کرنا
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






