اسے خدا کے لیے چھوڑ کر
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaاسے خدا کے لیے چھوڑ کر
ہم نے خود کو خدا پے چھوڑ دیا
میرے دل کے ہزار ٹکرے ہوئے تیری خوشی کی خاطر
میں نے اپنے ارمانوں کا گلہ گھونٹ دیا
کس کس ظلم کس طرح بیان ہو گا لکی
تھک ہار کے ہم نے زمانے سے ہی ناطہ توڑ دیا
پیاس بھجتی آنکھوں کی تو چین کہیں ملتا
ُتوں نے آدھی راہ میں لا کر پانی کا پیالہ توڑ دیا
ہر کوئی مجھ سے تعلق توڑنے پے با زد تھا
ُتوں نے کیا ساتھ چھوڑا دل نے ہی رشتہ دھڑکنا چھوڑ دیا
محسوس کرو میری خامشی میں بھی کتنی وحشتیں ہیں
نجانے کیوں تم نے تلخیوں کی عنایت کر کے ہم نے منہ موڑ دیا
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






