اثر رکھنا
Poet: رشید حسرت By: رشِید حسرتؔ, Quettayنہ آیا کچھ، فقط آیا بگاڑ کر رکھنا
کمی ہے خود میں تو الزام اور پر رکھنا
پیام اس کے سوا اور کچھ نہیں میرا
حوالہ شعر کا اے دوست معتبر رکھنا
مثال تم کو عزازیل کی بہت ہو گی
خیال دل میں بڑائی کا ہو اگر رکھنا
گناہ اپنی سرشتوں میں ہے سو ہوتا ہے
ذرا سا دل میں مگر تم خدا کا ڈر رکھنا
بھلائی جاتی نہیں ہیں وہ چاندنی راتیں
تمہارے شانوں پہ بے چین ہو کے سر رکھنا
ہوئی ہے نصف صدی شعر ماپتے ہم کو
نہ آ سکا ہے مگر بات میں اثر رکھنا
مجھے بھی یاد دعاؤں کے بیچ میں حسرتؔ
اگرچہ کام ہے مشکل بہت، مگر رکھنا
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






