اب نہیں کوئی مدّعا جاناں
Poet: جنید عطاری By: جنید عطاری, چکوالاب نہیں کوئی مدّعا جاناں
تُو بھی جا میں بھی اب چلا جاناں
کیا سناؤں میں سرگشتِ دل
بِن تمہارے نہیں لگا جاناں
دل گلی کے اُس آشیانے کو
کس نے برباد کر دیا جاناں
ہجر اور وصل کے جو شب دن تھے
وہ گئے بھول راستہ جاناں
جو لگا تھا تمہاری فرقت کا
زخمِ وہ کب کا بھر چکا جاناں
تیرے آنے کی آس میں یہ دن
بن تمہارے بسر گیا جاناں
آ پڑا ہے عذاب فرصت کا
ماتمِ ہجر کر لیا جاناں
جو نشہ تھا تری محبت کا
وہ نشہ بھی نہ اب رہا جاناں
شہرِ ارمان کر لیا آباد
صحنِ دل ہو گیا تبہ جاناں
دربدر ٹھوکریں جو کھاتا رہا
شخص وہ اب سنور گیا جاناں
آپ میں تم بھی نہ رہی اپنی
آپ میں میں بھی نہ رہا جاناں
یعنی اب کیا بچا ہے کہنے کو
یعنی اب کچھ بھی نہ بچا جاناں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






