الفت کو بجھا دیتے ہیں الفاظ کے نشتر
Poet: توقیر اعجاز دیپک By: توقیر اعجاز دیپک, جھنگالفت کو بجھا دیتے ہیں الفاظ کے نشتر
نفرت کو ہوا دیتے ہیں الفاظ کے نشتر
جنت کی طرح ہوتا ہے گھر ویسے تو لیکن
دوزخ سا بنا دیتے ہیں الفاظ کے نشتر
جذبات کے ناتے ہوں یا پھر خون کے رشتے
قربت کو مٹا دیتے ہیں الفاظ کے نشتر
انسان تو انسان ہیں مرجھائیں نہ کیسے
پیڑوں کو سکھا دیتے ہیں الفاظ کے نشتر
وہ زخم نہیں لگتے کبھی تیغ و سناں سے
جو زخم لگا دیتے ہیں الفاظ کے نشتر
ہتھیاروں سے وہ حشر بپا ہوتا نہیں ہے
جو حشر مچا دیتے ہیں الفاظ کے نشتر
تہذیب و ثقافت میں تفاوت نہ ہو چاہے
سیمائیں بنا دیتے ہیں الفاظ کے نشتر
ہو جاتی ہیں پھر راکھ کئی نسلیں دہک کر
جب آگ لگا دیتے ہیں الفاظ کے نشتر
بستے ہوئے شہروں کو میں نے دیکھا ہے دیپک
شمشان بنا دیتے ہیں الفاظ کے نشتر
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






