اشک آنکھوں میں رہے بن کے کمائی اپنی
Poet: رشید حسرت By: رشید حسرت, کوئٹہاشک آنکھوں میں رہے بن کے کمائی اپنی
کوئی اجرت کسی محنت کی نہ پائی اپنی
جس نے الزام رکھا ہم پہ مکر جانے کا
پیش کرنی ہی نہیں اس کو صفائی اپنی
غم غلط کرنے کا کیا ہم نے لیا ہے ٹھیکہ
جس کو دیکھو وہی دیتا ہے دہائی اپنی
چاہتے تھے کہ اسے گھاس نہیں ڈالیں گے
داستاں اس نے ہمیں پھر بھی سنائی اپنی
بچے بھوکے ہیں مرے، تین دنوں سے لیکن
باسی روٹی بھی چھپا لیتا ہے بھائی اپنی
آنکھیں کم ظرف ہیں سب راز اگل دیتی ہیں
صورتِ حال بہت ہم نے چھپائی اپنی
اہلِ دنیا نے ہمیں رد جو کیا ہے حسرتؔ
دل نے اک اور طرح بزم سجائی اپنی
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






