ادھر دیکھے کبھی ادھر دیکھے
Poet: ZIA ULLAH TAHIR By: ZIA ULLAH TAHIR, ISLAMABAD.ادھر دیکھے کبھی ادھر دیکھے
جلوے تیرے نگر نگر دیکھے
جو دیکھ لے ، اک بار تجھے
نہ پھر وہ بزم دہر دیکھے
چلا جب ، خوابوں کا سلسلہ
خواب تیرے شام و سحر دیکھے
بھول گئے تمام حادثات غم
جب سے رنگ ستم گر دیکھے
ٹھکرا دیا ، جسے تم نے
کھاتے ٹھوکریں وہ در بدر دیکھے
غیر ممکن ہے ، زمانے میں کوئی
تجھ سا کہیں ، دل بر دیکھے
گزر جائے ، جہاں سے تو
قدم قدم برپا حشر دیکھے
نسبت سے تیری خاک پاء کی
بنتے لعل و یمن ہیں پتھر دیکھے
جہاں نہ ذکر یار ہوتا ہو
بے نور ایسے محراب و منبر دیکھے
تیرے بغیر ہے ، کیسی گزر اوقات
آئے فرہاد اور میرا صبر دیکھے
زندہ ہیں شہر ستم گر میں
حوصلہ کوئی ، ہمارا جگر دیکھے
بے نیازی سے طاہر اس کی
اجڑتے شہروں کے شہر دیکھے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






