اسے بھول جا
Poet: M.Z By: M.Z, karachiکہاں آکر رکے تھے راستے،کہاں موڑ تھا اسے بھول جا
وہ جو مل گیا اسے یاد رکھ، جو نہ ملا اسے بھول جا
وہ تیرے نصیب کی بارش کسی اور چھت پہ برس گئی
دل بے خبر میری بات سن،اسے بھول جا اسے بھول جا
میں تو غم تھا تیرے دھیان میں،تیری آس میں تیرے گمان میں
صبا کہہ گئی میرے کان میں، میرے پاس آ اسے بھول جا
کسی آنکھ میں نہیں اشک غم، تیرے باد نہیں کچھ بھی کم
تجھے زندگی نے بھلا دیا، تو بھی مسکرا اسے بھول جا
نہ وہ آنکھ ہی تیری آنکھ تھی، نا وہ خواب ہے تیرا خواب تھا
دل منتظر تو یہ کس لیے، تیرا جاگنا اسے بھو ل جا
یہ جو دن رات کا ہے خیال سا،اسے دیکھ،اس پے یقین نہ کر
نہیں عکس کوئی بھی مستقل سر آئینہ اسے بھول جا
جو بساط جان ہے الٹ گیا، وہ جو راستے سے ہی پلٹ گیا
اسے روکنے سے حصول کیا، اسے مت بلا، اسے بھول جا
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






