اس سے ہمیں بچھڑنا گوارا نہیں تھا
Poet: Sohail Abbas By: Muhammad Sohail Abbas, Kot Sultan(Layyah)اُس سے ہمیں بچھڑنا گوارا نہیں تھا
وہ شخص جو کبھی بھی ہمارا نہیں تھا
کیسے اُس کے پاس ہم چلے جاتے
جب اُس نے پلٹ کر پُکارا نہیں تھا
کس چیز سے تیری یوں ہم مثال دیتے
ایسی کوئی تشبیہہ و اِستعا رہ نہیں تھا
اِس بار ہم ہیں ڈوبے اِک ایسے سمندر میں
جس کا کوئی بھی کنارا نہیں تھا
مکرر تو سب مجھے کہتے رہے مگر
ان میں کوئی تیرا ‘‘دوبارہ‘‘ نہیں تھا
لوٹا دِیے ہیں میں نے اُس کے سارے تحفے
بھولنے کے لیے اُسے اور چارہ نہیں تھا
کچھ لمحہ تو ہم اُس کو تکتے رہے مگر
آنکھ جھپکی تو وہ منظر دوبارہ نہیں تھا
اِس بار اپنا بچنا کوئی معجزہ نہیں انجم
اِس بار اپنا کوئی سہارا نہیں تھا
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






