اقبال تیرے شہر میں تو انسان ہی حیوان نکلے
Poet: Muhammad Anwer Annu By: Muhammad Anwer, karachiحضرت انسان نے یہ کیسا تماشہ کیا اور کیا کر ڈالا
اقبال تیرے شہر کو دو بیٹوں کے لہو سے رنگ ڈالا
ظالموں نے کچھ ایسا کیا منیب اور مغیث کے ساتھ
حیوانوں کی درندگی کو بھی پیچھے چھوڑ ڈالا
بہت روئے چلائے اور گڑگڑائے تھے وہ
اللہ کا قرآن کا واسطہ دے رہے تھے وہ
کسی ایک کو بھی ان پر ترس نہ آیا
گناہ جو نہ کیا اس کی سزا پا رہے تھے وہ
لگتا ہے انسانوں کے روپ میں سب درندے تھے وہ
اس ہجوم انسان میں دراصل سب بھیڑیئے تھے وہ
شہادت ملی ان کو سب کے سامنے ایسی مثالی
اور سب کے سامنے اتنے سارے ان کے قاتل بن گئے وہ
شریفوں کی حکمرانی کی بات نہ کرنا مجھ سے اب
ایسے بے حس انسانوں کا ذکر نہ کرنا مجھ سے اب
میرے شہر کے لوگ تو جان بچاتے ہوئے جان دیتے ہیں
اس شہر کو تم ظالموں سے جوڑنا نہ اب
قائد کا شہر تو بدنام ہوہی گیا انو
اقبال تیرے شہر میں تو انسان ہی حیوان نکلے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






